سعودی عرب کی فرانس میں خاکوں اور دہشت گردی کی مذمت

سعودی عرب نے فرانسیسی میگزین چارلی ایبدو کی جانب سے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور فرانس میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔

(اے ایف پی)

سعودی عرب نے فرانسیسی میگزین چارلی ایبدو کی جانب سے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور فرانس میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی حکومت نے کسی بھی قسم کے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت سمیت دو طرفہ احترام، برداشت اور امن کے فروغ کے لیے علمی اور ثقافتی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔

16 اکتوبر کو فرانس میں تاریخ کے ایک استاد کا سر قلم کرنے کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر ایمونوئیل میکروں نے شدت پسندوں کے خلاف جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قتل ہونے والے استاد نے اپنی کلاس میں آزادی اظہار پر کی جانے والی بحث کے دوران اپنے طلبہ کو پیغمبر اسلام کے خاکے دکھائے تھے۔

عرب نیوز کے مطابق فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد ان کے خلاف مسلمان ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

شام اور لیبیا میں ہونے والے مظاہروں کے دوران شام کے شہریوں نے فرانسیسی صدر کی تصاویر کو آگ لگا دی جب کہ لیبیا کے شہر تریپولی میں فرانس کے پرچم کو نظر آتش کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات اور فرانس کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

پاکستان نے بھی پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ کو اسلاموفوبیا کے خلاف کارروائی کے لیے خط بھی لکھا ہے۔

جبکہ دوسری جانب ترکی نے فرانسیسی صدر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف بیان پر کہا کہ ’مکروں کے دماغ کا معائنہ کرانے کی ضرورت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا