'ڈگری تب ملتی ہے جب ضرورت نہیں ہوتی': PHD طلبہ

طلبہ کے مطابق ڈگری حاصل کرنے کےلیےمقالے جمع کرانے کے بعد آرٹیکل شائع کروانے میں ریسرچ جنرلزکی بے جا تاخیر سے ان کی ڈگریاں رکی ہوئی ہیں۔

(پکسابے)

پاکستان میں مختلف یونیورسٹیوں سے اردو مضمون میں پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ گذشتہ کئی سالوں سے مشکلات کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈگری حاصل کرنے کے لیےمقالے جمع کرانے کے بعد آرٹیکل شائع کروانے کی شرط پر بےجا تاخیر سے ان کی ڈگریاں رکی ہوئی ہیں۔

طلبہ کے مطابق پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کی جانب سے جن یونیورسٹیز کے ریسرچ جرنلز میں آرٹیکل شائع کرانے کی شرط ہے وہ طلبہ کو مبینہ طور پر پریشان کرتے ہیں۔

مختلف یونیورسٹیز کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ریسرچ جرنلز کو ڈبلیو،ایکس اور وائے کے درجات میں تقسیم کیاگیاتھا۔طلبہ کے مطابق پی ایچ ڈی اردو کرنے والوں کے لیے ڈگری حاصل کرنے سے پہلے 250 صفحات تک کے آرٹیکل Y درجہ کے ریسرچ جرنل میں شائع کرانا لازمی ہیں۔

لیکن ریسرچ جرنلز کی جانب سے یہ آرٹیکل تین سال تک التوا میں ڈال دیے گئے اور طلبہ کی ڈگریاں نہ مل سکیں۔

طلبہ کے آرٹیکل شائع ہونے میں دشواری:

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اردو کرنے والے طالب علم عامر آتش نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ آٹھ ماہ سے اپنا مقالہ جمع کراچکے ہیں جبکہ بہاؤالدین زکریایونیورسٹی کے ریسرچ جرنل میں آرٹیکل شائع ہونے کے لیے بھی جمع کراچکے ہیں۔

لیکن ریسرچ جرنل میں آرٹیکل شائع کرنے کے بیس ہزار روپے بھی وصول کر لیے گئے اور آرٹیکل بھی شائع نہیں ہوا۔

جب پوچھا گیا تو کہا گیا کہ وہ شائع ہونے کے قابل نہیں تھا دوبارہ لکھیں اور مزید پیسے دیں تو شائع ہوگا۔

جب اس کے خلاف ردعمل دیا توکہا گیا کہ باری کا انتظار کریں جب نمبر آئے گا تو شائع ہوجائے گا۔ جبکہ تین تین سال سے آرٹیکل جمع ہونے کے باوجود کئی طلبہ کے آرٹیکل شائع نہیں ہوئے۔

اس معاملے پر کئی طلبہ نے ایچ ای سی سے شکایات کیں کہ انہیں ڈگری کے حصول میں ایسے سنگین مسائل کا سامناہے۔

عامر کے مطابق ایسے سینکڑوں طلبہ ہیں جن کے آرٹیکل وائے درجہ رکھنے والے ریسرچ جرنلز شائع نہیں کر رہے۔

ایچ ای سی کی نئی پالیسی:

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے طلبہ کو درپیش مشکلات پر انتظامیہ نے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا دعوی کیا اور پالیسی بھی تیار کر لی گئی۔

ترجمان ایچ ای سی وسیم خالق داد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کے آرٹیکل شائع نہ ہونے کی مشکلات پر انتظامیہ نے سنجیدہ نوٹس لیا اور گزشتہ کچھ عرصے میں اس معاملے کو حل کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی جس کے تحت ایچ ای سی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے تمام ریسرچ جرنل جو آرٹیکل شائع کرنے کے لیے طلبہ کو پریشان کر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایاکہ ایچ ای سی نے فوری طور پر اپنی آفیشل ویب سائٹ پر تینوں درجہ کے ریسرچ جرنل کے لنک دیے ہیں۔

یکم جولائی سے نافذ العلمل ہونے والی نئی پالیسی کے مطابق طلبہ اس ویب سائٹ پر دیے گئے ریسرچ جرنلز پر ہی اپنے آرٹیکل شائع کر سکیں گے۔

پی ایچ ڈی اردو کرنے والے طالب نوید عاجز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی کی جانب سے نئی پالیسی کا اندازہ اس کی کارکردگی دیکھ کر ہی ہوگا کیونکہ صرف آرٹیکل شائع ہونے کا مسئلہ نہیں ڈگریوں کے حصول میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ مقالوں کی ایولیویشن میں بھی اٹھارہ اٹھارہ ماہ کی تاخیر ہے۔

ایچ ای سی جن یونیورسٹیز کے مقرر کردہ تجزیہ کاروں سے طلبہ کے مکالموں اور آرٹیکل کی جانچ کراتی ہے وہ کئی کئی ماہ اپنی رپورٹ ہی نہیں بھجواتے جبکہ ایچ ای سی کی جانب سے انہیں کوئی تنبیہہ بھی نہیں کی جاتی کہ وہ جلدی اپنا کام مکمل کرکے اپنی رائے پر مشتمل رپورٹ بھجوائیں۔

ان کاکہنا ہے کہ ایچ ای سی نے اس معاملے کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں کیا تاہم امید کرتے ہیں کہ نئی پالیسی میں ڈگریوں کے اجرا میں بلاوجہ سالوں کی تاخیر ختم ہوسکے۔

انہوں نے کہا کئی طلبہ کو ڈگریاں اس وقت جاری ہوتی ہیں جب کہیں اس ڈگری کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس