ثانیہ مرزا شعیب ملک سے شادی کی وجہ بتاتی ہیں

پاکستانی سپورٹس اینکر زینب عباس کو یوٹیوب پر آن لائن انٹرویو دیتے ہوئے شادی کی وجہ بتانے کے ساتھ ساتھ ثانیہ مرزا نے شعیب ملک کو دنیا کا سب سے ان رومانٹک انسان بھی قرار دیا۔

(اے ایف پی)

ٹینس سٹار ثانیہ مرزا اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کی شادی دس برس قبل اپریل میں ہوئی تھی۔

اب  تک ان سے متعلق خبریں مسلسل پاکستانی میڈیا پر شائع ہوتی رہتی ہیں۔

لوگ ہمیشہ ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور ان کے کامیاب جوڑے کو بہت پسند کرتے ہیں۔

2018 میں ان کے یہاں پہلے بچے کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔

امسال اپریل میں دونوں نے شادی کی دسویں سالگرہ بھی منائی تاہم اس بار وہ کرونا وائرس کی وجہ سے ایک ساتھ سالگرہ نہیں منا پائے۔

شادی کی ایک دہائی مکمل ہونے کے بعد ثانیہ مرزا نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح پاکستانی کرکٹر سے ان کی دوستی ہوئی جو بعد میں شادی پہ منتج  رہی۔

پاکستانی سپورٹس اینکر زینب عباس کو یوٹیوب پر آن لائن انٹرویو دیتے ہوئے ثانیہ مرزا نے شعیب ملک کو دنیا کا سب سے ان رومانٹک انسان بھی قرار دیا۔

ثانیہ مرزا نے یہ بھی بتایا کہ انہیں اخبارات پڑھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ پیج تھری دیکھ لیا اور بس۔ ان کے مطابق اس میں منفی باتیں ہوتی ہیں۔

دوران انٹرویو انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ بہت ضدی واقع ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مجھے کوئی چیلنج کرے کہ تم یہ نہیں کر سکتیں تو میں وہ کر کے دکھاتی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کھیل میں کامیابی کے چانس بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر آپ ڈاکٹری پڑھ رہے ہوں تو یقینا کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بھارتی ٹینس سٹار نے بتایا کہ شعیب ملک سچے دل کے انسان ہیں اور انہوں نے ثانیہ سے دوستی کے کچھ عرصے بعد ہی کہا کہ وہ ان سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

شعیب ملک نے اس معاملے میں ان کی رضامندی کے بعد اپنے گھر والوں سے بھی بات کرنے کا بتایا۔

ثانیہ مرزا نے شعیب ملک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان سے کوئی بات نہیں چھپائی اور انہیں صاف صاف کہا کہ اگر وہ ان سے شادی کرنا چاہتی ہیں تو وہ اس حوالے سے ان کے اہل خانہ سے بھی بات کریں گے۔

ثانیہ مرزا نے مزید بتایا کہ شعیب ملک کی سچائی سے ہی ان کا پیار اور دوستی ایک مستقل رشتے میں بدل گئے اور انہوں نے شادی کرلی۔

زینب عباس کے ساتھ انٹرویو میں ایبا قریشی بھی موجود تھیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ