چاغی کی ابتدا دراصل پوکھران میں ہوئی

بھارت نے 1974 میں پہلی بار پوکھران میں ایٹمی تجربہ کیا، جس کے بعد پاکستان نے بھی ایسا کرنے کی ٹھانی اور بالآخر 28 مئی، 1998 کو چاغی میں دھماکے کر کے چھٹا ایٹمی ملک بن گیا۔

پاکستان نے 28 مئی، 1998 کو چاغی میں ایٹمی دھماکے کیے تھے (تصویر پی ٹی وی)

مئی کا مہینہ دونوں ایٹمی ہمسائے ممالک بھارت اور پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں کے لیے اس مہینے کی افادیت ایٹمی تجربات ہیں۔

بھارت میں ہر سال 11 مئی کو ’نیشنل ٹیکنالوجی ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں 28 مئی کو ’یوم تکبیر‘ منایا جاتا ہے۔ 

11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت نے ریاست راجستھان کے ریگستانی ضلعے جیسلمر کے ایک دور افتادہ پوکھران نامی علاقے میں دوسری بار ایٹمی ٹیسٹ کیے۔

اس سے پہلے 14 مئی، 1974 میں پہلی بار ایٹمی تجربات کیے گئے تھے جن کو پوکھران اول کہا جاتا ہے۔

پوکھران اول کا کوڈ نام ’سمائیلنگ بدھا‘ (مسکراتا بدھ) تھا اور دوم کا ’آپریشن شکتی۔‘ بھارت نے ایٹمی تجربات (پوکھران اول اور پوکھران دوم) مئی کے مہینے میں ہی کیے۔ 

پوکھران اول کے بعد پاکستان نے بھی ایٹمی ملک بننے کی ٹھان لی اور بالآخر 28 مئی کو دنیا کے سامنے چھٹا ایٹمی ملک بن کے ابھرا۔

آپریشن شکتی کے ٹھیک 18 دن بعد یعنیٰ 28 مئی کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے پہاڑوں میں پانچ دھماکے کر کے پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ اس کو چاغی اول کا کوڈ نام دیا گیا۔ چاغی دوم 30 مئی کے دھماکے کا کوڈ ہے۔ 

بھارت کا سرکاری موقف رہا ہے کہ یہ ایٹمی تجربے قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے اور ان کا دوسرے ممالک سے کچھ لینا دینا نہیں۔

تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ اس کے لیے بھارت کے جواب میں خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا لازمی ہو چکا تھا۔ 

ایٹمی تجربات کے بعد دونوں ممالک کی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی گولہ باری بھی کی لیکن جلد ہی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔

اسی سال ستمبر میں دونوں طرف سے دوستی و امن وامان قائم رکھنے کا مکمل اعادہ کیا گیا۔ اچانک سے دشمنی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔

اس دوستی کی اہم وجہ عالمی دنیا کی طرف سے دونوں ممالک پر معاشی پابندیاں عائد کرنا تھا۔

پوکھران دوم اور چاغی اول و چاغی دوم کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چھ جون کو ایک ریزولیوشن زیر نمبر 1172 پاس کی جس کا مقصد بھارت اور پاکستان کو مزید ایٹمی تجربات کرنے سے روکنا تھا۔

1998 کے دھماکوں کے بعد دونوں جانب سے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جانے لگا۔ 19 فروری، 1998 کو اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کی دعوت پر پاکستان تشریف لے گئے۔

یہ بڑا ہی دلکش منظر تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ 1960 میں جنرل ایوب اور پنڈت جواہر لال نہرو کے درمیان کراچی میں سندھ طاس معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے جو اب بھی قائم ہے۔

اس کے علاوہ بھی براہ راست بات چیت ہوتی رہی تھیں، مثلاً تاشقند معاہدہ اور شملہ معاہدہ وغیرہ۔

لیکن واجپائی کا دورہ پاکستان اس لیے سے بقیہ دوروں سے منفرد ہے کہ یہ دونوں جانب سے ایٹمی تجربات کے فوراً بعد ہوا۔

ظاہر ہے ایٹمی ملک بن کر دونوں ممالک ایک دوسرے کو اپنی طاقت بھی دکھا رہے تھے اور سیاسی دھمکیوں کا سلسلہ بھی چل رہا تھا لیکن اس کے باوجود دوستی کا یہ قدم مثالی تھا۔

واجپائی بھارت کے پہلے اور آخری وزیر اعظم تھے جنہوں نے مینار پاکستان کا دورہ کیا۔ کسی ملک کے ہیڈ آف دی سٹیٹ کا مینار پاکستان جانے کا مطلب ہے وہ پاکستان کو تسلیم کرتا ہے۔

’واجپائی پاکستان سے الیکشن لڑیں تو جیت جائیں گے‘

واجپائی نے کہا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے اس کو میرے سمیت کسی دوسرے کی ضرورت نہیں کہ وہ تسلیم کرے یا نہ کرے۔

یہاں یہ ذہن نشین رکھنا بہت ضروری ہے کہ مرحوم واجپائی کا تعلق بھارت میں موجودہ برسر اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا۔

یہ پارٹی بہت سارے معاملات میں انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے نظریات کی پیروی کرتی ہے۔

آر ایس ایس کا ایک نظریہ اکھنڈ بھارت بھی ہے گو کہ بی جے پی نے کھلے عام اس کی حمایت نہیں کی۔ کٹر نظریات والی جماعت سے تعلق والے واجپائی کا پاکستان کے تئیں مؤقف اور کشمیر کے حل میں گہری دلچسپی اپنی مثال آپ تھا۔

واجپائی کی لاہور میں تقریر اتنی موثر اور دل پذیر رہی کہ ان کی تقریر کے بعد نواز شریف نے کہا تھا کہ اب اگر واجپائی صاحب پاکستان میں بھی الیکشن لڑیں تو یقیناً جیت جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی بس سروس (دہلی تا لاہور) بھی چلائی گئی بلکہ خود واجپقئی بھی اسی بس سے واہگہ اٹاری سرحد سے لاہور گئے تھے۔ اس کے بعد 21 فروری، 1999 کو لاہور ڈیکلریشن پر دستخط ہوئے۔

لاہور ڈیکلریشن کو بھارت اور پاکستان کی زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے بھی سراہا۔ دونوں اطراف کی عوام میں بھی ایک نیا جوش و ولولہ تھا لیکن اس کے بعد کارگل واقعہ ہو گیا۔

مشرف نے دو تہائی اکثریت سے منتخب جمہوری حکومت کو گرا کر مارشل لا نافذ کر دیا۔ اگر پاکستان میں سویلین حکومت قائم رہتی تو شاید آج دونوں ممالک کے درمیان حالات کچھ مختلف ہوتے۔

مشرف کے اس اقدام سے بھارت میں اعتماد کی جو فضا بحال ہوئی اس کو 240 وولٹ کا جھٹکا لگ گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ دوست اور دشمن بدلتے رہتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں۔ بھارت اور پاکستان خطے کے دو اہم پڑوسی ہیں۔ ایٹمی صلاحیت کی وجہ سے دونوں کے درمیان 65 یا 71 جیسی جنگ کے خدشات کم ہیں۔

غریبی، کرپشن، بے روزگاری اور موسمیاتی تبدیلی وغیرہ دونوں کے مشترکہ ایشو ہیں۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ 1999 کی طرح دونوں ممالک کے درمیان گرم جوشی کا ہاتھ بڑھے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ