طالبان ڈیڈلائن کے بعد بھی افغانوں کو انخلا کی اجازت دینے پر رضامند: جرمنی

جرمنی کے سفیر مارکس پوٹزل کے مطابق طالبان کے ڈپٹی چیف مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کو 31 اگست کے بعد کمرشل پروازوں پر سفر کرنے کا موقع ملتا رہے گا۔

25 اگست 2021 کی اس تصویر میں امریکی ریاست ورجینیا میں کابل سے آنے والے افغان شہری اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پناہ گزینوں کے سینٹر کی طرف جارہے ہیں۔امریکی صدر کی جانب سے 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد سے کابل ایئرپورٹ پر موجود افغانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

جرمنی نے بدھ کو کہا کہ اسے ایک طالبان مذاکرات کار کی طرف سے یقین دہانی ملی ہے کہ 31 اگست کو امریکی انخلا کے بعد بھی ان افغان شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، جن کے پاس درست دستاویزات ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمنی کے سفیر مارکس پوٹزل نے ٹوئٹر پر بتایا کہ انہوں نے طالبان کے ڈپٹی چیف مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات کی، جنہوں نے ’مجھے یقین دلایا کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کو 31 اگست کے بعد کمرشل پروازوں پر سفر کرنے کا موقع ملتا رہے گا۔‘

اس سے قبل جرمنی نے کہا تھا کہ نیٹو اتحادیوں کی طرف سے افغان شہریوں کے انخلا کے لیے کیا جانے والا موجودہ فوجی آپریشن امریکیوں کے انخلا کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔

لیکن جرمنی اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ غیر محفوظ افغانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں یا جرمن ایجنسیوں کے سابق مقامی ملازمین کو 31 اگست کی آخری تاریخ کے بعد بھی ملک سے باہر جانے کے لیے ہوائی اڈے پر محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

منگل کو جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے کہا تھا کہ برلن اس تاریخ کے بعد لوگوں کو ہوائی اڈے کے شہری حصے سے باہر نکالنے کی کوشش کرے گا۔

دوسری جانب جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے بدھ کو کہا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری نیٹو کی تعیناتی کے دو عشروں کے دوران افغانستان میں ہونے والی بہتری کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھنا چاہیے۔


طالبان نے کابل ایئرپورٹ چلانے کے لیے تکنیکی مدد مانگی ہے: ترک حکام

ترکی کے دو اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے لیے ترکی سے تکنیکی مدد مانگی ہے تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انقرہ کی فوج کو بھی اگست کے آخر تک نکلنا ہوگا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے اس مشروط مطالبے نے ترکی کو مشکل میں ڈال دیا ہے کہ آیا اسے اس مشکل کام کے لیے حامی بھرنی چاہیے یا نہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ترکی خود بھی کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی سنبھالنے کی پیش کش کر چکا ہے جسے طالبان نے واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔

اب بھی طالبان کی جانب سے صرف تکنیکی مدد کا مطالبہ ہی کیا گیا ہے جبکہ ترکی سے کہا ہے کہ وہ اپنی تمام فوج کو بھی افغانستان سے نکال لے۔

ایک سینیئر ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے لیے تکنیکی مدد مانگی ہے لیکن ساتھ ہی اس نے ترکی سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس کی فوج کو بھی 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک نکلنا ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بغیر ترک مسلح افواج کے کارکنوں کی تحفظ کو یقینی بنانا ایک مشکل کام ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر طالبان سے بات چیت جاری ہے لیکن ساتھ ہی فوجیوں کے انخلا کی تیاری بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ترکی طالبان کے اس مطالبے کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔

ایک اور ترک عہدیدار نے اسی حوالے سے کہا ہے کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک ہی کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہو جائے گا تو امریکہ کابل ایئرپورٹ کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور ہیلی کاپٹر آپرشین کے ذریعے کابل ایئرپورٹ سے 20 مزید افراد کو لے جایا گیا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق اب تک 4400 امریکیوں کو کابل سے نکالا جا چکا ہے۔


صدر بائیڈن کی تصدیق کے بعد ملک چھوڑنے والے افغانوں کی دھڑکنیں تیز

امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے انخلا کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد سے افغانستان چھوڑ کر جانے کے خواہاں افراد میں ہلچل دیکھی گئی ہے اور وہ ہر حال میں افغانستان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔

کابل ایئرپورٹ کے باہر بڑی تعداد میں ایسے افراد کو دیکھا گیا ہے جو طالبان کی حکومت میں رہنا نہیں چاہتے اور افغانستان چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب تک 70 ہزار سے زائد افراد کو افغانستان سے نکال لیا گیا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ہر روز ہزاروں کی تعداد میں ایسے افغانوں کو نکال رہے ہیں لیکن جیسے جیسے ڈیڈ لائن قریب ہوتی جا رہی ہے یہ کام انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اس عمل میں درپیش مسائل میں سے ایک تو یہ ہے کہ افغانستان چھوڑ کر جانے والے افراد میں بعض کے پاس غیرملکی پاسپورٹ ہیں، ویزا ہیں یا سفر کرنے کے اہل ہیں مگر ایسے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کے پاس یہ سب نہیں۔

اب تک اس سارے عمل کے دوران ہونے والی افراتفری میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


صدر بائیڈن انخلا کی تاریخ پر قائم: ’ہر دن ہمارے فوجیوں کے لیے خطرہ بڑھ رہا ہے‘

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ امریکیوں، خطرے سے دوچار افغان شہریوں اور طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان سے فرار کی کوشش کرنے والے دیگر افراد کے انخلا کی تکمیل کے لیے اپنی 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر بائیڈن کا یہ فیصلہ اتحادی ممالک کے رہنماؤں کے مطالبات کے برعکس ہے جو انخلا کے لیے ڈیڈلائن میں توسیع چاہتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’وہاں زمین پر ہر دن وہ دن ہے جب ہم جانتے ہیں کہ داعش خراساں ہوائے اڈے کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ ہمیں، ہمارے اتحادیوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ طالبان (انخلا میں) تعاون کر رہے ہیں اور متعدد پرتشدد واقعات کے باوجود وہاں سکیورٹی برقرار ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا: ’لیکن یہ ایک نازک صورتحال ہے، وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ٹوٹنے کا شدید خطرہ ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ریمارکس دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ امریکہ اس آخری تاریخ سے پہلے انخلا کا حدف کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ عسکریت پسندوں کے حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

بائیڈن نے کہا: ’جتنی جلدی ہم اسے ختم کر سکتے ہیں ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ آپریشن کا ہر دن ہمارے فوجیوں کے لیے اضافی خطرہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے پینٹاگون اور محکمہ داخلہ سے کہا کہ اگر ناگزیر ہو تو وہ ڈیڈ لائن کو آگے بڑھانے کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کریں۔

حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نئی رپورٹوں کے سامنے آنے کے بعد امریکہ اپنے فضائی آپریشن میں تیزی لایا ہے تاکہ امریکی شہریوں سمیت ان ہزاروں لوگوں کا انخلا مکمل کیا جا سکے جنہیں طالبان سے انتقام کا خوف ہے اور جو ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پینٹاگون نے کہا کہ منگل کی صبح تک 24 گھنٹوں میں 21 ہزار 600 افراد کو افغانستان سے نکالا گیا ہے جب کہ صدر بائیڈن کے مطابق اس کے بعد کے 12 گھنٹوں میں مزید 12 ہزار افراد کا انخلا کیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں امریکی فوج کی پروازیں اور دیگر چارٹر پروازیں حصہ لے رہی ہیں۔

پینٹاگون کے عہدیداروں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ 14 اگست کو شروع ہونے والے فضائی آپریشن کے ذریعے 31 اگست اگلے منگل تک تمام امریکی شہریوں کو افغانستان سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ 

طالبان کا اصرار ہے کہ مریکہ 31 اگست کو اپنے آخری فوجی کے ملک سے انخلا کو یقینی بنائے۔ اس وقت کابل ہوائی اٖڈے پر تقریباً پانچ ہزار 800 امریکی فوجی موجود ہیں۔

کابل میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کو اپنی ڈیڈ لائن پر قائم رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا اس کے بعد ہم افغانی شہریوں کو انخلا کی پروازوں سے باہر نہیں جانے دیں گے۔


طالبان کی نئی حکومت کی حتمی تشکیل دوحہ میں کرنے کے لیے کوششیں

سفارتی ذرائع کے مطابق دارالحکومت کابل میں موجود قطر کے خصوصی سفیر کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان نئی حکومت کی حتمی تشکیل دوحہ میں کریں جہاں دیگر افغان دھڑے بھی موجود ہیں۔  

انڈپینڈنٹ اردو کے ہارون رشید کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ  قطر کی خواہش ہے کہ 31 اگست سے قبل افغان رہنما دوبارہ دوحہ میں جمع ہوں اور وہیں نئی انتظامیہ کو حتمی شکل دی جائے۔ 

قطری سفیر ڈاکٹر مطلق بن مجید القتانی نے کابل میں طالبان رہنماؤں سے اس سلسلے میں ملاقاتیں کی ہیں۔ وہ پاکستان کے سفیر سے بھی آج ملاقات کریں گے۔ 

قطر کا بظاہر خیال ہے کہ کابل کی بجائے دوحہ زیادہ غیرجانبدار مقام ہے جہاں نئی حکومت کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ 

مجید القتانی طالبان کے علاوہ سابق صدر حامد کرزئی، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا