ایران طالبان کی عبوری کابینہ سے اتنا پریشان کیوں؟

تہران کو افغانستان میں مداخلت کے حوالے سے اسلام آباد پر انگلی اٹھانے سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خود اس کی شام، عراق اور یمن میں کھلے مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

ایران کا خیال ہے کہ پاکستان نے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران نواز طالبان کمانڈروں کو نظر انداز کیا (اے ایف پی)

افغانستان میں طالبان کے خلاف آخری محاذ یعنی پنج شیر وادی میں مزاحمتی گروپ کو شکست اور طالبان کی جانب سے عبوری کابینہ کے اعلان نے بظاہر ایران کو پریشان کن صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تہران نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پنج شیر میں مبینہ طور پر ڈرون حملوں کے ذریعے طالبان کی مدد کر رہا ہے۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران، جس نے گذشتہ چند سالوں سے طالبان کے ساتھ ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت تعلقات قائم کیے، نے اچانک اپنا لہجہ کیوں تبدیل کر لیا؟

افغانستان میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے تہران کے خدشات کیا ہیں اور طالبان اور ایران کے مستقبل کے تعلقات کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

15 اگست کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ایران نے ایک غیر جانبدار پالیسی اختیار کرتے ہوئے ایک جامع اور وسیع البنیاد حکومت کی امید کا اظہار کیا تھا۔

تاہم طالبان کی جانب سے 33 رکنی عبوری کابینہ کا اعلان بظاہر ایران کی ناراضگی کا سبب بن گیا ہے۔

آٹھ ستمبر کو پاکستان کی میزبانی میں افغانستان کے پڑوسی ممالک ایران، چین، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کے ورچوئل اجلاس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ حسین امربداللہیان نے کہا تھا: ’تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک غیر وسیع البنیاد حکومت استحکام، امن اور ترقی کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔ ہماری توقع یہ ہے کہ ایک متحد آواز کے ساتھ افغانستان میں ایک جامع حکومت کے قیام کی ضرورت کا اعلان کیا جائے۔‘

اسی طرح ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی شمخانی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ’جامع حکومت کے فقدان، غیر ملکی مداخلت اور مذاکرات کی بجائے فوج کے استعمال‘ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

گذشتہ کچھ سالوں کے دوران ایران اور طالبان نے فرقہ وارانہ اختلافات کے باوجود امریکہ اور داعش کی افغانستان میں موجودگی کے خلاف ایک طرح کا اتحاد قائم کیا ہوا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے طالبان کو مشہد شوریٰ کے نام سے ایک دفتر کھولنے اور کرمان، زاہدان اور تہران میں تربیتی مراکز چلانے کی اجازت دی۔

تاہم ایران اور طالبان کا مختصر ہنی مون افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے اقتدار پر قبضے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ 1998 میں افغانستان کے شہر مزار شریف میں ایرانی قونصل خانے میں نو سفارت کاروں کے قتل کے بعد ایران اور طالبان تقریباً جنگ کے دھانے پر پہنچ گئے تھے۔

تہران اس بار اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرنے والے طالبان کی عبوری کابینہ میں ہزارہ شیعہ برادری کی عدم موجودگی اور ایران نواز طالبان کمانڈروں قیوم ذاکر، صدر ابراہیم اور داؤد مزمل کو سائیڈ لائن کیے جانے پر بھی پریشان ہے۔

اس کے علاوہ ایران کا خیال ہے کہ پاکستان نے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران نواز طالبان کمانڈروں کو نظر انداز کیا۔

اسی تناظر میں تہران نے ان اقدامات کو امریکہ کے بعد کے افغانستان میں ایران کے مفادات کو زد پہنچانے کی پاکستان کی کوششوں سے تعبیر کیا ہے۔

مثال کے طور پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا: ’افغانستان کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ یہاں براہ راست اور بالواسطہ غیر ملکی مداخلت اور جارح قوت کو شکست کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ افغان عوام آزادی کے خواہاں اور پرجوش ہیں اور یقینی طور پر یہاں کسی بھی قسم کی مداخلت تباہ کن ہو گئی۔‘

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے دوران قطر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ دوسری جانب ایران اور قطر کے قریبی سفارتی تعلقات ہیں۔

تہران کی طالبان اور قطر کے ساتھ قربت کے باعث اسے یقین تھا کہ امریکہ کے انخلا کے بعد اس کے مشرق وسطیٰ کے حریفوں کو افغانستان سے دور رکھا جائے گا۔

حالیہ برسوں میں ایران نے طالبان اور اسلام آباد کے ساتھ مل کر افغانستان میں اپنے لیے زیادہ گنجائش بنانے کے لیے کام کیا ہے۔

اسی طرح چین ایران معاہدے پر دستخط سے اسلام آباد اور تہران کو بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) فریم ورک کے تحت قریب لانے کی کوشش کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سٹریٹجک تعاون سے ایران کو مزید امید ہو چلی تھی کہ وہ افغانستان میں اپنے فرقہ وارانہ مفادات کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

تاہم سعودی اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہدوں کی پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو افغانستان کے حوالے سے حالیہ فون کالز نے ایران کی امیدوں پر ایک طرح سے پانی پھیر دیا۔

اندرونی طور پر ایران ہزارہ شیعہ برادری کو خارج کرنے کے باوجود طالبان کے ساتھ منسلک رہنے یا کم از کم غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے زبردست عوامی اور میڈیا کے دباؤ کا شکار ہے۔

چنانچہ طالبان اور پاکستان پر تنقید والے حالیہ ایرانی بیانات دراصل اپنی اندرونی طاقتوں کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں۔

کشیدگی کے باوجود طالبان اور ایران کے تعلقات مکمل طور پر ختم ہونے کے امکانات نہیں۔ سیاسی بیان بازی کے باوجود افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ ایرانی تعاون زور و شور سے جاری رہے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ تہران کو افغانستان میں مداخلت کے حوالے سے اسلام آباد پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے جس کی شام، عراق اور یمن میں ننگی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔


نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور اس سے پہلے عرب نیوز میں شائع ہو چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ