افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی کوششیں

برطانیہ فرانس اور جرمنی نے افغانستان سے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈلائن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس میں توسیع کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

(تصویر: (AFP PHOTO / MARK ANDRIES / US MARINE CORPS

برطانیہ فرانس اور جرمنی نے افغانستان سے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈلائن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس میں توسیع کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ بین ویلس نے وزیر اعظم بورس جانسن کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ منگل کو ہونے والے جی سیون اجلاس کے دوران ’اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دے۔‘

دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جرمنی، ترکی، امریکہ اور طالبان کے درمیان اس حوالے سے مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم امریکہ، ترکی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جس کا مقصد ایئرپورٹ کو کھلا رکھنا ہے تاکہ سول آپریشن کے ذریعے لوگوں کو وہاں سے نکالا جا سکے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس نے بھی 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’فرانس کا ماننا ہے کہ افغان انخلا کا عمل امریکہ کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے۔‘

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی ایک ایئربیس جسے کابل سے لائے جانے والے افراد کے لیے فضائی پل کے طور پر استمعال کیا جا رہا ہے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں امریکہ کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر تشویش ہے۔ اس وقت جاری آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔‘


پنج شیر کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: طالبان

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ اس وقت طالبان مخالف اتحاد کا وادی پنج شیر میں محاصرہ کیا گیا ہے، مگر اس مسئلے کو جنگ کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

افغانستان میں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے مینیجنگ ایڈیٹر ہارون رشید کے مطابق وادی پنج شیر کے حوالے سے احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اور طالبان کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ دونوں اپنی عسکری کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں، جن کی آزاد ذارئع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

افغانستان کے معزول نائب صدر امر اللہ صالح نے اتوار کو دعویٰ کیا تھا کہ اندراب کے علاقے میں طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ مسلح طالبان پنج شیر میں داخل نہیں ہو سکتے۔

لیکن ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ بغلان کے بنوں، پل حصار اور دی صلاح اضلاع کو مکمل طور پر مخالفین سے پاک کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے سالنگ پاس کے بارے میں امر اللہ صالح کے دعوے کی بھی تردید کی ہے۔

شمالی اور وسطی افغانستان میں طالبان کے خلاف ایک اور اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر طویل جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔

قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سابق جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے پنج شیر میں پانچ ہزار افراد کا ایک گروپ تیار کیا ہے۔

مسعود نے خود لندن کے مشرق وسطیٰ کے اخبار کو بتایا کہ ’میں طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو میں آخری دم تک لڑوں گا۔‘

’ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایک جامع حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔‘

میڈیا کو جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ متعدد طالبان عسکریت پسند گاڑیوں اور ہتھیاروں کے قافلے کے ساتھ پنج شیر کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر باغی ہتھیار نہیں ڈالیں گے تو انہیں طاقت سے کچل دیا جائے گا۔‘

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی اور طالبان کی قیادت کون کر رہا ہے۔

اتوار کو صالح میراللہ نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہفتے کو ’دی ریزسٹنس‘ نے کئی طالبان کو گھات لگا کر ہلاک کیا ہے جس سے اس گروپ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

صالح میر اللہ نے لکھا کہ اس وقت طالبان پنج شیر کے دروازے پر جمع تھے لیکن دعویٰ کیا کہ ’مزاحمتی قوتوں‘ نے سالنگ پاس کو بند کر دیا ہے۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ علما کا ایک وفد فریقین کے درمیان مصالحت کروانے اور جنگ سے اس خطے کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 


31 اگست کی ڈیڈ لائن پر عمل نہ ہوا تو امریکہ نتائج کا سامنا کرے گا: طالبان

 

طالبان نے صدر جو بائیڈن کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اگست کے بعد افغانستان میں اپنے فوجی برقرار رکھے تو اس کے ’نتائج‘ بھگتنا ہوں گے۔

افغان طالبان کے ایک ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ امریکی صدر کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن ’سرخ لکیر‘ ہے جس پر عمل درآمد ضروری ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن منگل کو جی سیون ممالک کے عالمی رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس بلانے جا رہے ہیں تاکہ صدر بائیڈن سے کہا جائے کہ وہ انخلا مکمل ہونے تک امریکی فوج کو افغانستان میں برقرار رکھیں۔

صدر بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیڈلائن بڑھانے کے آپشن پر غور ہو چکا ہے لیکن ’امید ہے کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا پڑے گا‘۔


کابل ایئرپورٹ پر نامعلوم حملہ آوروں اور افغان فورسز میں جھڑپ

جرمنی کی مسلح افواج نے پیر کو بتایا کہ کابل ایئرپورٹ کے شمالی دروازے پر نامعلوم مسلح افراد، مغربی سکیورٹی فورسز اور افغان محافظوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ہزاروں افغان اور غیر ملکی شہری ملک سے نکلنے کے لیے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمع ہیں۔

آج ہونے والی جھڑپ میں ایک افغان محافظ مارا گیا اور تین دیگر زخمی ہوئے۔

جرمن فوج نے ٹوئٹر پر کہا کہ حملہ آوروں کی امریکی اور جرمن فوج سے بھی جھڑپ ہوئی۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ مارا جانے والا محافظ طالبان کا رکن تھا یا نہیں۔

 15 اگست کو طالبان نے افغان دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد سے ہوائی اڈہ افراتفری کا منظر بنا ہوا ہے۔


’سینکڑوں‘ جنگجو وادی پنج شیر کی جانب روانہ: افغان طالبان

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے ’سینکڑوں‘ جنگجو وادی پنج شیر کی جانب روانہ کر دیے گئے ہیں، جو ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں اب تک طالبان کا کنٹرول نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کچھ کچھ جگہوں پر مزاحمت ابھر رہی ہے اور سابقہ حکومت کے کچھ فوجی شمال میں واقع صوبہ پنج شیر میں جمع ہو رہے ہیں، جو ایک عرصے سے طالبان مخالف گڑھ رہا ہے۔

طالبان نے اپنے عربی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’پنج شیر میں مقامی حکام نے پرامن طریقے سے سبکدوش ہونے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد اسلامی امارات کے سینکڑوں مجاہدین کنٹرول سنبھالنے کے لیے پنج شیر کی جانب جا رہے ہیں۔‘

طالبان مخالف گروہوں کے ترجمان کے مطابق گذشتہ ہفتے طالبان کے کابل میں کنٹرول میں آنے کے بعد ہزاروں لوگ پنج شیر آئے ہیں۔    

پنج شیر میں مزاحمت کے ترجمان کے مطابق مشہور طالبان مخالف رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے نو ہزار سے زائد کی فورس جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

احمد شاہ مسعود کو نائن الیون سے دو دن قبل ہی القاعدہ نے قتل کر دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ایف پی کے پاس ان مزاحمت کاروں کی ٹریننگ کی تصاویر موجود ہیں جن میں کئی نئے اراکین کو ورزش کرتے اور بکتر بند گاڑیوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ گروہ حکومت سازی کے نئے نظام کا حامی ہے مگر ضرورت پڑنے پر لڑنے کا تیار ہے۔

احمد مسعود نے اتوار کو سعودی نشریاتی ادارت العربیہ کو بتایا: ’کئی افغان صوبوں سے حکومتی فوجیں پنج شیر آئی ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’اگر اسی رہ پر چلتے رہے تو طالبان زیادہ دیر تک نہیں رہیں گے۔ ہم افغاستان کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘


جو بائیڈن 31 اگست کوانخلا مکمل کرنے کے لیے پر امید

امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کو کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں کہ 31 اگست تک افغانستان سے ہزاروں لوگوں کو مکمل طور پر نکال لیا جائے گا۔

اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں کہا کہ انہیں امید ہے کہ انخلا کی تاریخ کو آگے نہیں بڑھانا پڑے گا۔

ان سے سوال کیا گیا کہ عالمی رہنما مزید وقت مانگ رہے ہیں تو انہوں نے کہا: ’ہم دیکھیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

کابل ایئرپورٹ پر افغانستان سے نکلنے کی کوششوں میں لگے افراد کے دل دہلا دینے والے مناظر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’یہ انخلا کی قیمت ہے۔‘

صدر کے بقول: ’آپ جو تکلیف دہ مناظر دیکھ رہے ہیں اتنے سارے لوگوں کو بغیر تکلیف یا غم کے نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں۔‘

 

اس سے قبل طالبان نے افراتفری میں امریکی انخلا پر تنقید کی۔

طالبان اہلکار عامر خان متقی نے کہا: ’اپنی ساری طاقت اور سہولیات کے باوجود امریکہ ایئرپورٹ پر بہتری لانے میں ناکامیاب رہا ہے۔ پورے ملک میں امن اور سکون ہے، مگر صرف کابل ایئرپورٹ پر افراتقری ہے۔‘

برطانوی وازت دفاع کے مطابق اتوار کو کابل کے ہوائی اڈے پر بھگدڑ میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔


القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں: طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ موجود نہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی چینل الحدث ٹی وہ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور اس کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کابل میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد ملک کی صورت حال پر امریکہ اور دوسرے ممالک سے بات چیت جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا