پاکستان ٹیم کے خلاف 188 رنز کا مجموعہ کمزور بیٹنگ نہیں تھی

ایسا لگتا تھا آج میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل جائے گا لیکن فہیم اشرف اور رضوان نے صورتحال کو سنبھالا اور 48 رنز کی پارٹنرشپ کرکے میچ ایک دفعہ پھر پاکستان کی طرف موڑ دیا۔

(اے ایف پی)

جوہانسبرگ میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف ٹی ٹوینٹی سیریز کا پہلا میچ سنسنی خیز انداز میں پاکستان نے چار وکٹ سے جیت لیا، میچ کا فیصلہ آخری اوور میں ہوا۔

تجربہ کار کھلاڑیوں سے محروم ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کے لیے پہلا میچ کسی بڑے نتیجے کا حامل تو نہ ہوسکا لیکن ناتجربہ کارکھلاڑیوں کے ساتھ پاکستان ٹیم کے مضبوط بولنگ اٹیک کے خلاف 188 رنز کا مجموعہ کسی بھی طرح کمزور بیٹنگ کا نمونہ نہیں تھا۔

اوپنر ایڈم مارکرم کپتان کلاسن اور بلجون کی شاندار بیٹنگ کے سبب اتنا بڑا سکور بن سکا۔

خاص طور سے مارکرم کی بیٹنگ سے لگتا تھا کہ ساؤتھ افریقہ 200 سے اوپر سکور کرلے گا تاہم ناتجربہ کاری کے باعث آخری اوورز میں مطلوبہ جارحیت نظر نہ آسکی اورسکور 188 تک محدود رہا۔

پاکستان کی طرف سے محمد نواز نے اچھی بولنگ کی اور سکور کو بہت زیادہ ہونے نہیں دیا۔

پاکستان کی بیٹنگ شروع میں ایک بار اس وقت پریشان ہوئی جب کپتان بابر اعظم جلدی آؤٹ ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ انہوں نے محمد رضوان کےساتھ 41 رنز کی رفاقت کی تھی  تاہم فخر زمان اور رضوان نے سکورنویں اوور میں 86 تک پہنچادیا جس سے پاکستان کی پوزیشن مضبوط نظر آتی تھی۔

ایسے میں تبریز شمسی نے پہلے فخر اور پھر محمد حفیظ کو آؤٹ کرکے اور پھر ہینڈرکس نے حیدر علی اورمحمد نواز کو آؤٹ کرکے میچ میں سنسنی پیدا کردی تھی۔

 ایسا لگتا تھا آج میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل جائے گا لیکن فہیم اشرف اور رضوان نے صورتحال کو سنبھالا اور 48 رنز کی پارٹنرشپ کرکے میچ ایک دفعہ پھر پاکستان کی طرف موڑ دیا۔

آخری اوور میں ساؤتھ افریقہ کے فیلڈرز دو آسان کیچ پکڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے اگر وہ کیچ پکڑ لیے جاتے تو نتیجہ بدل سکتا تھا۔ آخری اوور میں نو رنز چاہیے تھے تو فہیم اشرف آؤٹ ہوگئے۔

ایسے میں حسن علی کی ہٹنگ کام آگئی اور جب صرف ایک گیند باقی تھی تو پاکستان نے حسن علی کی بدولت میچ جیت لیا۔

محمد رضوان نے 74 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، انہیں مین آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔

پاکستان ٹیم نے میچ تو جیت لیا لیکن ایک کمزور اور ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف کارکردگی  کسی طرح شایان شان نہیں تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ