پروفیسر خالد حمید کا قتل: کیا ایسا شخص توہینِ مذہب کر سکتا ہے؟

پروفیسر خالد حمید کے قتل پر بہاولپور کے مذہبی رسالے ’تفہیم الاسلام‘ کے مدیر کی خصوصی تحریر۔

تصاویر: سوشل میڈیا

مرحوم پروفیسر خالد حمید میرے بہت ہی اچھے دوست تھے، بلکہ استاد ہی سمجھ لیں کیوں کہ میں نے اپنی تعلیمی زندگی میں ان سے کئی بار رہنمائی لی۔ آخری ملاقات پچھلے سال مارچ 2018 یا اپریل میں ہمایوں چشتی کے ساتھ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ہوئی تھی۔ وہ میرے میگزین مجلہ ’تفہیم الاسلام‘کے قاری تھے۔۔ انگریزی کے معروف پروفیسر ریاض الرحمان صاحب ساغر اور معروف ادیب و دانشور پروفیسر ڈاکٹر اصغر یزدانی صاحب (لاہور) کے گہرے دوست تھے۔

میرا ان سے دس بارہ برس کا تعلق تھا۔ ان سے وابستہ فکری یادوں کی کہانی خوشیوں سے لبریز ایک بارات نما ہے۔ ابھی حواس ساتھ نہیں دے رہے۔ 

 جہاں تک میں ان کو جانتا ہوں وہ عقیدہ توحید وسنت کے حوالے سے راسخ الفکر تھے۔ لیکن جس بنیاد پر ان کا قتل کیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کی گئی ہے، ورنہ ایسی کوئی بات ان میں نہیں تھی کہ انہوں نے یونیورسٹی کے سالانہ پروگرام میں واہی تباہی کا سامان تیار کر رکھا تھا۔ یا آج ان پر لبرل ازم کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ان ساری باتوں کا کون گواہ ہے؟

یہی جنونی قاتل، یا اسی قماش کے چند اور ناعاقبت اندیش لوگ؟ بس!

ہمارا اسلامی قانون تحقیقات کے معاملے میں اور بہی بہت کچھ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

پروفیسر خالد حمید کا پسندیدہ موضوع ہی توحید تھا۔ میں نے ان کو اپنی ایک کتاب ’موضوعات القرآن فی توحید الرحمان‘ بطور تحفہ دی تو انہوں نے مجھ سے قیمتاً دس کتب طلب کیں اور اپنے احباب میں تقسیم کیں۔

مجھے بتائیے جو شخص لبرل ازم کا داعی ہو وہ کبھی توحید وسنت پر مشتمل کتب کا شائق ہو گا؟

کل جب ان پر حملہ کیا گیا تو زخمی حالت میں انہیں فوراً وکٹوریہ ہسپتال بہاول پور کی ایمرجینسی میں لایا گیا۔ میں اتفاق سے اپنی بیٹی فاطمہ کی دوائی لینے کے لیے پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ کے انتظار میں ان کے کلینک ’دارالشفا‘کے ادھر ادھر گھوم رہا تھا تو وہاں ایمرجینسی والی طرف لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ پتہ چلا کہ کسی پروفیسر خالد کا قتل ہو گیا ہے۔ میں اپنی بیٹی کی پریشانی میں تھا۔ ذہن ذرا بھر اپنے ممدوح گرامی کی طرف نہیں گیا۔ میں مجمعے کے اندر چلا گیا۔ لوگوں سے معلومات لیں۔ مقتول کا چہرہ دیکھنے سے قصداً احتراز کیا کہ خونی مناظر دیکھنے سے ذہنی کیفیت یکسر بدل جاتی ہے۔ لیکن رات ۔ئے فیس بک پر چند احباب نے پروفیسر کی تصاویر اور قتل کی خبر بھیجی تو یک دم سکتے میں آگیا کہ یہی تو وہ شخصیت ہے جن سے میری گذشتہ چند سالوں سے یاد اللہ ہے۔

قاتل نوجوان ایک معروف مذہبی متشدد عالم کا پیروکار بتایا گیا ہے۔

میں پنجاب حکومت بالخصوص آئی جی پنجاب، کمشنر بہاولپور، ڈی پی او بہاولپور، ڈی سی او بہاولپور سے اپیل کرتا ہوں کہ انگریزی مضمون کے اس عظیم استاد، صاحب مطالعہ شخصیت، ادب نواز و دل نواز فرد فرید جناب پروفیسر خالد حمید صاحب کے قتل کی مذہبی پیشواٶں کے رعب سے نکل کر آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ مرنے والا تو اب واپس کبھی نہیں آئے گا، لیکن جنونی قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جانا چاہیے۔

اہل دانش کا قتل جہالت کی نشانی ہے۔جس دور میں اہل علم اور فکری شخصیات محفوظ نہیں، اس دور کے سلطان سے یقیناً کوئی بھول ہوئی ہے۔مذہبی اور اعتقادی مسائل میں دوسرے کی جان لینے کے عمل کو شریعت میں زیادتی اور جرم کہا گیا ہے۔ جبر اور ظلم کی چیرہ دستیوں کو پیغمبر امن نے حرام قرار دیا ہے۔ مذہب و لسانیت کی آڑ میں کشت و خون کا یہ سلسلہ اب رک جانا چاہیے۔ معاشرے میں فساد پھیلانے والے دین اور قانون کے مجرم ہیں۔

پروفیسر مرحوم کے بارے میری یہ تحریر پڑھ کر ممکن ہے کچھ خاص ذہن کے مذہبی لوگ سیخ پا ہوں۔ میں ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا دین اسلام کی روشن تعلیمات کو اپنی ذاتی انا کی بھینٹ مت چڑھائیں۔ بغیر دلیل و ثبوت کے کسی انسان کا ناجائز قتل اور پھر قتل کے بعد ثبوت تیار کرنا ظلم اور ناانصافی نہیں تو کیا ہے؟

مرحوم پروفیسر صاحب کے متعلق کیس کو مضبوط کرنے کے لیے جو باتیں اب بتائی جا رہی ہیں۔ان کا گواہ کون ہے؟ کس کے سامنے انہوں نے شریعت اسلامیہ کا مذاق اڑایا تھا؟ کب اور کس کے سامنے انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی تھی؟

میں نے 2011 میں ایک مضمون لکھا تھا، ’قانون ناموس رسالت اور تہذیبی تصادم۔‘ پھر یہ مجلہ ’تفہیم الاسلام‘ کے خصوصی شمارے کی صورت میں بھی شائع ہوا۔

پروفیسر صاحب نے جب یہ مضمون پڑھا تو بہت تعریف کی۔ کیا ایسا شخص توہین کر سکتا ہے جو رسول پاک کی ذات گرامی سے محبت کو ذریعۂ نجات سمجھتا ہو اور کالج کی تقریبات میں مدحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی اہتمام کرتا ہو؟


نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے اور ادارے کے نظریات کی لازمی طور پر ترجمانی نہیں کرتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ