فلمی مائیں اب صرف ’شوپیس‘ بن کر رہ گئی ہیں

ماں کے عالمی دن کے موقعے پر فلمی ماؤں کے کردار بدلتے ہوئے کردار پر ایک نظر۔

نروپا رائے جنہوں نے فلم ’دیوار‘ میں ماں کے کردار سے شہرت حاصل کی (تری مورتی فلمز)

’میرے پاس ماں ہے!‘ ششی کپور نے جب یہ مکالمہ فلم ’دیوار‘ میں امیتابھ بچن کے تابڑ توڑ سوالوں کے جواب میں ان کی جانب اچکایا تو سنیما ہال میں تالیوں، نعروں اور سیٹیوں کی گونج ایسی ہوئی کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دی۔ یہ چھوٹا سا مکالمہ تو سمجھیں ماؤں کی عظمت، محنت اور اعلیٰ مقام کی بھرپور عکاسی بن کر رہ گیا۔ جسے بعد میں کئی اور فلم رائٹرز نے اپنے اپنے انداز سے پردہ سیمیں پر پیش کیا۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بات کریں تو محمد علی کا بولا ہوا یہ ڈائیلاگ نہ صرف بےحد مشہور ہوا بلکہ بےتحاشا پیروڈی کا نشانہ بھی بنا، ’اماں، میں بے اے میں پاس ہو گیا ہوں!‘

 ہماری فلمی مائیں بھی بڑی عجیب و غریب ہوتی ہیں، جو اپنے لیے سکرین پلے رائٹرز سے صرف جہد مسلسل لکھوا کر آتی ہیں، جن کی قسمت میں دنیا جہاں کی ٹھوکریں، تکالیف اور دکھ جھیلنا ہی لکھا ہوتا۔ 70 اور80 کی دہائی میں تو فلمی ماؤں کا دوسرا نام دکھیاری، لاچار اور بے بس کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا کہ ہیرو بیٹا بس ’بابو‘ بن جائے۔ یہ مائیں کبھی لالہ، زمیندار، چوہدری اور کبھی کبھار عام افراد کے ہاتھوں ’جنسی ہراسانی‘ کا شکار ہوتیں، جن کی کسی بھی جگہ داد رسی نہ ہو پاتی لیکن یہ ایسی ثابت قدم رہتیں کہ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے سب سے پہلے گھبراتی نہیں تھیں۔

فلموں میں جس طرح ہیرو، ہیروئن اور ولن کا ہونا ضروری ہوتا، وہیں ان مفلسی اور بے چارگی کا پیکر ماؤں کا بھی، یہاں لاڈلے کا جنم نہیں ہوا، وہاں اِن ماؤں نے آنکھوں میں اس کے لیے خواب سجانے شروع کر دیے۔ اب ان سپنوں کو سچ کرنے کے چکر میں ہیرو سے زیادہ مائیں ایسی گھن چکر ہو جاتیں کہ کسی فیکٹری میں ریتی سیمنٹ کی تغاری سر پر لاد کر جھڑکیاں کھاتے ہوئے محنت مزدوری سے بھی باز نہ آتیں۔

فلمی رائٹرز ان بے چاریوں کو غربت کی چکی میں ایسا پیستے کہ ہر آنکھ نم ہو جاتی یا پھر کلیجہ منہ کو آتا۔ پتھر ڈھوتے ڈھوتے جب ان کے ہاتھ بھی سخت اور پتھر جیسے ہو جاتے تو ہمارے ہیرو کا دل پسیج جاتا۔ وہ ایک شانِ بےنیازی سے کہتا کہ ’دیکھنا ماں، سارے زمانے کی خوشیاں ترے قدموں پر لا کر رکھ دوں گا۔ ‘ اب اس آزمائش کو پورا کرنے کے لیے کبھی وہ جرم کی راہ پر چلتا تو کبھی سچائی کی لیکن ہرلمحے کوئی نہ کوئی ڈرامائی موڑ ضرور آتا۔

ان فلمی ماؤں کے لیے یہ بھی لازم ہوتا کہ ان کا بخار میں تپنا اور کھانسی کا بار بار آنا اس بات کی گواہی دیتا کہ وہ واقعی اپنی پروا نہیں کرتیں۔ خاص طور پر ٹی بی ان ماؤں کا پسندیدہ ترین مرض ہوتا۔ ہماری عام زندگیوں کی طرح یہ مائیں بھی مہنگائی کے ہاتھوں ایسی مجبور ہوتیں کہ ایک وقت کی خوراک لینا بھی ان کے لیے دو بھر ہو جاتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہیرو کو اس بخار کا علم ہوتا تواس کے لیے تو یہ ’بریکنگ نیوز‘ بن جاتی۔ جبھی وہ تڑپ کر کہہ اٹھتا کہ ’ماں تجھے بخار ہو رہا ہے، تو نے دوائی کھائی تھی؟‘ اور ہماری فلمی مائیں اپنی سفید پوشی کا بھرم بیٹے کے سامنے رکھتے ہوئے جھوٹ کا سہارا لیتیں۔

فلمی ماؤں کو رائٹرز اس بات کا پابند بھی کرتے کہ وہ کپڑے سی سی کر بچوں کی پرورش کریں۔ اب یہ اور بات ہے کہ ان کے سلے ہوئے کپڑے کبھی بھی کسی بھی فلم میں کوئی پہنے ہوئے نظر نہیں آتا۔ جائیداد پر کوئی قریبی رشتے دار جیسے دیور، جیٹھ یا پھر شوہر کا دوست قبضہ کرکے بیٹھ جاتا۔ ہیرو کو تو کلائمکس میں بتایا جاتا کہ دراصل وہ ’گدڑی کا لال‘ تھا۔ بعض دفعہ شوہر یا تو کثرت مے نوشی کی وجہ سے ناکارہ ہوتا یا پھر عین جوانی میں ولن کی مہربانی سے دنیا چھوڑ کر اپنے پیچھے کہانی کے اعتبار سے پریشانیاں ہی پریشانیاں چھوڑ جاتا۔ جبھی بے چاری مائیں کبھی کسی فیکٹری میں، کارخانے میں، گھر میں یا پھر سر راہ کوئی چیز فروخت کرکے پاپی پیٹ کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتیں۔

سمجھ نہیں آتا تھا کہ نجانے کیوں فلم رائٹرز کو ہمیشہ ماں کو بھوکا رکھ کر کون سی تسکین ملتی تھی، جو اپنے حصے کا کھانا تک بچوں کو پیش کر دیتیں لیکن کیمرا مین سے خالی برتن کو ’فوکس‘ کروا کے یہ باور کرا دیتیں کہ انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔ جس طرح پیدائش کے بعد سے ہیرو کے بہتر مستقبل کے لیے ارمان جاگ اٹھتے ہیں، وہیں چاند سی بہو کے لیے دل مچلتا رہتا ہے۔ عام طور پر بچے کے جوان بننے کا سفر فلمی ماؤں کے لیے سائیکل کا پہیہ یا پھر سلائی مشین کی فر فر بھگاتی سوئی انجام دیتی۔

کبھی کبھار یہ فلمی مائیں اصل زندگی میں فلمی بیٹے کی عمر کی بھی ہوتیں اور جب وہ پاس ہونے یا نوکری ملنے کی صدا لگاتا تو سمجھیں جیسے ان کے دکھ و درد پل بھر میں دور ہونے کی نوید مل جاتی۔ ایسے میں ماؤں کی آنکھوں میں تاروں کی طرح آنسوؤں کی لڑیاں جھلمانے لگتیں جو ہیرو سے اوجھل نہ رہتے، دریافت کرنے پر مائیں تاریخی جملہ ادا کرتیں کہ ’چل پگلے یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔‘

ایسے موقعوں پر ماؤں کو فلم کے پہلے ہاف میں غائب ہونے والے بیٹے کے ’ابا جی‘ کی یاد بھی ضرور ستاتی۔

فلمی ماؤں کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ بچوں کو میلے لے جائیں اور ایسی لاپروائی کا مظاہرہ کریں کہ وہ کسی طرح کھو جائیں۔ ویسے ان دنوں تو بھارت میں کمبھ کا میلہ کرونا وبا کی وجہ سے تنقید کے نرغے میں ہے لیکن ماضی کی فلموں میں یہی میلہ بچھڑنے کے لیے محبوب مقام تصور کیا جاتا۔ اب مسئلہ یہ ہوتا کہ جوان ہو کر بچہ کیسے ماں، بہن اور بھائیوں سے ملے تو اس مقصد کو پانے کے لیے رائٹر حضرات کوئی پیدائشی نشان، کوئی علامتی گانا یا پھر کوئی اہم چیز ان گم شدہ بچوں کے لیے الگ سے رکھ کر چھوڑ دیتے، جو کسی نہ کسی طرح میل ملاپ کا ذریعہ بن جاتی۔

یہ بات نہیں کہ مائیں، کامنی کوشل، نروپارائے یا ریما لاگو، فرید ہ جلال، کرن کھیر، یا پھر راکھی جیسی صرف نرم دل اور حلیم طبیعت کی ہی ہوتیں۔ کچھ مائیں جب ساس کا روپ دھارتیں تو ان کے رنگ و ڈھنگ دیکھ کر ہی بے چاری بہو لرز اٹھتی، جو ہر موقعے پر ان گھریلو بہوؤں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ماہر ہوتیں۔

زیادہ تر اس سخت گیر ماؤں اور بہو کے اتحاد کا شیرازہ بکھیرنے کی اہم وجہ اولا د نرینہ ہوتی جس کے لیے وہ بیٹے کی شادی کے دوسرے دن سے ہی سوئٹر بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ بعض دفعہ امیری غریبی کا فرق بھی دلوں میں نفرت لے آتا ہے۔ جبھی تو اٹھتے بیٹھتے ان جلاد ماؤں کی سگھڑ بہوؤں کو جلی کٹی سننے کو ملتی۔ یہ سفاک مائیں یہاں تک اعلان کر دیتیں کہ وہ بیٹے کے سر پر دوسری بار سہرہ سجانے کی بھی تیاری کررہی ہیں۔ بھارتی فلموں کی ان بے رحم ماؤں کے لیے للیتا پوار، منورما، بندو ، ششی کلا یا پھر ارونا ایرانی کا انتخاب کیا جاتا تو پاکستان میں تمنا اور تانی بیگم یہ کسر پوری کر دیتیں۔ بات کی جائے چھوٹی سکرین کی تو جناب عشرت ہاشمی، عرش منیر، عذرا شیروانی اور بیگم خورشید شاہد کو بھلا کون فراموش کرسکتا ہے۔

فلمی ماؤں کے مقدر میں یہ بھی لکھا ہوتا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ خود کو اغوا سے نہیں بچا سکتیں۔ مغوی ماؤں پر ولن صاحب ظلم وستم ڈھاتے ہیں، جائیداد ولن کے نام نہ کرنے کے فیصلے پر مائیں بھی چٹان کی طرح اٹل رہتیں، ولن کی کوئی دھونس دھمکی کو خاطر میں نہ لاتیں۔ رسیوں سے جکڑی ماؤں کی صدائیں سن کر کوسوں دور بیٹھا ہیرو ’سگنل‘ ملتے ہی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی بازیابی کے لیے جان پر کھیل جاتا۔ لالی وڈ میں تو یہ کام سلطان راہی اور بہار بیگم کئی بار کرچکے ہیں ۔ بیٹی کے ساتھ ولن کی قید میں ماں کی پاٹ دار للکار پر سلطان راہی کے حاضر ہونے پر سنیما ہال میں تو تالیاں ہی تالیاں بجتیں۔

اسی طرح ولن کے پستول سے نکلی ہوئی گولی اڑتی ہوئی جب ہیرو کے دل کو پار کرنے کو ہوتی تو یہ مائیں ہی ہوتیں جو اُس وقت دیوار بن جاتیں اور اپنی جان کا نذرانہ دیتے ہوئے ہیرو بیٹے کو بچا لیتیں۔ ہاں یہ ضرور ہوتا کہ آخری سانس لینے سے پہلے وہ یہ راز ضرور افشا کرتی جاتیں کہ ہیرو کے کتنے اور بھائی بہن اس سوسائٹی میں گھوم پھر رہے ہیں۔

بلکہ بعض دفعہ تو یہ بھی معلوم ہوجاتا کہ جو ولن کے جرم کا شراکت دار ہے، وہ بھی اس کا بھائی ہے یا پھر کلائمکس میں خود ماں پر اس بات کا بھی پردہ اٹھتا کہ اس کے بیٹے کا جگری دوست دراصل اُس کا کھویا ہوا لاڈلا ہے۔ اب ماں چاہے مجرم کی ہو یا شہزادے کی، اس کے جذبات اور احساسات اولاد کے لیے محبت اور خلوص کی چاشنی سے بھرے ہوتے۔ اگر ہیرو راہ سے بھٹکتا تو اپنے لخت جگر کو پل بھر میں موت کی آغوش میں سلانے میں دیر نہیں کرتیں جبھی انہیں ’مدر انڈیا‘ جیسا ٹائٹل بھی مل جاتا۔

ماضی کی فلموں میں ماں کے بغیر کوئی کہانی تخلیق نہیں کی جاتی تھی بلکہ مرکزی کردار کی سی حیثیت ہوتی لیکن پھر دھیرے دھیرے فلموں سے ماں کے کردار کو غائب کر دیا گیا۔ یہ نہیں کہ اب فلموں میں یہ ہستی نہیں ہوتی، بس اس کا اب یہ کردار رہ گیا ہے کہ وہ ہیروئن یا ہیرو صاحب کی شادی کے موقعے پر رقص کرتی نظر آتی ہے یا بہت ہوا تو زمانے کا ستایا ہوا ہیروئن یا ہیرو اس کی گود میں سر رکھ کر زندگی اور سماج کی ناانصافی اور بے رخی کی سسکیاں لے رہے ہوتے ہیں۔

تو پھر کل ملا کر یہ سمجھیں کہ ماضی کا یہ مضبوط اور اہم کردار اب صرف شو پیس بن کر رہ گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ