جرمنی نے ایران کو ’مِنی انجنز‘ کی فروخت روک دی

انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق کینیا سے ان ڈرونز کو عمان کے شہر صلالہ اور پھر وہاں سے حوثی باغیوں کے گڑھ ’سمگل‘ کیا جاتا ہے۔

انجنوں کی فروخت کی نگرانی کرنے والی جرمن انٹیلی جنس سروس کو بعد میں معلوم ہوا کہ ان کو میدان جنگ میں استعمال کیا جا رہا تھا (Conflict Armament Research)

جرمنی نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرونز میں اپنے بنائے انجن ملنے کے بعد ایران کو ماڈل طیارے کے انجنوں کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس اقدام کے بعد ایران نے ڈرونز میں استعمال ہونے والی اس جدید انجن ٹیکنالوجی کے لیے چین سے رجوع کیا ہے اور چینی کمپنیوں سے خریدے گئے ڈرونز کو چینی شہر زیامین سے کینیا کے شہر ممباسا ’سمگل‘ کیا جا رہا ہے۔

انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق کینیا سے ان ڈرونز کو عمان کے شہر صلالہ اور پھر وہاں سے حوثی باغیوں کے گڑھ ’سمگل‘ کیا جاتا ہے۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ معروف طیاروں کے چھوٹے ماڈلز کے لیے انجن بنانے والی جرمن کمپنی سے ملک کی داخلی انٹیلی جنس سروس نے رابطہ کیا تھا۔

انجنوں کی فروخت کی نگرانی کرنے والی جرمن انٹیلی جنس سروس کو بعد میں معلوم ہوا کہ ان کو میدان جنگ میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

2015  میں جڑواں سلنڈرز والے 42 انجنز کی کھیپ ایتھنز کے راستے تہران کے لیے روانہ کی گئی تھی۔

جرمنی کے ’فیڈرل آفس فار دا پروٹیکشن آف دا کانسٹی ٹیوشن‘ (بی ایف وی) کے لیے کام کرنے والے انٹیلیجنس حکام نے اس انکشاف کے چند ہفتوں بعد ہی ایران کو مزید فروخت روکنے کے لیے اقدامات کیے۔

جرمن مینوفیکچرر ’تھری ڈبلیو انٹرنیشنل‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر کارسٹن سکڈٹ نے کہا: ’ہمیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ انجن ایران کو فراہم کیے جائیں گے۔‘

بی ایف وی کی تحقیقات کے بعد ایران کو اس کی سپلائی روک دی گئی۔

متحدہ عرب امارات کے اخبار ’دا نیشنل‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران اپنے ڈرونز کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جرمن اور ڈچ کمپنیوں کے چھوٹے انجنوں کا استعمال کر رہا ہے۔

ان میں 80 سے زیادہ بریک ہارس پاور کی طاقتور مشینیں شامل ہیں جنہیں جرمنی کی ایک کمپنی لمبیچ فلوگموٹورین نے بنایا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی کم از کم پانچ سالوں سے اپنے حوثی اتحادیوں کو مسلح کرنے کے لیے ڈرونز بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔

2018  کے وسط میں حوثی باغیوں نے ایران کے صمد سیریز کے زیادہ جدید ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی تین قسمیں ہیں جن کی آپریشنل رینج ایک ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔

ان ڈرونز میں طاقتور انجن نصب ہیں اور یہ بڑے وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔

یورپ میں ایک خفیہ ایجنٹ کی جانب سے مرتب کیا گیا ڈوزیئر گردش کر رہا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قطر ڈرونز کی تیاری کے لیے حوثی باغیوں اور ایران کو مالی اعانت فراہم کر رہا ہے۔

اس مقصد کے لیے قبرص میں ایک فرنٹ کمپنی قائم کی گئی ہے جو یورپی سپلائرز کو ادائیگی کرنے کے لیے سونے کی تجارت سے کمائے گئے فنڈز استعمال کرتی ہے۔

ڈوزیئر میں اس فرنٹ کمپنی اور معروف قطری مالیاتی اداروں کے مابین روابط کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا