جرمنی کی ’ماں‘ انگیلا میرکل کا سیاسی سفر اختتام کے قریب

میرکل نے 16 برس تک قیادت کے دوران بہت سے بحرانوں کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے حل نکالا جس کے لیے انہیں پوری دنیا میں سراہا گیا۔ تاہم ناقدین اس خلا کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہی ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل 30 اگست کو گرین پیس کی 50 ویں سالگرہ کے موقعے پر تقریر کرتے ہوئے (اے ایف پی)

اپنے مرد حریفوں کو چاروں شانے چت کرنے والی اور خوشحالی سے بھرپور 16 برسوں تک جرمنی پر حکومت کرنے والی انگیلا میرکل اگلے ماہ پارلیمانی انتخابات کے بعد عہدہ چھوڑ کر دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی مرضی سے حکمرانی کو خیر باد کہنے والی پہلی چانسلر بن جائیں گی۔

میرکل کی پرسکون قیادت، طویل مدت حکمرانی اور بیرون ملک قدآور شخصیت کے طور پر پہچان نے ممکن ہے جرمنی کا بیرون ملک مثبت تاثر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہو لیکن اپنا جانشین تیار کرنے میں ان کی ناکافی اور قدامت پسند کرسچین ڈیموکریٹس کو مرکزی سیاسی دھارے میں نمایاں حیثیت دینے سے ملکی سطح پر ان کی جماعت بہت کمزور ہوئی ہے جس کے بعد اب ممکنہ طور پر کامیابی پر پانی پھیرنے والے قدامت پسند ستمبر میں انتخابات کے بعد حزب اختلاف کے بنچوں پر بیٹھے ہوں گے۔

کوانٹم کیمسٹری میں سابق کمیونسٹ ملک مشرقی جرمنی سے پی ایچ ڈی کرنے والی مضبوط اعصاب کی تجربہ کار سائنس دان 2008 کے عالمی مالی بحران سے لے کر یونانی قرضہ جات اور یورو زون کے بحران سمیت 2015 کے پناہ گزینوں کے بحران اور برطانیہ کے ’بریگزٹ‘ جیسے پیچیدہ مسائل کے ایک طویل سلسلے میں یورپی یونین اور براعظم کے ایک اہم ترین ملک کی رہنمائی کرتے ہوئے ہمیشہ سکون کی علامت رہیں۔

گذشتہ ماہ 67 برس کی ہونے والی میرکل نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلسل چار سال تک جرمنی، یورپی یونین اور نیٹو پر طنزیہ حملوں کا مشتعل ہوئے بغیر نہایت جرات مندی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

برلن سے عالمی سیاسی امور کے ماہر جولیئس وان ڈر لار کہتے ہیں ’انہیں آزاد دنیا کی رہنما قرار دیا جا چکا ہے اور میں دلیل سے یہ بات کہوں گا کہ وہ نہایت کامیاب حکمران ثابت ہوئیں۔

’جرمنی کے باشندے کچھ عرصے بعد ان کے بارے میں یاد رکھیں گے کہ بہت مشکل وقت تھا جب وہ جرمنی اور اپنے آپ کو نہایت مہارت سے مختلف بحرانوں میں سے نکال لے گئیں۔ وہ نہایت زیرک سیاستدان اور بدلتے ہوئے عوامی مزاج کو سمجھنے کی حیران کن صلاحیت رکھتی ہیں۔‘

میرکل خاموشی سے کسی بھی جگہ ہمیشہ اپنے ہم منصبوں یا سامعین کو تنقیدی نگاہ سے فوری طور پر جانچ لینے کا حیران کن ملکہ رکھتی ہیں۔

ان کے مشتعل ہو کر ردعمل ظاہر کرنے کا ایک بھی واقعہ معلوم نہیں اور شاید ہی کبھی انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہو، پرامن جرمنوں نے اپنی گہری محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسلسل چار بار منتخب کیا جس میں پہلی بار انہوں نے 2005 میں اس وقت کے حکمران سوشل ڈیموکریٹک گیرہارڈ شروئڈر کو شکست دی تھی۔

انہیں محبت سے ’متی‘ ’ Mutti‘ کہا جانے لگا  جس کا مطلب ہے ’ماں،‘ جو ایک پرسکون اور قابل اعتماد سایہ ہے، جو ہر کسی کو نہیں کہا جا سکتا۔

اپنی چار باریوں کی حکومت اور 55 وزرا میں سے انہوں نے صرف ایک بار ایک وزیر کو خود غرضی پر مبنی سرکش رویے کی وجہ سے فارغ کیا۔

پرسکون رویہ اپنائے رکھنے کی توجیہات میں سے ان کی پسندیدہ ترین یہ تھی کہ ’زور سے دیوار میں سر مارنے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا بلکہ ہمیشہ دیوار جیت جائے گی۔‘

’زور سے دیوار میں سر مارنے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا بلکہ ہر بار دیوار ہی جیتے گی۔‘

گذشتہ کچھ عرصہ یورپی یونین کے لیے بہت ہنگامہ خیز رہا جس میں ان کی رہنمائی نے اسے مشکلات سے نمٹنے میں بہت مدد کی۔

ان کے عہدہ سنبھالتے ہی یورپی یونین اپنا حجم 15 ارکان سے 28 کی صورت میں دگنا کر رہا تھا اور اس کے بعد اسے عالمی دہشت گردی، پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد، یورو زون قرضہ جاتی بحران اور ان کے اپنے ملک سمیت دیگر کئی ممالک میں سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں کے قوت پکڑنے جیسے چیلنجز درپیش تھے۔

وہ مغرب کی لبرل اقدار کی دفاعی فصیل تھیں جو شاید ہی کبھی لڑکھڑائی جب کبھی روسی صدر ولادی میر پوتن کی بڑھتی ہوئی جارحیت یا چین کے پھیلتے اثر و رسوخ کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت درپیش ہو۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم جرمن مارشل فنڈ سے وابستہ سینیئر فیلو جیکسن جینز کہتے ہیں کہ ’میرکل کا طریقہ کار بحران حل کرنے کے لیے انتہائی مفید تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں بات چیت کا راستہ کھلا رکھو۔

’جہاں تک ممکن ہو حالات اس نہج پر پہنچنے ہی نہ دو جہاں وہ اختیار سے باہر ہو جائیں۔ یوکرائن کے معاملے پر مذاکرات اور پابندیاں انہوں نے پوتن کے ساتھ مل کر طے کیں۔

’انہوں نے آہستہ آہستہ جرمنی کو یورپین پارٹنرز کی مالی معاونت کے راستے پر ڈالا، بریگزیٹ سے نبٹنے اور اسے یورپی یونین کے دیگر ممالک کو اختیار کرنے سے روکنے میں مدد کی اور انہوں نے پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولیں۔

’وہ چار نہایت مختلف قسم کے امریکی صدور سے بہترین معاملہ بندی میں کامیاب رہیں۔‘

ایک ایسا براعظم جو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے 75 برس بعد بھی جرمنی کی شوخ مزاج طاقتور قیادت سے چوکنا رہتا ہے وہاں میرکل نے ’پس پردہ رہتے ہوئے قیادت کرنے‘ کا انوکھا جرمن انداز اپنایا جن پر سبھی کو پوری طرح سے اعتماد رہا۔

اپنے ملک میں اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ان پر لازم تھا کہ وہ بجٹ کے نظم و ضبط اور مالی کفایت شعاری پر سختی سے ڈٹی رہیں لیکن اسی چیز نے انہیں یونان، اٹلی اور سپین جیسے ممالک میں ولن بنا دیا۔

جرمنی اور دیگر شمالی ممالک کی جانب سے یورپین سینٹرل بینک اور یورپی یونین اداروں کے مقرر کردہ کڑے پیمانوں پر جنوبی یورپی ممالک کے لیے پورا اترنا کافی مشکل ثابت ہوا۔

ماضی میں یورپی یونین کے خودساختہ ’کم ترقی یافتہ ممالک‘ پر فضول دولت خرچ کرنے سے قرضہ جاتی بحران نے سر اٹھایا اور جو بالآخر یورو زون کے بڑے بحران میں تبدیل ہو گیا۔

2015 میں تباہی کے دہانے پر پہنچنے کے بعد یورپی یونین کی ایک کرنسی برقرار رکھنے میں ان کے بنیادی کردار کو اہم ترین کارناموں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے اگرچہ اپنے ملک میں انہوں قدامت پسند ووٹروں اور اتحادیوں کی حمایت میں کمی برداشت کرنا پڑی جن کے نزدیک یونان اور اٹلی جیسے بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک کا چھوڑ جانا بہتر تھا۔

انہوں نے اس بحران کو یورپی یونین کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا: ’اگر یورو نہیں چل سکا تو یورپ بھی نہیں چل پائے گا۔‘

روس کے 2014 میں کرایمیا کو ضم کرنے اور روس نواز باغیوں کے ڈونیتسک اور لوہانسک پر قبضے کے بعد میرکل نے اپنے قائدانہ کردار کی بدولت پوری دنیا سے خوب داد سمیٹی۔

پوتن سے اہم مذاکرات کرتے ہوئے انہوں نے روسی صدر کے خلاف یورپ کے متحدہ محاذ کی قیادت کی۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی زبانیں بول سکتے تھے اور ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تبادلہ خیال کیا۔

میرکل نے اپنی کم عمری کے دور میں روسی زبان سیکھی اور وہ ماسکو میں کچھ عرصہ قیام پذیر رہیں۔

بچپن میں کتے کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد اس سے خوف زدہ رہنے والی میرکل کو ایک بار پوتن تقریباً مشتعل کرنے کامیاب ہو گئے تھے۔

ممکنہ طور پر اس حقیقت سے آگاہ پوتن سوچی میں اپنی رہائش گاہ پر 2007 کی گرمیوں کے دوران میرکل کے ساتھ ملاقات میں اپنی دیوقامت سیاہ رنگ کی لیبراڈور ’کونی‘ کو بھی لے آئے۔

جب کتیا نے میرکل کو سونگھا تو اس وقت جان بوجھ کر لاعلمی کا ڈراما کرتے ہوئے یا واقعی اس حقیقت سے نابلد پوتن نے پوچھا  ’کتیا آپ کی پریشانی کا باعث تو نہیں بنی، کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ خوشگوار کتیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ تمیز سے کام لے گی۔‘

میرکل نے روسی زبان میں ہی پوتن کو ان کتوں کا لطیفہ سنایا جو صحافیوں کا شکار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بعد میں پوتن نے معذرت کرتے ہوئے کہا وہ ان کے خوف سے آگاہ نہ تھے۔

میرکل نے بعد میں کہا ’میرا خیال ہے روسی صدر پوری طرح واقف تھے کہ میں ان کے کتے سے ملنے کے لیے مشتاق نہیں۔ بہرحال وہ اپنے ساتھ لے آئے۔‘

شاید کسی بھی دوسری بات سے زیادہ میرکل 2015 میں شمالی سمت شام، افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے یورپ میں آنے والے 15 لاکھ مہاجرین کے لیے اپنے ملک کی سرحدیں کھولنے کے دلیرانہ فیصلے کی وجہ سے یاد رکھی جائیں گی جسے ان کے سیاسی مخالفین عاقبت نااندیشی پر مبنی قدم قرار دیتے ہیں۔

یہ انسان دوست کا ایک اعلیٰ عمل تھا جس نے جرمنی اور یورپی یونین کا سیاسی منظرنامہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔

تاریخ دانوں کے مطابق ایک سال سے بھی کم عرصے میں برطانیہ کے یورپی یونین سے ’بریگزیٹ‘ کے فیصلے میں شاید دیگر فیصلہ کن عوامل میں سے ایک یہ بھی ہو۔

میرکل کے تاریخی فیصلے کا سب سے پہلے خیرمقدم کئی ملین جرمن شہریوں نے کیا جو مہاجرین کے استقبال کے لیے ٹرین سٹیشنوں پر اشیائے خوردونوش، کمبل اور حتیٰ کہ بچوں کے کھلونے لے کر پہنچ گئے۔ اس فیصلے کی شروع میں کئی یورپی ممالک نے بھی تعریف اور حمایت کی۔

اس کے باوجود میرکل کی بے لوث ’کھلے دروازوں‘ والی پالیسیاں بہت جلد نہ صرف ان کے ملک بلکہ ان کی قدامت پسند جماعت کرسچین ڈیموکریٹ اور یورپی یونین کے کئی ممالک بالخصوص مشرقی یورپ کے علاقوں میں گہرے اختلافات کا باعث بن گئیں جنہوں نے مہاجرین کا بوجھ بانٹنے سے انکار کر دیا۔

جرمنی میں 2014 کے دوران میرکل کی یونان سے تعاون کی کوششوں کے خلاف یورپی یونین کی مخالف جماعت کے طور پر وجود میں آنے والی دائیں بازو کی سخت گیر جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) اور یورپ بھر میں عوامی جذبات کے گرد گھومنے والی تحریکوں میں 2015 کے سرحدوں پر سے غیر ضروری قدغنیں ہٹانے اور مہاجرین کی بڑی تعداد کو اندر آنے کی اجازت دینے کے فیصلے سے دوبارہ جان پڑ گئی۔

گذشتہ سات برس سے اے ایف ڈی میرکل کی جماعت کے کٹر دائیں بازو کے افراد سے مالی امداد حاصل کر رہی ہے۔

برلن کے مقام پر ’ہم اسے سنبھال سکتے ہیں‘ کے نام سے مشہور ہونے والی اپنی تقریر میں میرکل نے کہا، ’جرمنی ایک مضبوط ملک ہے۔ ان مسائل سے نبٹتے ہوئے ہمیں جس چیز سے تحریک حاصل کرنی چاہیے وہ ہے کہ ہم نے ماضی میں بہت کچھ سنبھالا ہے۔ ہم اسے بھی سنبھال سکتے ہیں۔‘

ملک میں روزانہ کی بنیاد پر دس ہزار مہاجرین داخل ہوتے رہے اور ان کے سرحدیں کھولنے کے فیصلے پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

ان مسائل کی وجہ سے میرکل کی قدامت پسند جماعت کو ملک بھر سے حمایت میں بتدریج کمی کا سامنا رہا۔

ان کی قدامت پسند جماعت نے 2005 میں ان کی پہلی فتح کے دوران 35 فیصد ووٹ حاصل کیے جو 2017 میں کم ہو کر 32 فیصد رہ گئے۔

26 ستمبر کو ہونے والے انتخابات سے پہلے ان کی حمایت محض 22 فیصد کی معمولی سطح پر آ گئی ہے جہاں اب گرینز، سوشل ڈیموکریٹس اور فری ڈیموکریٹس پر مشتمل بائیں بازو کا تین جماعتی اتحاد واضح طور پر فتح سے ہمکنار ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

قدامت پسندوں کے تابوت میں آخری کیل ان کے کمزور اور غیر مقبول امیدوار آرمن لاشیٹ ثابت ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میرکل نے گذشتہ برسوں کے دوران درجنوں مدمقابل مرد امیدوار کا نہایت مہارت سے راستہ روکا، ایک طویل فہرست کا سیاسی طور پر پتہ صاف کر دیا جو ممکنہ طور پر ان کے جانشین ہو سکتے تھے لیکن اب ان کی جماعت کا بظاہر کوئی وارث نہیں بچا۔

ان کے بعد ان کی جگہ لینے کے لیے ایک اور خاتون وزیر دفاع کرامپ کارینبار تھیں جنہیں نے مسلسل بھیانک غلطیاں کرنے کے بعد گذشتہ برس جماعت کی قیادت سے استعفیٰ دے دیا۔

ابھی تک اپنی برقرار مقبولیت کے باوجود میرکل نے لاشیٹ کے لیے انتخابی مہم نہیں چلائی اور ابھی تک شیڈول کے مطابق وہ وزیراعظم کے ساتھ محض نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں جلوہ گر ہوں گی۔

اوباما کی انتخابی مہموں پر تحقیق کرنے والے وانڈر لار کہتے ہیں ’وہ طاقت کے کھیل کی انتہائی موثر کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی جماعت پر بہت مضبوط گرفت رکھی۔

’انہیں اپنے لیے کوئی بھی شخص اگر ذرا سا خطرہ بنتا محسوس ہوتا تو وہ اسے یورپی یونین کی طرف برسلز میں بھیج دیتیں یا جرمنی میں ہی اسے ایک یا دو درجے نچلے عہدے پر لے آتیں۔

’لیکن اب یہ بات بہت واضح ہے کہ پارٹی میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو ان کی جگہ لے سکے۔ یہ ان کی جماعت کے لیے مسئلہ بننے جا رہا ہے۔‘ یہ بھی ان کی چھوڑی ہوئی وراثت کا حصہ ہو گا۔  

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر