انسانوں میں ارتقا کا عمل تیز تر ہوتا جا رہا ہے

ارتقا کا عمل عام طور پر بےحد سست ہوتا ہے لیکن بعض اوقات دیکھتے ہی دیکھتے نمایاں تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

(پکسا بے)

جدید ترین تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ انسانوں میں ارتقا کا عمل تیزی سے رونما ہو رہا ہے اور پچھلے چند عشروں کے اندر اس میں نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ارتقائی عمل کی وجہ سے انسانوں کے چہرے چھوٹے ہو رہے ہیں، بہت سے بچے بغیر عقل داڑھ کے پیدا ہو رہے ہیں، جب کہ جسم میں دوسری ہڈیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

اس کے علاوہ اسی ’مائیکرو ایوولوشن‘ کے نتیجے میں لوگوں میں ایک ایسی شریان پیدا ہوتی جا رہی ہے جو پہلے بہت نایاب تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آسٹریلوی شہر ایڈیلیڈ کی فلائنڈرز یونیورسٹی کی ڈاکٹر ٹیگن لوکس نے اخبار ’ٹیلیگراف‘ کو بتایا کہ ’بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ انسانوں کا ارتقا رک گیا ہے۔ لیکن ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ہم اب بھی ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں اور اس میں پچھلے ڈھائی سو برس سے تیزی آئی ہے۔‘

اس کے علاوہ سائنس دانوں کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بہت سے بچے گھٹنے کے پیچھے ایک فالتو ہڈی (فیبلا) کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، جب کہ پاؤں میں بھی نئی ہڈیاں اگ رہی ہیں۔

’جرنل آف اناٹومی‘ میں شائع ہونے والی فلائنڈرز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق انسانوں کے چہرے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انسانوں کی خوراک اب پہلے کے مقابلے میں بہت نرم ہو گئی ہے اور اسے بھاری بھرکم دانتوں اور جبڑوں کی ضرورت نہیں رہی۔

عقل داڑھ کا مقصد کیا ہے؟

عام مشاہدہ ہے کہ عقل داڑھ شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے کیوں کہ جب یہ دانت (جن کی تعداد ایک سے چار تک ہوتی ہے) نکلتے ہیں تو جبڑے میں ان کی جگہ ہی نہیں ہوتی جس سے یہ دوسرے دانتوں پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ اگر اس میں انفیکشن ہو جائے تو شدید بیماری کا سبب بھی ہو سکتی ہے، اور اس کا واحد نکل دانت نکلوانا ہی رہ جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جسم کے اندر ایک ایسی چیز کی ضرورت ہی کیا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں الٹا نقصان ہی نقصان ہے؟

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دس ہزار برس قبل غار کے زمانے کے انسان کی خوراک بےحد سخت بیجوں، جڑوں اور کچے گوشت پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ اس خوراک کو چبانے کے لیے دانتوں کو سخت مشقت کرنا پڑتی تھی۔

سالہاسال تک یہی سخت خوراک کھانے کی وجہ سے دانت جلدی گھس جاتے تھے اور ان کی جگہ نئے دانت اگ آتے تھے۔ عقل داڑھ جب اگتی تھی تو انہی گھسے ہوئے دانتوں کی جگہ لے لیتی تھی۔  

سائنس دانوں کے مطابق جدید دور میں خوراکیں اتنی نرم ہو گئی ہیں کہ جبڑوں کی پوری طرح سے ورزش نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ سے ان کی نشو و نما مکمل نہیں ہو پاتی۔ ایسے جبڑوں میں فالتو دانتوں کی گنجائش نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے عقل داڑھ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

بالغوں میں دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت

اس کے علاوہ بھی انسانوں میں گذشتہ دس ہزار برسوں میں کئی ایسی ارتقائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے انسانی جسموں کے ساتھ ساتھ ان کی تاریخ پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

اکثر جانور بچپن سے جوانی میں داخل ہونے کے بعد دودھ ہضم کرنے کے صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ قدیم انسان بھی دودھ نہیں پی سکتا تھا کیوں کہ اس سے ان کا پیٹ خراب ہو جایا کرتا تھا۔

لیکن آج سے لگ بھگ آٹھ ہزار سال پہلے موجودہ ترکی کے علاقے میں انسان کے ڈی این اے میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کی مدد سے وہ دودھ ہضم کرنے کے قابل ہو گیا۔

یہ تبدیلی کسی ایک انسان میں روبہ عمل ہوئی، پھر اس کے بچوں میں منتقل ہوئی۔ چونکہ یہ عمل صحت کے لیے نہایت فائدہ مند تھا، اس لیے ارتقائی اصولوں کے مطابق اس کے جین تیزی سے بقیہ آبادی میں پھیل گئے۔

آج بالغ عمر میں دودھ ہضم کرنے کا جین دنیا کی 35 فیصد آبادی میں موجود ہے، لیکن اس کے باوجود بھی بقیہ 65 فیصد بالغ آبادی دودھ کے فوائد سے محروم ہے۔

سنہرے بال، نیلی آنکھیں، گوری رنگت

اگر آپ کسی طرح سے ٹائم مشین میں بیٹھ کر آج سے دس ہزار سال قبل کے یورپ میں پہنچ جائیں تو آپ کو یہ دیکھ کر حیرت ہو گی کہ وہاں تمام لوگوں کے بالوں کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہے، اور ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کے بال سنہرے ہوں۔

1903 میں برطانیہ کے ایک غار سے ایک شخص کا دس ہزار سال پرانا ڈھانچہ ملا جو ابھی تک لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں محفوظ تھا۔ دو سال قبل جب اس ڈھانچے کا ڈی این اے نکال کر اس کی مدد سے اس کی شکل و شباہت کا جائزہ لیا گیا تو سائنس دان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس شخص کا رنگ خاصا گہرا تھا، اور بال بھی سیاہ تھے۔

انسانی ڈی این اے میں تین ارب کے قریب ’حروف‘ ہیں، ان میں سے صرف ایک حرف میں اتفاقی طور پر ایک تبدیلی واقع ہوئی جس سے یورپ میں انسانوں کے بالوں کا رنگ سنہرا ہو گیا، اور رفتہ رفتہ پورے براعظم تک پھیل گیا۔

 

اسی طرح آج سے تقریباً دس ہزار سال قبل دنیا کے تمام انسانوں کی آنکھیں بھورے رنگ کی تھیں۔ لیکن اس کے بعد کسی ایک بچے کے OCA2 نامی ایک جین کے اندر میوٹیشن ہوئی جس کے باعث وہ نیلی آنکھوں کے ساتھ پیدا ہوا۔ اس کے بچوں کی آنکھیں بھی نیلی تھیں، پھر جہاں جہاں وہ شادیاں کرتے گئے، نیلی آنکھوں والی خصوصیت مختلف آبادیوں میں منتقل ہوتی چلی گئی۔

سائنس دانوں کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ نیلی آنکھیں کم روشنی میں بہتر کام کرتی ہیں اور ان کے علاقوں میں مفید ہیں جہاں روشنی کم پڑتی ہے، خاص طور پر شمالی کرے کے وہ خطے جہاں سردیوں میں دن بےحد چھوٹے اور راتیں انتہائی طویل ہوتی ہیں۔

ارتقا ہے کیا؟

چارلز ڈارون نے آج سے پونے دو سو سال قبل جو تاریخ ساز نظریہ پیش کیا اس کے تین اہم اجزا ہیں۔

  1. ایک ہی نسل کے جاندار ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہر انسان دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتا ہے کہ اسے ہزاروں کے مجمعے میں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ ہر زیبرے کی دھاریاں منفرد ہوتی ہیں اور انسانی انگلیوں کے نشانوں کی طرح کسی اور زیبرے سے نہیں ملتیں۔ دنیا کا کوئی درخت دوسرے کسی انسان سے نہیں ملتا۔ 
  2. یہ تبدیلیاں ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتی ہیں۔ لمبے والدین کے بچے بھی لمبے ہوتے ہیں، اسی طرح کئی موروثی بیماریاں بھی والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔
  3. ماحول ہر پیدا ہونے والے بچے کو پال نہیں سکتا۔ مچھلیوں لاکھوں انڈے پیدا کرتی ہیں لیکن ان میں سے ایک آدھ ہی بالغ عمر تک پہنچتا ہے۔ درخت لاکھوں کروڑوں بیج پیدا کرتے ہیں، لیکن ایک آدھ سے زیادہ بیج درخت نہیں بنتے۔ بلیاں اپنی پوری زندگی میں 180 کے قریب بچے پیدا کرتی ہیں لیکن اکا دکا ہی بالغ عمر پاتے ہیں۔

اس کی وجہ سے ہر جاندار کو بقا کی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ اسے زندہ رہنے کے لیے نہ صرف دشمن جانداروں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے، بلکہ خوراک اور وسائل کے لیے اپنی ہی نسل سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔

اس جنگ میں وہی جیتتا ہے جس کے اندر اپنے ماحول کے اندر موت اور زندگی کی کشمکش سے نمٹنے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہو، یا دوسرے لفظوں میں وہ اپنے ماحول کے لیے سب سے زیادہ ’فِٹ‘ ہو۔

یہی ’فٹ‘ جاندار تولیدی عمر پاتا ہے اور بچے پیدا کرتے ہیں، اور اس کے بچے بھی اپنے والدین کی خصوصیات آگے لے کر چلتے ہیں۔

یہی عمل ارتقا کا انجن ہے جو اسے مختلف سمتوں میں لے کر چلتا ہے اور لاکھوں برس بعد بالکل نئے جاندار وجود میں آ جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس