31 اگست کے بعد بھی شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کا اختیار دیا جائے: جی سیون

گروپ آف سیون نیشنز کے رہنماؤں نے منگل کو طالبان پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر اتفاق کیا کہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی لوگوں کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دی جائے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے مطابق گروپ آف سیون نیشنز کے رہنماؤں نے منگل کو طالبان پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر اتفاق کیا کہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی لوگوں کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دی جائے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے کہا ’بین الاقوامی برادری طالبان سے کچھ واضح توقعات اور مطالبات رکھتی ہے اگر وہ تعمیری اور مثبت طور پر مصروف رہنا چاہتے ہیں ، چاہے وہ مالی طور پر ہوں ، چاہے وہ فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ اب ہوائی اڈے تک رسائی اور آنے والے ہفتوں میں شہریوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔‘

دوسری جانب فرانسیسی ایوان صدر کے ایک عہدیدار کے مطابق جی سیون کی ترجیح ہے کہ افغانستان کے نئے طالبان حکمران دہشت گرد تنظیموں سے تمام تعلقات توڑ دیں اور طالبان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونا چاہیے۔

صدر ایمانوئل میکرون نے افغانستان کے بارے میں جی سیون اجلاس میں شرکت کے بعد خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ 31 اگست کو افغانستان سے انخلا کی آخری تاریخ کا فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔

طالبان کی جانب سے منگل کو کہا گیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک سے تمام غیر ملکی انخلا 31 اگست کی آخری تاریخ تک مکمل ہو جائے اور وہ توسیع پر راضی نہیں ہوں گے۔ کابل میں پریس کانفرنس کے دوران وہاں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے مینیجنگ ایڈیٹر ہارون رشید کے مطابق طالبان رہنماؤں نے دوران پریس کانفرنس ملک چھوڑنے والے شہریوں پر بھی شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امریکہ ایک سازش کے تحت بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے افغان شہریوں جن میں ڈاکٹر، انجینئیر اور صحافی شامل تھے، سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک نہ چھوڑیں بلکہ ملک میں رہ کے عوام کی خدمت کریں۔

ٹی ٹی پی یا داعش جیسی تنظیموں کے لیے کوئی کمیشن قائم نہیں کیا: افغان طالبان

افغانستان میں طالبان کی اسلامی امارات یا حکومت نے تردید کی ہے کہ انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور داعش جیسی شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کے لیے کسی کمیشن کو تعینات کیا ہے۔

نئی افغان انتظامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وہاں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے مینیجنگ ایڈیٹر ہارون رشید کے سوال کے جواب میں کہا: ’اس بارے میں اطلاعات غلط ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے ذریعے ان سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ہم کسی کو بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیں گے۔‘

طالبان ترجمان نے اس سوال کہ جیلوں سے رہائی پانے والوں میں شامل متعدد ٹی ٹی پی کے کارکنوں کا کیا کیا جائے گا؟ کا براہ راست کوئی جواب نہیں دیا لیکن اپنا موقف دوہرایا کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف ایسی کوئی سرگرمی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ بعض نشریاتی اداروں نے اس قسم کی خبریں دی تھی کہ طالبان نے شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا ہے جو ان کے بارے میں مستقبل کا لائحہ عمل دے گا۔

آج کی پریس کانفرنس میں ذبیح اللہ مجاہد کے ساتھ طالبان کے دوسرے عسکری ترجمان قاری یوسف احمدی بھی موجود تھے۔ اگرچہ ان کی تصویر کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جاری کر دی گئی تھی لیکن وہ پہلی مرتبہ کسی پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ انہیں اس موقع پر سرکاری میڈیا سینٹر کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

طالبان تحریک کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوند زادہ کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ بھی جلد عوام کے سامنے آ جائیں گے۔

’غیر ملکی افواج کے انخلا میں توسیع ناقابل قبول‘

پریس کانفرنس کے دوران طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا اور دیگر غیر ملکی افواج 31 اگست کی ڈیڈلائن تک ہر صورت انخلا مکمل کرلیں۔ ’اس ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی توسیع قبول نہیں کی جائے گی۔‘

انہوں نے کہا: ’ان (امریکیوں) کے پاس جہاز ہیں، ایئرپورٹس ہیں، انہیں اپنے شہریوں اور کانٹریکٹرز کو یہاں سے نکال لینا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کو کہا تھا کہ انخلا ’مشکل اور تکلیف دہ‘ ہوگا اور بہت کچھ توقع کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ صدر کے بقول امریکی افواج 31 اگست کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی انخلا مکمل ہونے تک ملک میں رہ سکتی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر ہجوم اب بھی موجود ہے اور امریکہ اس کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے امریکہ سے کہا کہ وہ افغان شہریوں کو نکالنے کا عمل روک دے کیونکہ اس ملک کو ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی امارت کوشش کررہی ہے کہ ایئرپورٹ پر موجود لوگوں کو واپس لے آئے لیکن امریکہ غیر قانونی طور پر ماہرین کو ملک سے باہر نکال رہے ہیں۔ انہوں نے افغانوں سے اپیل کی کہ وہ باہر جانے کی کوشش ترک کر دیں۔

’پنچ شیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا‘

ترجمان طالبان کے بقول پنج شیر کا مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے گا جو کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔

شمالی اتحاد کا گڑھ سمجھے جانے والے پنج شیر صوبے پر اس وقت طالبان کا کنٹرول نہیں ہے۔ یہاں سابق سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے والے احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے مزاحمت کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے بھی یہیں پناہ لے رکھی ہے۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر کی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ سے ملاقات کی رپورٹس سے متعلق سوال کے جواب میں طالبان ترجمان نے ایسی کسی ملاقات کی تردید کی۔

 خواتین ملازمین کو دفاتر میں کام کرنے کی اجازت نہ دینے کے بارے میں طالبان ترجمان نے کہا کہ ’انہیں ان کے گھروں میں اس وقت تک تنخواہ ملے گی جب تک وہ ان کی حفاظت کے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کر لیتے۔‘


31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع پر فیصلہ آج متوقع

امریکی وزارت دفاع کہہ چکی ہے ہزاروں امریکیوں، اتحادی ممالک کے شہریوں اور فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کی بحفاظت ملک سے واپسی کی ڈیوٹی پر تعینات چھ ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے میں مزید دن لگ سکتے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا افغانستان سے ہزاروں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کے انخلا کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع پر فیصلہ آج متوقع ہے۔

انہوں نے اتوار کو کہا تھا کہ انخلا ’مشکل اور تکلیف دہ‘ ہو گا اور بہت کچھ توقع کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ صدر کے بقول امریکی افواج 31 اگست کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی انخلا مکمل ہونے تک ملک میں رہ سکتی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے پیر کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ صدر بائیڈن 24 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ انخلا کی تاریخ میں توسیع کرنی ہے یا نہیں۔


24 گھنٹوں میں 16 ہزار افراد کابل سے نکال لیے گئے

امریکی وزارت دفاع پیٹاگون نے پیر کو کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ کے ذریعے 16 ہزار افراد افغانستان سے نکالے گئے۔

جنرل ہینک ٹیلر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی وقت پیر صبح تین بجے تک کے 24 گھنٹوں میں 61 ملٹری، کمرشل اور چارٹر پروازیں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند افراد کو حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لے کر اڑیں اور مختلف ممالک پہنچیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں 11 ہزار کو امریکی فوج کے ایئرلفٹ آپریشنز سے نکالا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول 14 اگست میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے افغانستان سے 37 ہزار تک افراد امریکی پروازوں پر ملک چھوڑ چکے ہیں، ان میں ’کئی ہزار‘ امریکی شہری اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہری شامل ہیں جنہوں نے طالبان کے خطرے کے باعث مخصوص ویزے اپلائی کیے ہوئے تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کے مطابق افغانستان میں توجہ اسی بات پر ہے کہ صدر بائیڈن کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک انخلا پورا کر لیا جائے۔


طالبان کو تسلیم کرنے یا پابندیوں کے فیصلے پر جی سیون کا اجلاس

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورت حال پر ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی سیون کے رہنماؤں کا ورچوئل اجلاس آج ہو گا جس میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے یا ان پر پابندیاں عائد کرنے پر متفقہ لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔

ایک یورپی سفارت کار نے روئٹرز کو بتایا: ’جی سیون رہنما اس بات پر مشورہ کریں گے کہ آیا طالبان کو تسلیم کرنا ہے اور اگر ہاں تو کب۔‘

انہوں نے کہا کہ رہنما ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا عہد بھی کریں گے۔

روئٹرز کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ جی سیون ممالک امریکہ، برطانیہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، کینیڈا اور جاپان کے رہنما متفقہ طور پر طالبان کو تسلیم کریں یا پابندیوں میں تجدید کریں تاکہ طالبان کو ان کے خواتین کے حقوق اور بین الاقوامی تعلقات قائم رکھنے کے وعدوں پر قائم رکھا جا سکے۔

برطانیہ کی امریکی میں سفیر کیرن پیرس نے کہا کہ وزیر اعظم بورس جانسن جی سیون اجلاس میں متفقہ حکمت عملی پر زور دیں گے۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش اور نیٹو سیکریٹری جنرل جین سٹولٹنبرگ بھی شامل ہوں گے۔ پیرس نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم نئی افغان قیادت سے متفقہ طریقے سے نمٹنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی قائم کرنے کا کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم (طالبان کے) اعمال کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے، الفاظ پر نہیں۔‘

ذرائع کا کہنا ہے جی سیون اجلاس میں صدر بائیڈن کی انخلا کی 31 اگست کی تاریخ میں ممکنہ توسیع پر بھی غور کریں گے مغربی ممالک کو اپنے شہری اور نیٹو فورسز اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کو باحفاظت ملک سے نکالنے کا مزید وقت مل جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا