افغانستان: مہنگائی، بینکوں کے باہر طویل قطاروں سے نئے دور کا آغاز

​​​​​​​امریکی فوج کے انخلا اور کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بینکوں کے باہر لمبی قطاروں اور بازاروں میں اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے افغانوں کو درپیش روزمرہ کی مسائل کی بھرپور نشاندہی ہورہی ہے۔

یکم ستمبر 2021 کی اس تصویر میں طالبان جنگجو کابل کی ایک مارکیٹ سے گزر رہے ہیں جبکہ  اکا دکا خریدار بھی نظر آرہے ہیں (فوٹو: اےا یف پی)

امریکی فوج کے انخلا اور کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بینکوں کے باہر لمبی قطاروں اور بازاروں میں اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے افغانوں کو درپیش روزمرہ کی مسائل کی بھرپور نشاندہی ہورہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان کے لیے بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات ایک سب سے بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آرہی ہیں۔ افغانستان  جہاں کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کی یومیہ آمدنی دو ڈالر سے کم ہے، وہاں کرنسی کی گرتی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

یہاں تک کہ نسبتاً کھاتے پیتے گھرانوں کے لیے بھی دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ زیادہ تر دفاتر اور دکانیں بند ہیں اور لوگوں کو تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

کابل کی رہائشی زیلگئی نے کہا: 'اب ہر چیز مہنگی ہے، قیمتیں روزانہ بڑھ رہی ہیں۔ ٹماٹر جس کی قیمت ایک دن پہلے قیمت 50 افغانی تھی، اب 80  افغانی میں فروخت ہو رہے ہیں۔'

معیشت کو دوبارہ حرکت میں لانے کی کوشش کے سلسلے میں طالبان نے بینکوں کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے، لیکن نقد رقم نکالنے پر ہفتہ وار سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور بہت سے لوگوں کو اب بھی کیش نکالنے کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے آنے والے دنوں میں شدید خشک سالی کے خطرے سے خبردار کیا ہے کیونکہ ہزاروں کسان شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔

رہائشیوں نے بتایا کہ سڑکوں کے کنارے اور پارکوں میں بنے خیمے عام ہیں، جہاں لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

خوراک اور بنیادی ضروریات کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے اس ملک کی کرنسی پر، جو اب اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد سے بھی محروم ہے، مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔

افغان کرنسی افغانی کی قیمت حال ہی میں کابل اور مشرقی شہر جلال آباد دونوں میں تقریباً 93-95 ڈالر تھی، اس کے مقابلے میں شہر کے طالبان کے کنٹرول میں جانے سے قبل یہ 80 کے قریب تھی، لیکن یہ شرح صرف ایک اشارہ ہے، کیونکہ تجارت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

سرحد کے قریب واقع پاکستانی شہر پشاور میں، بہت سے منی ایکسچینجر افغان کرنسی لینے سے انکار کر رہے ہیں، جو کہ بہت زیادہ غیر مستحکم ہوگئی ہے۔

ایک تاجر نے کہا: 'بازار میں آپ افغان کرنسی کو 90 ڈالر سے زائد میں تبدیل کرسکتے ہیں لیکن یہ اوپر نیچے ہوجاتا ہے کیونکہ یہ سرکاری نہیں ہے۔ اگر وہ (طالبان) دوبارہ ایکسچینجز کھولتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ یہ 100 سے اوپر چلے جائے گی۔'


طالبان ملک چھوڑنے والوں کے لیے ’محفوظ راستہ‘ یقینی بنائے: قطر

قطر نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ ان افغانوں کے ’محفوظ راستہ‘ یقینی بنائیں جو امریکی انخلا کے بعد بھی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن ال ثانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم طالبان پر نقل و حرکت کی آزادی پر  زور دیتے ہیں اور یہ بھی کہ ملک چھوڑنے یا داخل ہونے کے خواہشمند افراد کے لیے محفوظ راستہ ہونا چاہیے۔‘

اس موقع پر ان کے ہمراہ نیدرلینڈز کی وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔

نیدر لینڈز کی وزیر خارجہ سیگرید کاگ نے اسی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد نیدر لینڈز اپنے سفارتی مشن کو کابل سے قطر منتقل کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور برطانیہ پہلے ہی ایسا کر چکے ہیں۔


امریکی انخلا کے بعد حامد کرزئی ایئرپورٹ پر رش کم، طالبان کا گشت


برطانیہ افغان پناہ گزینوں کا مقروض ہے: بورس جانسن

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بدھ کے روز بیان دیا ہے کہ برطانیہ پر ان افغان باشندوں کا بے پناہ قرض واجب الادا ہے جنہوں نے نیٹو افواج کے ساتھ کام کیا۔

انہوں نے یہ بیان برطانیہ آںے والے افغان پناہ گزینوں کے لیے بھرپور تعاون کا اعلان کرتے ہوئے دیا ہے۔

لیکن ان کی حکومت اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے کیوں کہ وہ ہزاروں افغان جنہوں نے نیٹو کی مدد کی اور ’نقل مکانی اور امدادی پالیسی‘ کے تحت برطانیہ منتقل ہونے کے اہل تھے وہ اب بھی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ کُلی طور پر طالبان کے رحم و کرم پر ہیں۔

آٹھ ہزار سے زائد افراد اب تک برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومت برطانیہ نے بدھ کے روز یہ اعلان بھی کیا کہ انہیں فوری طور پر غیر معینہ مدت تک قیام کی سہولت دی جائے گی نیز سکولوں اور صحت سہولیات تک رسائی کے لیے 15 ملین پاؤنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم نے نام نہاد ’آپریشن خوش آمدید‘ کے بارے میں کہا ’ہم افغانستان میں مسلح افواج کے ساتھ کام کرنے والوں کے بے حد قرض دار ہیں اور میں پرعزم ہوں کہ ہم انہیں اور ان کے اہل خانہ کو برطانیہ میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل مدد فراہم کریں گے۔‘

’میں جانتا ہوں کہ یہ ایک ناقابل یقین حد تک مشکل وقت ہوگا لیکن مجھے امید ہے کہ برطانوی عوام کے اظہار کردہ تعاون اور دریا دلی کی لہر سے ان کے دل بڑے ہوں گے۔

’ ہم افغانیوں کو یہاں کام کرنے کے غیر محدود حقوق اور مستقبل میں برطانوی شہریت کے لیے درخواست دینے کے اختیارات کے ساتھ اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کے لیے یقین اور استحکام دیں گے۔‘


طالبان کے الفاظ پر بھروسہ نہیں عمل کو دیکھیں گے: صدر بائیڈن

 

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ امریکی فوجیوں، افغان شہریوں اور دیگر اتحادیوں کے انخلا کو ’غیر معمولی کامیابی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں جنگ کو مزید جاری نہیں رہنے دے سکتے تھے۔

کابل سے آخری امریکی فوجی کو لے کر سی 17 کارگو طیارے کے اڑںے کے 24 گھنٹے بعد منگل کو قوم سے خطاب میں صدر بائیڈن نے امریکہ کی طویل ترین جنگ ختم کرنے اور 31 اگست تک افغانستان سے انخلا کے اپنے فیصلے کا بھرپور دفاع کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں خطاب میں صدر بائیڈن نے کہا: ’میں اس ہمیشہ سے جاری جنگ کو مزید بڑھانے والا نہیں تھا اور نہ ہی کب سے جاری انخلا کو طول دینے والا تھا۔‘

انہوں نے اپنے فیصلے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا: ’میں نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اس جنگ کو ختم کروں گا۔ آج میں نے یہ وعدہ پورا کیا۔‘

’افغانستان میں 20 سال جنگ کے بعد میں نے امریکی بیٹے اور بیٹیوں کی ایک اور نسل کو جنگ لڑنے بھیجنے سے انکار کیا۔‘

صدر بائیڈن کو طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغانستان سے عجلت میں انخلا کے آپریش کی وجہ سے کافی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ دو ہفتوں میں کابل ایئرپورٹ پر موجود ملک سے نکلنے کے خواہش مند افراد کے ہجوم اور جہازوں سے گرنے والے افراد کے دل دہلا دینے والے مناظر نے صدر کے اقتدار کا سنگین ترین بحران پیدا کر دیا ہے۔

اس دوران ہوائی اڈے پر داعش خراساں کا خودکش حملہ بھی ہوا جس میں 160 سے زیادہ افغانوں سمیت 13 امریکی فوجی جان سے گئے۔

صدر کو مخالف ری پبلکن پاڑی سے انخلا کے طریقہ کار پر شدید تنقید کا سامنا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد یہ ناگزیر تھا کہ انخلا، چاہے وہ جب بھی ہوتا، منظم انداز میں بغیر کسی مسئلے یا تشدد کے پورا ہو۔

افغانستان سے امریکی انخلا کا معاہدہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ دوحہ میں طے پایا تھا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ دوحہ معاہدے کی خلاف وزری سے ایک اور لڑائی چھڑ جانی تھی۔ ’افغانستان میں جنگ کی تیسری دہائی جاری رکھنے والوں سے میں پوچھوں گا کہ اس میں کیا اہم قومی مفاد ہے؟‘

انہوں نے کہا: ’میں نہیں مانتا کہ افغانستان میں ہزاروں امریکی فوجیوں کو تعینات رکھنے اور اربوں ڈالر خرچ کرنے سے امریکی کی سلامتی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جنگ جاری رکھنے کے حامی اس کے امریکی فوجیوں کے لیے ذہنی صحت اور طلاق اور ملک کے لیے اخراجات اور مالی مشکلات کا نہیں سوچ رہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر بائیڈن نے افغانستان میں داعش خراسان کے بڑھتے خطرے پر بھی بات کی اور انہیں خبردار کیا کہ امریکہ ان کا پیچھا کرے گا۔ ’ہمارا ابھی آپ سے واستہ ختم نہیں ہوا۔‘

20 سال کی جنگ کے بعد افغانستان کا کنٹرول ایک بار پھر سنبھالنے والے طالبان کے بارے میں صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے وعدے کہے ہیں مگر امریکہ صرف الفاظ کو نہیں مانتا۔ ’ہم انہیں صرف ان کے قول پر نہیں بھروسہ کریں گے بلکہ ان کے اعمال کو بھی۔‘

صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ کو طالبان کو کیے گئے وعوں پر پورا اترنے پر مائل کر سکے۔


طالبان کو الگ تھلگ کرنے میں نقصان ہے: قطر

قطر نے خبردار کیا ہے طالبان کو الگ تھلگ کر دینے سے افغانستان میں پہلے ہی غیر مستحکم صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں سلامتی اور سماجی و معاشی استحکام کے لیے طالبان سے رابطے قائم کریں۔  

وزیر خارجہ شیخ محمد نے دوحہ میں اپنے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس کے ساتھ ملاقات میں کہا: ’اگر ہم شرائط رکھنا شروع کریں گے اور رابطے نہیں کریں گے تو ہم ایک خلا چھوڑ رہے ہوں گے اور سوال یہ ہے کہ اس خلا کو کون پُر کرے گا۔‘

قطر طالبان سے رابطے کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے جس نے 2013 سے گروہ کو وہاں سیاسی دفتر قائم رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے جبکہ امریکہ طالبان اور بین الافغان مذاکرات کی بھی میزبانی کرتا آیا ہے۔

14 اگست کو طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے کسی مغربی ملک نے ان کی حکومت تسلیم نہیں کی ہے، تاہم ان ممالک نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے تمام دھڑوں کو شامل کر کے انکلوسیو حکومت قائم کریں اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔

شیخ محمد نے کہا: ’ہمارا ماننا ہے کہ روابط بڑھانے کے بغیر ہم ان تک نہیں پہنچ سکتے اور اس سے سلامتی اور سماجی و معاشی سطح پر بھی حقیقی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔‘

جرمنی کے وزیر داخلہ ہائیکو ماس نے کہا کہ برلن افغانستان کی مدد کو تیار ہے مگر بین الاقوامی امداد کچھ شرائط کے ساتھ آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’طالبان سے بات چیت کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری افغانستان میں عدم مستحکم برادشت نہیں کر سکتی۔


افغانستان پر کنٹرول کے بعد طالبان اور بھارت کی پہلی ملاقات

افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد قطر میں بھارتی سفیر کی ایک اعلیٰ طالبان رہنما سے پہلی باضابطہ سفارتی ملاقات ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے بتایا کہ سفیر دیپک متل نے طالبان کی درخواست پر دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات کی۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں فریقوں نے افغانستان میں رہ جانے والے بھارتی شہریوں کی حفاظت پر تبادلہ خیال کیا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ متل نے بھارت کے اس خدشے سے بھی آگاہ کیا کہ بھارت مخالف عسکریت پسند افغانستان کی سرزمین کو حملوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا: ’طالبان کے نمائندے نے سفیر کو یقین دلایا کہ ان مسائل کو مثبت طور پر حل کیا جائے گا۔‘

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب شیر عباس ستانکزئی نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ طالبان بھارت کے ساتھ سیاسی اور معاشی تعلقات چاہتے ہیں۔

طالبان کی جانب سے بھارت کے ساتھ مذاکرات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

بھارت نے افغانستان میں ترقیاتی کاموں میں تین ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی اور امریکہ کی حمایت یافتہ اشرف غنی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے، لیکن طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کے ساتھ، بھارتی حکومت کو طالبان کے ساتھ کسی قسم کے روابط نہ رکھنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بھارت کے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے طالبان کے ساتھ غیر رسمی رابطے جون میں دوحہ میں قائم ہوئے۔ ایک ذرائع نے بتایا کہ حکمرانوں کو سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ طالبان کی غیر ملکی طاقتوں پر فتح سے مسلم اکثریتی کشمیر میں سرگرم حریت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق: ’سفیر نے بھارت کی اس تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی طرح بھارت مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔‘

طالبان کے گذشتہ دور حکومت میں بھارت نے روس اور ایران کے ساتھ مل کر شمالی اتحاد کی حمایت کی تھی، جس نے ان کے خلاف مسلح مزاحمت کی۔

ذرائع کے مطابق ستانکزئی، جن کے بارے میں بھارتی حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے 1980 کی دہائی میں ایک بھارتی فوجی اکیڈمی میں افغان افسر کی حیثیت سے تربیت حاصل کی تھی، نے گذشتہ ماہ غیر رسمی طور پر بھارت سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ وہ اپنا سفارت خانہ بند نہ کرے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا