انسانی جانوں کا تحفظ اور افغان عوام کا احترام کیا جائے: او آئی سی

اتوار کو اسلامی تعاون تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کل 17 نکات شامل کیے گئے ہیں۔

 اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ افغانستان کو دوبارہ دہشت گردوں کی آماجگاہ نہیں بننا چاہیے (او آئی سی ٹویٹر)

اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بین الااقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کو مدد فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اسلامی تعاون تنظیم یا او آئی سی کے افغانستان کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق اجلاس نے اسلامی اصولوں، انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلئریشن کے مطابق انسانی جانوں کے تحفظ اور افغان عوام کے احترام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

اتوار کو اسلامی تعاون تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کل 17 نکات شامل کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی دعوت پر تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔
اجلاس نے افغان عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور تنظیم کے رکن ممالک نے  افغانستان میں قیام امن، سلامتی، استحکام اور ترقی میں مدد کرنے کا عزم طاہر کیا۔

اسلامی تعاون تنظیم کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے مستقبل کی افغان قیادت سے بین الاقوامی برادری کی قومی مفاہمت، بین الاقوامی کنوینشنز کی پاسداری، معاہدوں و اقوام متحدہ چارٹر میں وضح کردہ اصولوں کے تحت حکمرانی سے متعلق توقعات کو اجاگر کیا۔

اس اجلاس میں افغانستان کے لوگوں کی سلامتی اور عزت کے تحفظ اور احترام کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ رواداری سے ہم آہنگ اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے پر عمل کیا جا سکے۔

اجلاس نے افغانستان کی ابتر ہوتی انسانی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا جو بے گھر ہونے والے اور نقل مکانی کرنے والے مہاجرین میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

اجلاس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بے گھر افراد، نقل مکانی کرنے والوں، کووڈ 19 کی صورتحال اور قحط کی صورتحال میں اسلامی مالیاتی اداروں اور شراکت داروں کی ضرورت پڑنے پر مدد کریں۔

اجلاس نے سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ امداد دینے والے مالیاتی اداروں سے رابطہ کریں تاکہ یہ مالیاتی ادارے بے گھر افراد اور ہمسایہ ممالک میں مہاجرین کو ضروری امداد فراہم کر سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلامی تعاثن تنظیم کی اعلی کمیٹی نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند شہریوں کی مدد کی جائے اور تمام افغان فریق اور نمائندوں کے مابین ملک کے مستقبل کے تعین کے لیے باہمی مذاکرات کرائے جائیں۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ افغانستان کے لیے افغان عوام کی قیادت میں امن عمل، وسیع البنیاد مفاہمت اور دیرینہ سیاسی حل کی او آئی سی بھرپور حمایت کرے گی۔

اجلاس نے افغانستان کی مستقبل کی قیادت، عالمی برادری اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو استعمال نہ کرنے دی جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا