جنیوا معاہدہ: تاریخی کارنامہ یا تباہی کا پیش خیمہ؟

اگر جنیوا معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا تو عین ممکن تھا کہ افغانستان میں طالبان جنم ہی نہ لیتے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ زین نورانی (درمیان) 14 اپریل، 1988 کو جنیوا میں افغانستان سے سوویت فوج کے انخلا کے معاہدے کی دستاویز وصول کر رہے ہیں (اے ایف پی)

80 کی دہائی کے وسط میں افغانستان پر حملہ آور سوویت افواج کے خلاف افغان جنگجو مذہبی گروہوں کی گوریلا کارروائیاں اپنے عروج پر تھیں کہ ماسکو میں ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی۔

میخائل گورباچوف نے سوویت یونین میں طاقت کے اہم مرکز کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھال لیا، اگلے ہی سال 1986 میں چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ میں دھماکے ہوئے، ایٹمی تابکاری کے خدشات نے ملکوں کو لرزا دیا، دنیا بھر میں ایٹمی تنصیبات کے غیر محفوظ ہونے پر تحفظات کی آوازیں بلند ہوئیں۔

یونائیٹڈ سوویت سوشلسٹ رپبلک کے آٹھویں اور آخری صدر ثابت ہونے والے میخائل گورباچوف نے اپنی تمام تر توجہ کا مرکز داخلی استحکام کو بنا لیا اور گلاس ناسٹ (کھلے پن) اور پیریسٹروئکا (تعمیر نو) کی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہو گئے، انہوں نے امریکی صدر رونلڈ ریگن کے ساتھ ایٹمی پھیلاؤ کو محدود کرنے اور دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری سرد جنگ کو ختم کرنے پر اتفاق کر لیا۔

یہیں سے افغانستان میں روسی فوجی مداخلت کے اختتام اور افغانستان سے اپنی افواج کو واپس بلانے کی سوچ نے فروغ پانا شروع کر دیا۔ اقوامِ متحدہ کے متعلقہ ادارے 80 کی دہائی کے اوائل ہی سے اس سوچ پر کام کر رہے تھے۔ ماسکو کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بھی وزیر اعظم محمد خان جونیجو افغان جنگ کی عسکری ترجیحات سے لاتعلقی کا رجحان رکھتے تھے، لہٰذا ماسکو، واشنگٹن اور اسلام آباد میں رابطہ سازی کا آغاز ہوا، ماسکو نے کابل سے اپنی افواج کی پرامن واپسی کی راہ مانگی۔

14 اپریل 1988 وہ تاریخی دن تھا جب سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلا کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدہ چھ سال کی ان تھک کوششوں سے طے پایا تھا۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈ کوارٹرز میں پاکستانی معیاری وقت کے مطابق شام پانچ بجے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پیریز ڈیکویار کے زیر صدارت منعقدہ ہونے والی ایک تقریب میں پاکستان کی طرف سے وزیر مملکت برائے امور خارجہ زین نورانی اور کابل انتظامیہ کے وزیر خارجہ عبدالوکیل نے سمجھوتے پر دستخط کیے، جبکہ سوویت یونین کے وزیر خارجہ ایڈورڈ شیوارڈ ناڈزے اور امریکہ کے وزیر خارجہ جارج شلز نے بطور ضامن اور پیریز ڈیکویار نے بطور سیکریٹری جنرل، اقوام متحدہ کی طرف سے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

38 صفحات پر مشتمل اس تاریخی معاہدے میں پاکستان میں قیام پذیر افغان پناہ گزینوں کی رضا کارانہ واپسی، تین ماہ میں سوویت افواج کی 50 فیصد تعداد اور نو ماہ میں اس کا افغانستان سے مکمل انخلا طے پایا۔ معاہدے کے مطابق سوویت افواج کی واپسی کے عمل کا آغاز 15 مئی 1988 سے 15 فروری 1989 تک مکمل ہونا طے پایا۔

یہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان دوطرفہ باہمی معاہدہ تھا۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر اتفاق کیا۔ معاہدہ پر عمل درآمد کی نگرانی کا مینڈیٹ اقوام متحدہ کو دیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق کابل حکومت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے افغانستان میں وسیع بنیادوں پر نئی حکومت تشکیل دے کر اس میں ’مجاہدین‘ کی شرکت کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بدقسمتی سے جنیوا معاہدے پر دونوں ممالک نے من و عن عمل نہیں کیا۔ پاکستان میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت جنیوا معاہدے کی تکمیل کو اپنا تاریخی کارنامہ تصور کرتی تھی۔ انہوں نے مطلق العنان فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کی ہدایات کو رد کرتے ہوئے جنیوا معاہدے سے قبل آل پارٹیز کانفرنس بلا لی۔ تین روز تک وزیر اعظم ہاؤس میں جاری رہنے والی اس کانفرنس میں بے نظیر بھٹو، خان عبدالولی خان، رسول بخش پلیجو، مختلف بلوچ اور پختون قوم پرست رہنما شریک ہوئے اور کھل کر جنرل ضیاء الحق کے خلاف بولے۔ ان سب کی رائے اور حمایت حاصل کر کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اسے ’قومی اتفاق رائے‘ قرار دیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد وہ جنیوا روانہ ہوئے اور افغان امن معاہدے میں پاکستان کی شرائط شامل کروا کر اس پر دستخط کیے۔

کچھ سیاسی دانشور 29 مئی 1988 کو جنرل ضیا الحق کی طرف سے آئین کے ارٹیکل 58 (2) بی کے تحت جونیجو حکومت کی برطرفی کی سب سے اہم وجہ جنیوا معاہدے کو قرار دیتے ہیں۔ جنیوا معاہدے کو ایک معجزے سے تعبیر کرنے والے جنرل ضیا الحق دراصل اس معاہدے سے خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کا یہ ’تاریخی‘ جملہ بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے کہ ’کوئلے کی کان میں منہ دے کر ہم نے منہ ہی کالا کروایا ہے۔‘

اپنی بعض بنیادی خامیوں کے باعث جنیوا معاہدہ افغان مسئلے کا مکمل حل پیش نہیں کرتا تھا۔ اس معاہدے کے باوجود کچھ جہادی تنظیمیں نہ صرف افغانستان میں سرگرم عمل رہیں بلکہ جینوا معاہدے میں متبادل افغان حکومت کے قیام کو نظر انداز کرنے کے نتائج یوں نکلنا شروع ہوئے کہ روسی افواج کے خلاف مزاحم افغان جنگجو مجاہدین گروہوں کے درمیان پشتون اور شمالی اتحاد کے ازبک، تاجک گروہ متحد نہ ہو سکے۔

سوویت اتحادی افغان صدر محمد نجیب اللہ 1992 تک کابل کے حکمران رہے۔ ان کے بعد اقتدار افغان ’مجاہدین‘ کے ہاتھ آن لگا۔ 28 اپریل 1992 کو صبغتہ اللہ مجددی افغان صدر قرار پائے، بعد میں برہان الدین ربانی نے صدارت کا عہدہ سنبھالا، وزارتِ اعظمیٰ کے لیے اہم کمانڈر گلبدین حکمت یار کا نام 17 جون 1993 کو فائنل ہوا۔ انہی برسوں میں کابل پر طاقت و اختیار کی خوفناک محاذ آرائی نے اسے سوویت افواج کے لگائے دکھوں سے بھی زیادہ زخمی کر دیا۔

پشتون حکمت یار کے مخالف ازبک کمانڈر عبدالرشید دوستم اور تاجک کمانڈر احمد شاہ مسعود کی فوجوں کے درمیان خونریز تصادم ہوئے۔ حتیٰ کہ افغان شہر قندہار کے مضافات میں ملا محمد عمر نامی جنگجو ایک اتفاقی واقعے کے ردعمل میں اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے جنگجو مزاج کے افغان اس کے گروہ میں شامل ہوتے چلے گئے۔

سوویت افواج کے چھوڑے اسلحے سے ملک بھر میں مقامی وار لارڈز نے اپنی اپنی حاکمیت کے جھنڈے گاڑھ دیے اور افغانستان اپنی تاریخ کی شدید خانہ جنگی اور بحران کا شکار ہوا۔ جنیوا معاہدے پر عمل نہ ہونے کے باعث افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے تعلقات بھی بہتر نہیں ہو سکے۔ اگر جنیوا معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا تو عین ممکن تھا کہ افغانستان میں طالبان جنم ہی نہ لیتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ