’بچی پڑھنے کے لیے شہر گئی تھی مگر لاش واپس آئی‘

راولپنڈی میں تشدد سے ہلاک ہونے والی آٹھ سالہ بچی تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں گاؤں سے شہر آئی تھی۔ جہاں وہ ایک خاندان کے پاس بغیر تنخواہ کے گھریلو کام کاج کرتی تھی۔

روات تھانے کے سب انسپیکٹر محمد مختار کے مطابق بچی کے پیٹ میں شدید زخم تھے (پکسابے)

راولپنڈی میں تشدد سے ہلاک ہونے والی آٹھ سالہ بچی تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں گاؤں سے شہر آئی تھی۔ جہاں وہ ایک خاندان کے پاس بغیر تنخواہ کے گھریلو کام کاج کرتی تھی۔

کمسن بچی کو تین روز قبل شدید زخمی حالت میں بحریہ ٹاؤن کے فیز ایٹ میں بیگم اختر میموریل ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں اگلی صبح وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی۔

مقامی عدالت نے آٹھ سالہ بچی کے قتل کے الزام میں گرفتار حسن صدیقی اور ان کی اہلیہ کو چار روز کے لیے راولپنڈی پولیس کے حوالہ کر دیا ہے۔ بچی انہی کے گھر میں ملازمہ تھی۔

ہلاک ہونے والی بچی کے دادا فضل حسین شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بچی کو پڑھائی کا بہت شوق تھا اور اسی وجہ سے وہ شہر آئی تھی۔

اس کے ماموں نے چار پانچ مہینے پہلے کہا تھا کہ راولپندی میں اس کے جاننے والوں کو گھر کے کام کاج کے لیے ایک بچی کی ضرورت ہے اور وہ بچی کو تعلیم بھی دلوائیں گے۔

مظفر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے فضل حسین نے کہا کہ مفت تعلیم کا سن کر ان کی بچی نے راولپنڈی جانے کی ضد کی تھی اور اس کی ماں بھی اسی وجہ سے راضی ہوئی کہ بچی پڑھ لکھ جائے گی۔

’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ تعلیم حاصل کرنے کی خاطر شہر جانے والی ہماری معصوم بچی کی لاش واپس آئے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا ’ہم نے سوچا تھا بچی گھر کا معمولی کام کاج کرے گی اور مفت تعلیم بھی حاصل کر سکے گی لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔‘

فضل حسین کی پوتی بحریہ ٹاؤن میں میاں بیوی اور نومولود بچے پر مشتمل ایک خاندان کے پاس کام کرتی تھی۔

روات تھانے کے سب انسپیکٹر محمد مختار کے مطابق بچی کے پیٹ میں شدید زخم تھے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گھر کے مرد نے بچی کو پیٹ میں لات ماری تھی جس کی وجہ سے اسے پیٹ کے نچلے حصے میں زخم آئے اور نازک حصوں سے خون بھی جاری ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بچی کی چھوٹی سی غلطی پر وہ بالکل پاگل ہو گیا اور بچی کو بری طرح پیٹ ڈالا۔‘

محمد مختار نے بتایا کہ 31 مئی کی رات بحریہ ٹاؤن میں بیگم اختر میموریل ہسپتال سے فون پر اطلاع ملی کہ بچی نیم بیہوشی کی حالت میں ہسپتال لائی گئی ہے اور جب پولیس اہلکار ہسپتال پہنچے تو بچی انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر تھی۔

پولیس کے مطابق ملزم حسن صدیقی ہی بچی کو ہسپتال لے کر آئے تھے اور پھر وہاں اسے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ ’ملزم کے مطابق بچی نے صفائی کرتے ہوئے اُن کے گھر میں موجود دو قیمتی طوطے غلطی سے اڑا دیے۔ جس کے بعد دونوں میاں بیوی نے طیش میں آکر بچی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

ابتدائی تفتیش کے مطابق مذکورہ بچی کے جسم پر جگہ جگہ تشدد کے نشان تھے۔ بچی کے گال، پسلیوں، رانوں اور ٹخنوں پر زخم اور رگڑ لگنے کے نشان موجود تھے۔

سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ بچی کے رشتہ دار کو کہا گیا تھ کہ ’اس کو پڑھا لکھا کر بڑا کریں گے جبکہ صورتحال اس کے بالکل برعکس تھی۔‘

پولیس کے مطابق ’یہ بات بھی ان کو غلط بتائی گئی کہ بچی کو ماہانہ تین ہزار دیے جاتے تھے جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان