ریاض پر حوثی حملے آخر کب تک؟

بین الاقوامی برادری بھی یہ بات سمجھ گئی ہے کہ یمن میں صرف حوثی باغی ایسا گروہ ہے کہ جو امن کا خواہاں نہیں۔ وہ مذاکرات سے فرار چاہتے ہیں۔ حوثی، یمنی عوام کو بندوق کے زور پر یرغمال بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں اکتوبر 2019 میں ایک حملہ کے بعد ایک یمنی شخص نقصان کا اندازہ لگا رہا ہے (اے ایف پی)

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سعودی عرب، یمن کے تحفظ، سلامتی اور استحکام کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے اپنے جنوبی ہمسائے کی مدد کر رہا ہے۔

یادش بخیر! بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ یمنی حکومت کی دعوت پر ہی سعودی عرب نے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے ’عرب اتحاد‘ کی قیادت قبول کی۔

کرونا (کورونا) وائرس سے پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت کے تناطر میں سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یمن سے متعلق اپنی کمٹمنٹ پر تادم تحریر قائم ہے۔ ریاض نے حال ہی میں یمن کے ’انسانی بحران‘ کے خاتمے کے لیے امداد اکٹھی کرنے کی خاطر ایک اعلیٰ سطح کی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں اقوام متحدہ سمیت 120 ممالک شریک ہوئے۔

یو این انڈر سیکرٹری برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد مارک لوکاک کے مطابق یمن میں کووڈ-19 پر قابو پانے اور امدادی منصوبوں کے لیے 2.4 ارب ڈالرز درکار ہیں۔ ایونٹ میں امداد دینے کے 31 وعدے اور 1.35 ارب ڈالرز جمع ہوئے۔

یو این حکام کے مطابق ایونٹ میں 500 ملین ڈالر کے ساتھ سعودی عرب سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک تھا۔ ستمبر 2014 سے سعودی عرب، یمن کو 16.9 ارب ڈالرز فراہم کر چکا ہے۔ اس میں 12 شعبوں کے لیے شاہ سلمان انسانی مدد اور ریلیف سینٹر کے 435 منصوبے بھی شامل ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بتایا کہ اب تک یمن کے لیے ترقی اور تعمیر نو پروگرام کے تحت 150 ملین ڈالرز کی لاگت سے سات ترقیاتی شعبوں میں 175 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔

یمنی ریال اور معیشت کو سبنھالا دینے کے لیے سعودی عرب نے یمن کو تین ارب ڈالرز علیحدہ فراہم کیے ہیں۔ بجلی گھروں کو چلانے کے لیے سعودی عرب ماہانہ ساٹھ ملین ڈالرز مالیت کا تیل فراہم کرتی ہے۔ نیز یہ رقم ملک کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے ’ماسام‘ نامی پروگرام کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

دوسری جانب اختیارات کے تعین کے لیے منصور عبد ربہ ہادی کی سربراہی میں یمنی حکومت اور جنوب میں عيدروس الزبيدی کی قیادت میں بننے والی عبوری کونسل کے درمیان معاہدہ کروا کے سعودی عرب نے یمن کے مختلف الخیال گروپوں کو ایک ساتھ بٹھا کر اپنی سیاسی پختگی کا لوہا منوایا ہے۔

اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مملکت کے علاوہ، خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے تعاون سے سعودی عرب، یمنی گروپوں کو ان کی باہمی خانہ جنگی کے حوالے سے یہ حقیقت باور کرانے میں کامیاب رہا کہ اندرون خانہ لڑائی کا تمام فائدہ ’جارح حوثی‘ اٹھا رہے ہیں۔ یمنی گروپ متحد ہو کر ہی پورے ملک کو باغیوں سے آزاد کرا سکتے ہیں۔ باہمی لڑائی کی وجہ سے یمنی گروپوں کی توجہ حوثیوں کے خلاف جنگ سے ہٹ گئی تھی۔

دونوں گروہ جان چکے ہیں کہ ان کا مقصد حوثیوں پر قابو پاتے ہوئے باغی ملیشیا کی آئینی حکومت کے خلاف کارروائیوں کو ناکام بنانا ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ دونوں گروپ یہ بات سمجھ گئے کہ ان کی اصل لڑائی حوثیوں سے ہے اور انہیں یمن کے وسیع تر مفاد میں سیاسی مفاہمت سے کام لینا ہے۔ بین الاقوامی برادری پر یہ حقیقت بھی آشکار ہو گئی کہ ریاض، یمن کی مختلف جماعتوں کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے درکار سیاسی عزم اور صلاحیت رکھتا ہے۔

خطے کے مسائل حل کرانے میں سعودی عرب کا کردار ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ فوری حوالہ مشہور زمانہ ’معاہدہ طائف‘ کا ہے، جس سے لبنان میں کئی برسوں سے جاری ’سول وار‘ کا خاتمہ ہوا۔ اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان قیام امن میں سعودی کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خطے کا امن اور استحکام مملکت کی ترجیح رہا ہے۔ اسی لیے ریاض نے ہمیشہ امن کی سمت قدم بڑھائے۔

بین الاقوامی برادری بھی یہ بات سمجھ گئی ہے کہ یمن میں صرف حوثی باغی ایسا گروہ ہے کہ جو امن کا خواہاں نہیں۔ وہ مذاکرات سے فرار چاہتے ہیں۔ حوثی، یمنی عوام کو بندوق کے زور پر یرغمال بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ خود ساختہ ’مسلح بحران‘ کے سیاسی حل میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

سعودی عرب، یمن کے لیے یو این ایلچی مارٹن گریفتھس کی مستقل جنگ بندی کی تجاویز کی حمایت کے علاوہ انسانی اور اقتصادی اعتمادی سازی، جامع سیاسی حل کی خاطر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے مسٹر مارٹن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

یمن کے بحران کے پائیدار سیاسی حل کی خاطر ریاض، عالمی ادارے کی تمام کوششوں میں تعاون کے لیے ہمہ وقت آمادہ ہے۔

عرب اتحاد نے یمن میں مداخلت کے آغاز کے بعد سے دوسرے دوست ممالک کے ساتھ حوثی ملیشیا کو ایران سے بھیجے گئے اسلحے کی کئی کھیپیں پکڑی ہیں۔ درحقیقت ایران جس طرح عراق، شام اور لبنان میں دہشت گرد ملیشیاؤں کو اسلحہ منتقل کر رہا ہے، اس طرح اس نے یمن میں حوثی ملیشیا کو منتقل کیا ہے۔ اس تمام عمل میں ایک طرح کی گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔

ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتیریس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں گذشتہ سال مئی میں عفیف میں واقع تیل کی تنصیبات، جون اور اگست میں ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ستمبر میں بعقیق اور ہجرہ خریص میں واقع سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں میں ایرانی اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔

مذکورہ ہتھیار اس بات کا پیغام ہیں کہ حوثی، یمن میں سیاسی حل نہیں چاہتے اور وہ سعودی عرب کی آبادی خصوصا دارالحکومت ریاض، جازان اور ابھا پر حملے جاری  رکھے ہوئے ہیں ان حملوں میں حوثی جو میزائل استعمال کر رہے ہیں وہ ویسے ہی میزائل ہیں جنہیں عرب اتحاد کے فوجی مختلف اوقات میں حوثیوں سے اپنے قبضے میں کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرب اتحاد کی افواج کو ایران کا ایسا لٹریچر بھی ملا ہے جس میں حوثیوں کو میزائل کے استعمال اور انہیں داغنے کا طریقہ کار سمجھایا گیا ہے۔

اسی تناظر میں سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا عالمی برادری سے ایران کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا بروقت مطالبہ سامنے آیا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی اٹھا لینے سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اس کالم نگار کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ یمن میں ’سرگرم‘ حوثی باغیوں کی بقا ’معاہدہ ریاض‘ میں تجویز کردہ سیاسی حل تسلیم کرنے میں ہے۔

معاہدہ، بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ خطہ اپنے مسائل حل کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور سعودی عرب خطے میں ان مسائل کے حل کا عزم لیے ہی عرب اتحاد میں شامل ہوا۔

اب بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ حوثیوں کو یمنی عوام کے خلاف غیر قانونی مہم سے روکے اور انہیں عالمی اصولوں اور معاہدوں کی پابندی پر آمادہ کرے۔

باغی ملیشیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل کرے جس میں ان سے ہتھیاروں کی واپسی، زیر قبضہ یمنی شہروں سے انخلا اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔

اس قرارداد پر عمل کیے بغیر حوثیوں کو ہمیشہ امن کی راہ کا کانٹا شمار کیا جاتا رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ