فرضی کہانی: ایک دفعہ کا ذکر ہے

اس ملک کے سیاست دان بھی بہت قابل تھے۔ ان کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ان میں سے بہت کم تھے جو ارب پتی نہیں تھے۔

(فائل تصویر: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


آپ نے اکثر ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے شروع میں لکھا دیکھا ہوگا کہ اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں اور کسی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ میں بھی آپ کے سامنے ایک فرضی کہانی پیش کر رہا ہوں۔ 

ویسے بھی ہمارے ملک میں عوام کو فرضی کہانیاں سچ سے زیادہ پسند ہیں۔ پاکستان اور اس کہانی میں مماثلت اتفاقیہ ہے۔ میں اس کی تردید کرتا ہوں کہ مندرجہ ذیل کہانی پاکستان کے بارے میں ہے اور اگر آپ پھر بھی نہ مانیں تو  یہ میرا نہیں آپ کا مسئلہ ہے۔ 
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس دنیا میں ایک ملک تھا جس میں کئی سو ملین لوگ رہتے تھے جو مسلمان کہلاتے تھے۔ اس ملک میں سمندر، دریا، پہاڑ، ریگستان اور انتہائی زرخیز زمین تھی۔ سوشل میڈیا پر ہر آدمی کو سچ بولنے کی مکمل آزادی تھی۔ امیر کاروباری لوگوں نے بھی ٹی وی چینل بنائے ہوئے تھے، جو صرف سچ بولتے تھے تاکہ وہ صحافی جو کئی دہائیوں سے لفافے لے کر جھوٹ پھیلا رہے ہیں اور دشمن کے ایجنٹ ہیں، وہ عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔

سڑک کے بیچ میں ناجائز قبضے کی زمین پر قائم مسجد کے امام اس بات پر اکثر پریشان رہتے تھے کہ ملک میں ان کی تمام کوشش کے باوجود رشوت اور کرپشن کا بازار گرم کیوں ہے۔

اس ملک کا دفاع بہت مضبوط تھا کیونکہ اس کے پاس نہ صرف ایٹمی ہتھیار تھے بلکہ اس کے جرنیل بھی بہت محنتی، تجربہ کار اور محب وطن تھے۔ قابل اتنے تھے کہ دفاع کے علاوہ انہیں کاروبار اور اقتصادیات پر بھی عبور حاصل تھا۔ ایسے میں شہریوں کو یقین تھا کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

ماسوائے ایک کہ اس ملک کے تمام پڑوسی اس کے دشمن تھے۔ اسی لیے ہمیشہ عوام نے اپنی محنت کی کمائی کا ایک حصہ اپنے دفاع کے لیے رکھا ہوا تھا، مگر ملک کے دشمن اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے اس لیے ہر وقت دنیا میں یہ تاثر پھیلاتے تھے کہ دفاع پر بہت رقم خرچ ہو رہی ہے۔ عوام اور ملک کے حکمرانوں نے کبھی اس غیر ملکی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ 

اس ملک کے سیاست دان بھی بہت قابل تھے۔ ان کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ان میں سے بہت کم تھے جو ارب پتی نہیں تھے۔ عقل مند اتنے تھے کہ کبھی ٹیکس کے ادارے کو پتہ نہ چلا کہ ان سے ٹیکس کتنا لینا ہے۔ ان کی ایمانداری کی وجہ سے جو ٹیکس دیا اسے قبول کر لیا گیا۔ کئی ایک تو اتنے محنتی تھے کہ حکومت کرتے وقت بھی اپنے کاروبار کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔ ان کی اسی محنت اور لگن کا صلہ تھا کہ جب بھی حکومت میں رہے کاروبار میں برکت رہی۔ ایسے قابل سیاست دان اور پارٹیاں کئی کئی دفعہ حکومت میں آئے اور کوشش کرتے رہے کہ ملک ترقی کرے۔ 

ملک کے بیوروکریٹ بھی تجربہ کار اور کام کو سمجھنے والے تھے۔ ہر بیوروکریٹ محنت کی عظمت پر یقین رکھتا تھا۔ عوام کی خدمت کا اتنا شوق تھا کہ جو ریٹائرڈ تھے وہ بھی واپس نوکریاں لے لیتے تھے۔

ملک کے جج بہادر اور بےخوف تھے، کسی طاقتور سے نہیں ڈرتے تھے اور حکمرانوں کو پھانسی اور کرپٹ کو جیل بھیج کر انصاف کو یقینی بناتے تھے۔ ججوں کو انصاف کی اتنی فکر تھی کہ مقدموں کی سماعت کئی کئی سال تک جاری رہتی تھی تاکہ مکمل سچ کا پتہ لگے اور ناانصافی نہ ہو۔  اتنے خدا ترس اور انسان دوست جج تھے کہ انہیں یہ بھی فکر رہتی تھی کہ ڈیم بن رہے ہیں یا نہیں۔ ہسپتال چل رہے ہیں یا نہیں اور جو معاہدے کیے گئے وہ ٹھیک تھے یا نہیں۔

ملک کے کچھ شہری اتنے کامیاب کاروباری تھے کہ ان کے دنیا بھر میں اثاثے تھے۔ ان تمام جنرل، سیاست دان، بیوروکریٹ، امام، اور کاروباری حضرات کا آپس میں گہرا پیار اور محبت کا رشتہ تھا۔ یہ سب مل کر ملک کو ترقی دینا چاہتے تھے اور ہر وقت اسی فکر میں لگے رہتے تھے۔ اس کشمکش میں کبھی کبھی لڑ بھی لیا کرتے تھے۔ مگر اس کے باوجود بیروزگاری، مہنگائی، قرضوں کا بوجھ اور افراط زر کم ہو کر نہیں دے رہا تھا۔

قبضے کی جگہ پر قائم مسجد کے امام کا خیال تھا کہ ملک کے سماجی مسائل اس لیے تھے کہ رشوت اور کرپشن کی وجہ سے اس ملک پر خدا کا عذاب ہے۔ جبکہ جنرل، سیاست دان اور بیوروکریٹ کا خیال تھا کہ یہ کوئی غیرملکی سازش ہے۔ عوام کو ہمیشہ یہ دونوں تاکید کرتے رہے کہ دعا کریں، غیر ملکی دشمن کو ناکام بنائیں اور حالات سے گھبرائیں مت۔ 

اس پریشانی اور تکلیف کے دور میں امید کی کرن پھوٹی۔ ایک بانکے اور سجیلے سیاسی رہنما سامنے آئے، جن کی خوبصورتی کی دنیا بھر میں شہرت تھی۔ یہ سیاست دان خوب سیرت بھی تھے۔ ہمارے خدا ترس ججوں نے خود تحقیق کی اور قوم کو بتایا کہ وہ صادق اور امین ہیں۔ یہی نہیں یہ رہنما صرف باتیں کرنے والے نہیں تھے بلکہ انہوں نے ملک کے لیے کئی تمغے اور غریب عوام کی صحت کے لیے بھی جدوجہد کی تھی۔ جب سیاست میں آئے تو لمبی جدوجہد کے بعد اچھی ٹیم بنائی جو اتنی اہم تھی کہ اسے صیغہ راز میں رکھا گیا۔

اس پرعزم رہنما نے اب فیصلہ کر لیا تھا کہ ملک کو رشوت، کرپشن اور نااہلوں سے پاک کرنا ہے۔ یہ رہنما ایک بڑا دھرنا لے کر ملک کے دارالخلافہ پہنچے اور قوم کو بتایا کہ اب انقلاب حقیقت بننے کے قریب ہے۔ 

اسی ملک میں ایک سائیں سمندر بلوچ بٹ نامی 22 سالہ نوجوان تھا جس نے پچھلے سال ہی یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ ان کی بیوہ ماں اور دو بہنوں نے محنت کر کے ان کی تعلیم کا خرچ اٹھایا مگر اب ایک سال گزرنے کے بعد بھی انہیں نوکری نہ مل سکی۔ ماموں نے مدد کرنے کے لیے موٹر سائیکل خرید کردی تاکہ پیزا ڈیلیوری سروس سے اپنا گزر بسر کرسکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پچھلے ماہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے اس سروس پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ سائیں یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ان کی مزدوری کا دہشت گردی سے کیا تعلق ہے۔ وہ ان سیاست دانوں سے تنگ تھے مگر اب انہیں یقین تھا کہ بانکا اور سجیلا رہنما ان کے تمام مسائل حل کر دے گا۔ اس رہنما کے ہر جلسے میں شرکت لازمی تھی جہاں انہیں اپنے جیسے بہت سے بیروزگار نوجوان ملے۔

سائیں آج صبح سے بہت خوش تھے، ان کے رہنما نے کل تقریر میں بتایا تھا کہ آج امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے اور انقلاب زیادہ دور نہیں، پھر تمام مسائل ٹھیک ہو جائیں گے۔ سائیں نے دھرنے میں کئی لوگوں سے پوچھا یہ امپائر کون ہے جو اتنا طاقتور ہے۔ مگر ہر ایک کا یہی خیال تھا کہ صادق اور امین رہنما اگر کہہ رہا ہے کہ انگلی اٹھنے والی ہے تو پھر زیادہ سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

صبح سویرے غسل کرکے سائیں انقلابی دھرنے میں جانے کو تیار ہوئے اور اپنی موٹر سائیکل کو بھی خوب چمکایا۔ سائیں سمندر بلوچ بٹ ایک ماہر موٹر سائیکل سوار تھے اور کئے دفعہ ویلیاں بھی مصروف شاہراہوں پر مار چکے تھے اور بہادر اتنے تھے کہ کبھی ہیلمٹ پہننے کو ضروری نہ سمجھا۔ آج بھی جب وہ خوشی خوشی انقلاب میں شرکت کرنے نکلے اور ایک دلفریب ویلی ماری مگر یہ خوشی صرف کچھ دیر کی تھی اور ایک زور دار دھچکے کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ 

نہ جانے کتنے گھنٹے بیہوش رہنے کے بعد سمندر بٹ کی آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال کے بستر پر لیٹے تھے۔ سامنے ٹی وی سکرین پر ایک طرف کنٹینر پر چڑھے کچھ لوگ حکومت کے خلاف تقریریں کر رہے تھے اور دوسری طرف آٹا اور چینی کی بڑھتی قیمت کا ذکر تھا۔ یہ منظر دیکھ کر انہیں یاد آیا وہ انقلاب میں شامل ہونے نکلے تھے۔

انہوں نے ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر آواز لگائی مجھے جانے دو آج تبدیلی آنے والی ہے۔ ڈاکٹر نے گردن موڑ کر ڈانٹ پلائی، خاموش ہو جاؤ تبدیلی کو آئے ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں اور یہ وہ کنٹینر نہیں ہے۔ سائیں نے گھبرا کر پوچھا: آج تاریخ کیا ہے؟ ڈاکٹر نے سامنے دیوار پر لگے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا جہاں سیدھے ہاتھ پر 24 جنوری 2021 لکھا تھا۔

سائیں سمندر بلوچ بٹ ابھی اس صورت حال پر غور ہی کر رہے تھے کہ برابر کے بستر پر لیٹے ایک زخمی نوجوان نے، جس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں، مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور کہا میں تمھیں انقلاب کا صحیح راستہ بتاتا ہوں۔

 یہ اس کہانی کا دی اینڈ نہیں ہے، صرف شروعات ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ