’لو جہاد‘ ہے کیا اور بھارت میں کتنا بڑا مسئلہ ہے؟

بی جے پی کئی ریاستوں میں لو جہاد کے خلاف قانون سازی کر رہی ہے۔ لو جہاد ہوتا کیا ہے اور بھارت میں اس کی شرح کیا ہے؟

الزام ہے کہ مسلمان لڑکے ایک سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو مسلمان کر کے ان سے شادی کر رہے ہیں(اے ایف پی)

 گذشتہ دنوں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ’لو جہاد‘ (Love Jihad) کے خلاف ایک بل پیش کیا جائے گا جس میں ’لو جہاد‘ کو غیر ضمانتی جرم قرار دیتے ہوئے کلیدی ملزم اور اس کا ساتھ دینے والوں کے لیے پانچ سال کی سخت سزا کا اہتمام کیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جبراً تبدیلیِ مذہب (ہندو سے مسلمان) بنا کر شادی کروانے کا سلسلہ اب بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لیے ریاستی حکومت اسمبلی میں اس کے خلاف قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ واضح ہو کہ اس سے پہلے بھی ریاستی حکومت کی طرف سے اس ضمن میں قانون سازی کا اشارہ دیا جا چکا تھا۔ اس مہینے کی ابتدا میں ریاست کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا تھا کہ ’لو کے نام پر کوئی جہاد نہیں ہو گا۔ جو ایسی حرکت کرے گا، اسے ٹھیک کر دیا جائےگا اور اس کے لیے قانونی نظام بنایا جائے گا۔‘

غور طلب بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش بھارت کی ایسی چوتھی ریاست ہے جہاں اس طرح کے قانون کو لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس قبل اتر پردیش، ہریانہ اور کرناٹک کی ریاستی حکومتیں بھی اسی طرح کا قانون بنانے کی بات کہہ چکی ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان سبھی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے۔

 اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس سلسلہ میں متنازع اور اشتیال انگیز بیانات دیتے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں انہوں نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ’اگر روپ بدل کر بہنوں بیٹیوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے نہیں سدھرے تو ان کی ’رام نام ستیہ ہے‘ کی یاترا نکلنے والی ہے۔‘

الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’صرف شادی کے لیے مذہب کی تبدیلی غیرقانونی ہے اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور جلد ہی اس کے لیے موثر قانون بنایا جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لو جہاد‘ ہے کیا؟

گذشتہ ایک دہائی میں جب کوئی غیر مسلم (خاص طور پر ہندو) لڑکی ایک مسلم لڑکے سے شادی کرتی ہے تو ہندوتوا وادی تنظیموں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شادی ایک سازش کے تحت کی گئی ہے اور یہ تنظیمیں اس طرح کی شادی کو ’لو جہاد‘ کا نام دیتی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ مسلمان بین الاقوامی سازش کے تحت کرتی ہیں، جس کا حتمی مقصد اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ قائم کرنا ہے۔

اس حوالے سے رواں برس ماہ ستمبر میں بھارت میں ہندوتوا آئیڈیالوجی کی سرکردہ تنظیم راشریہ سویم سیوک (آر ایس ایس) کے ہندی ترجمان رسالے ’پانچ جنیہ‘ نے ایک کور سٹوری شائع کی تھی جس کا عنوان تھا ’پیار کا اسلامی قتل۔‘

اس سٹوری میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلمان لڑکے ایک سازش کے تحت اپنا نام بدل کر ہندو لڑکیوں سے پیار کرتے ہیں، پھر لڑکی کا مذہب بدلوا کر شادی کرتے ہیں اور آگے چل کر وہ کسی اور لڑکی کو اپنا شکار بناتے ہیں اور پہلی کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے اسے قتل کر دیتے ہیں۔

سٹوری کے مطابق اس طرح کی دھوکہ دہی، مذہب تبدیل کروانے، نکاح اور قتل کی ترغیب ان مسلم نوجوانوں کو ان تنظیموں سے ملتی ہے جو بھارت کو اسلامی ملک بنانا چاہتے ہیں۔

تاہم ماہرین ایسے تمام الزامات اور دعووں کوسفید جھوٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب باتیں مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈا کے سوا کچھ نہیں ہے۔

کیرالہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس این سی استھانا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان دعووں میں کوئی حقیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنا کر شادی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور یہ قانون اس سے نمٹنے کے لیے بنایا جا رہا ہے تو ملک کی مختلف ریاستوں میں پہلے سے ہی جبراً تبدیلیِ مذہب کے خلاف قانون موجود ہے۔ حکومت کو اس کا استعمال کرنا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ ملک کی آٹھ ریاستوں میں جبراً تبدیلی مذہب کے خلاف قانون موجود ہے جس میں مدھیہ پردیش بھی شامل ہے۔

این سی استھانا مزید کہتے ہیں کہ ’جبراً تبدیلیِ مذہب کے خلاف قانون سے بھی اگر اس سے مبینہ مسئلہ کا حل نہیں ہوتا ہو تو ایسا کرنے والوں کے خلاف اغوا کرنے کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اگر لڑکی کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے۔ اغوا کرنے کے جرم میں دس سال کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ مجوزہ قانون کے تحت تو صرف پانچ سال سزا کی تجویز ہے۔‘

لو جہاد کے مبینہ معاملے میں ریاست کیرالہ کا نام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہاں سب سے پہلے 2009 میں ’ہندوجاگرتی‘ نامی ایک ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیرالہ میں مسلم یوتھ فورم نام کی تنظیم نے ’لو جہاد‘ کا ایک پوسٹر لگوایا ہے، جس میں مبینہ طور پر ہندو لڑکیوں کو ’پیار و محبت کے جال میں پھنسا کر‘ ان کامذہب تبدیل کروانے اور پھر ان سے شادی کر لینے کی بات کی گئی ہے۔

اسی کے بعد ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے اس طرح کے دعوے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی کیے جانے لگے۔ تاہم کیرالہ پولیس کی تفتیش میں’لو جہاد‘ کے الزام کو جھوٹا پایا گیا۔

اس کے علاوہ دوسال تک چلنے والی تفتیش کے بعد کیرالہ ہائی کورٹ نے جانچ کو بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارے سماج میں بین المذہبی شادی ایک معمولی بات ہے اور اس میں کوئی جرم نہیں ہے۔‘

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ رواں سال کے آغاز میں خود نریندر مودی حکومت پارلیمان میں کہہ چکی ہے کہ موجودہ قوانین کے مطابق لو جہاد جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی اس وقت کسی مرکزی تفتیشی ایجنسی کے پاس ایسا کوئی کیس ہے۔

این سی استھانا نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس قبل 2018 میں کیرالہ کے ہی ایک کیس میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ہندوتواوادی تنظیموں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ ہادیہ( پہلا نام اکھلا اشوکن) برین واشنگ اورسائیکولوجیکل کڈنیپنگ کی وجہ سے ہندو سے مسلمان ہو گئی تھیں۔

واضح ہو کہ ایجنسی نے یہ الزام لڑکی کے والد کی ایما پر لگایا تھا جسے ہادیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ مارچ 2018 میں اس معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے اور دعوے کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ عقیدہ اور یقین کے مسئلے آئین کے ذریعے فراہم آزادی کی بنیاد میں ہیں اور سرکار یا سماج کا پدری نظام اس میں دخل اندازی نہیں کر سکتے۔

جبری تبدیلیِ مذہب: کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

قانونی معاملات کی ماہر، وکیل اور ریسرچر سُربھی کروا مجوزہ قانون کو ایک سیاسی حربہ بتاتی ہیں۔ انہوں نے انڈپنڈنٹ اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات تو یہ ایسے کسی قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ اس میں قانون جیسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ در اصل بین مذاہب شادیوں کو روکنے کا ایک طریقہ ہے جسے ہندوتوادی طاقتیں پسند نہیں کرتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پہلے سے اس طرح کی شادی کرنا بہت مشکل ہوتا تھا، اس طرح کے قانون کے بن جانے پر ایسی شادی کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ اگر اس طرح کا کوئی قانون بنتا ہے تو وہ بھارت کے آئین کی روح کے خلاف ہو گا۔‘

خیال رہے کہ اس ضمن میں اتر پردیش لا کمیشن کے سربراہ جسٹس آدتیہ ناتھ متل بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت محض بین مذاہبی شادی کوروکنے کے مقصد سے قانون لاتی ہے تو وہ غیر قانونی ہوگا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ لو جہاد کے دعوے میں کتنی سچائی ہے، سُربھی کروا کہتی ہیں کہ ابھی تک ایسا دعویٰ کرنے والےکوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کر سکے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ لوگ دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن جب ان سے اس کا ثبوت مانگا جاتا ہے تو ان کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہوتے۔

وہ ایک تازہ مثال دیتے ہوئے مزید کہتی ہیں، ’گذشتہ ماہ قومی خواتین کمیشن کی سربراہ ریکھا شرما نے مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کے دوران مبینہ لو جہاد کے بڑھتے معاملات کا ذکر کیا تھا۔ تاہم جب حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت کمیشن سے ایسے واقعات کی فہرتت مانگی گئی تو ان کا جواب تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی ڈیٹا بیس نہیں ہے۔

بین مذہبی شادیوں کے تعلق سے این سی استھانا کہتے ہیں کہ بھارت میں اس کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔ 2013 کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں 40 ہزار سے زیادہ خاندانوں کے سروے میں صرف2.21 فیصد خاندانوں میں ایسی شادیاں دیکھنے کو ملی ہیں جو نہ ہونے کے برابر ہے۔

جبراً تبدیلی مذہب کے سوال پر وہ ایک بار پھر سے کیرالہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’2012 میں ریاستی حکومت نے اسمبلی جو اعداد و شمار پیش کیے تھے اس کے مطابق چھ برسوں ( 2006-12) کےدرمیان صرف2667  ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ اگر ہم مان لیں کہ ملک میں سال بھر میں لگ بھگ ایک کروڑ شادیاں ہوتی ہیں، تب ملک کے مقابلے کیرالہ کی آبادی کے حساب سے ریاست میں276000  شادیاں ہوتی ہیں۔ یعنی بین مذہبی شادی، کل شادیوں کا محض 0.36 فیصد ہیں۔ اس تعداد سے کیا فرق پڑنے والا ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ کیرالہ میں 2001-11 کے درمیان مسلم آبادی سال میں لگ بھگ ایک لاکھ کی شرح سے بڑھی تھی۔ جبکہ بین مذہبی شادی اس اضافے کامحض ایک فیصد حصہ ہیں۔ اس لحاظ سے بھی یہ کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔ خواہ مخواہ کا ہوّا بنایا جا رہا ہے۔‘

اس قانون کا اصل مقصد کیا ہے؟

سُربھی کروا کے مطابق اس قانون کو لانے کا اصل مقصد ہندوتوا وادی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی طرف ایک اور قدم ہے۔ آر ایس ایس کی خواتین ونگ راشٹریہ سیویکا سمیتی کے مقاصد کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ بنیادی طور ان کا ’ماتری شکتی‘ کا جو آئیڈیا ہے، جس کے مطابق ہر ہندو عورت کو چار ہندو بچوں کی ماں ہونا ہے، اس کو مضبوط بنانا ہے۔

ان کے مطابق اگر بین مذہبی شادیاں ہوتی رہیں تو وہ اس مقصد کو حاصل نہیں کر پائیں گے، اسی لیے وہ اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور ایسا قانون لانا چاہتے ہیں۔ واضح ہو کہ اس تنظیم کی طرف سے مبینہ لو جہاد سے نمٹنے کے لیے ہندو خواتین اور لڑکیوں کو تربیت دی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ہندوتووادی تنظیمیں بھی لوجہاد کے موضوع پر سرگرم رہی ہیں۔

 این سی استھانا کا کہنا ہے کہ ایسے قانون کا اصل مقصد مسلمانوں کی سماجی بے دخلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر بھارت کے مسلمان پہلے ہی حاشیہ پر دھکیلے جا چکے ہیں، اس طرح کے قوانین کے آ نے سے ان کے سماجی بائیکاٹ کی راہ آسان ہو جائے گی یا کم از کم ملک کے سوشل ایکوسسٹم میں ان کی کوئی بامعنی شمولیت ہی نہیں رہ جائے گی۔ ان کے مطابق، ’اس طرح کا قانون ’ہندو راشٹر‘ کو ایک سماجی حقیقت بنا دینے میں مدد کرے گا، کیوں کہ اس طرح کی زہرافشانی سے وہ لوجہاد کو ایک سماجی سچ تو بنا ہی سکتے، ہمیں اسی خطرے سے ہوشیار رہنا ہے۔

دریں اثنا، جمعے کے روز کانگریس کے سینئر رہنما اور راجستھان کے وزیرا علیٰ اشوک گہلوت نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ ’لو جہاد بی جے پی کا پیدا کردہ لفظ ہے جس کے ذریعے وہ ملک کو بانٹنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنا چاہتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’شادی ایک شخصی آزادی کا معاملہ ہے اس کو روکنے کے لیے قانون لانا ایک غیر آئینی عمل ہے۔‘ 

ان سے قبل دوسری اہم شخصیات بھی اس قانون کے خلاف اپنی رائے دے چکی ہیں۔ مشہوربالی ووڈ اداکارہ سورا بھاسکر نے مجوزہ قانون کو ہندو خواتین کی جنسیت کو کنٹرول کرنے والا اور مسلمان مردوں کو کریمنلائز (مجرم قرار دینے) کرنے والا قدم قرار دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا