سڈنی ٹیسٹ: تماشائیوں کی ’بدسلوکی‘ پر کھیل روکنا پڑ گیا

آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان سڈنی ٹسٹ کے چھوتھے روز کا کھیل کچھ دیر کے لیے اس وقت روکنا پڑ گیا جب مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں نے تماشائیوں کی جانب سے ’بدسلوکی‘ کی شکایت کی۔

بھارتی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد سراج  ایک سٹینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (اے ایف پی)

آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان سڈنی ٹسٹ کے چھوتھے روز کا کھیل کچھ دیر کے لیے اس وقت روکنا پڑ گیا جب مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں نے تماشائیوں کی جانب سے ’بدسلوکی‘ کی شکایت کی۔

بھارتی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد سراج امپائرز سے ایک سٹینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر تماشائیوں کی جانب سے بدسلوکی کی شکایت کی جہاں وہ باؤنڈری کے قریب فیلڈنگ کر رہے تھے۔

شکایت کے بعد بھارتی فیلڈرز اور آسٹریلین بلے باز میدان کے درمیان میں جمع ہو گئے جس کے بعد امپائرز پال رائیفل اور پال ولسن نے آٹھ منٹ تک کھیل کو روکے رکھا۔ اس دوران پولیس اور سکیورٹی نے سٹینڈ پر موجود شائقین سے پوچھ گچھ کی۔

بعد ازاں پولیس کم سے کم پانچ افراد کو ان کی سیٹوں سے اٹھا کر میدان سے باہر لے گئی۔

کھیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد آسٹریلیا نے اپنی اننگز کو اس وقت ڈکلیر کر دیا جب آل راؤنڈر کیمرون گرین چائے کے وقفے سے قبل آخری گیند پر 84 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے گئے۔

میزبان ٹیم نے بھارت کو جیتنے کے لیے 407 رنز کا ہدف دیا تھا جس جب کہ کھیل کے چار سیشنز باقی تھے۔ دن کا کھیل ختم ہونے تک مہمان ٹیم نے 98 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

میچ کے آخری روز یعنی پیر کو بھارت کو جیتنے کے لیے مزید 309 رنز کی ضرورت ہو گی۔

سراج نے اس سے قبل ہفتے کے کھیل کے بعد بھی شائقین کی جانب سے مبینہ طور پر نسل پرستانہ جملوں کے بارے میں شکایت کی تھی اور کرکٹ آسٹریلیا اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پہلے ہی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سکیورٹی شعبے کے سربراہ شان کیرول نے کہا کہ نسل پرستی جیسے رویے ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا: ’سیریز کے میزبان ہونے کی حیثیت سے ہم ان رویوں پر طور پر بھارتی کرکٹ ٹیم میں اپنے دوستوں سے معافی چاہتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس معاملے پر پوری حد تک کارروائی کریں گے۔‘

’کرکٹ آسٹریلیا تمام امتیازی سلوک کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ایک بار ذمہ داروں کی شناخت ہوجانے کے بعد  سی اے کے ہراسانی کے ضابطے کے تحت سخت ترین اقدامات اٹھائے جائیں گے، جس میں طویل عرصے تک میدان میں آنے پر پابندی، مزید سختیاں اور ملزموں کو نیو ساؤتھ ویلز پولیس کو حوالے کرنا بھی شامل ہے۔‘

ادھر سٹیڈیم انتظامیہ نے بتایا کہ تحقیقات میں مدد کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا استعمال کیا جارہا ہے۔

وینیوز نیو ساؤتھ ویلز کے چیف ایگزیکٹو کیری میتھر نے کہا: ’ہم اسے انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اگر واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی ہو گئی تو ان پر پابندی عائد کردی جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ