طالبان انٹرویو سے تاریخ رقم کرنے والی خاتون صحافی افغانستان چھوڑ گئیں

طلوع نیوز سے منسلک بہشتہ ارغند نے کہا: ’میں نے ملک چھوڑا کیونکہ لاکھوں لوگوں کی طرح میں بھی طالبان سے ڈرتی ہوں۔‘

بہشتہ ارغند نے بتایا: ’میں نے ملک چھوڑا کیونکہ لاکھوں لوگوں کی طرح میں بھی طالبان سے ڈرتی ہوں۔‘(تصویر: سکرین گریب طلوع نیوز)

افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان رہنماؤں کا انٹرویو کرکے مختصر وقت میں پوری دنیا کی اہم خبر بن جانے والی خاتون صحافی بہشتہ ارغند افغانستان چھوڑ گئیں۔

دارالحکومت کابل اور کئی دیگر اہم مقامات کا کنٹرول 10 دن کے اندرحاصل کرنے والے طالبان اب ملک کے واحد حکمران ہیں۔ طالبان کے دور میں افغان خواتین کا مستقبل کیا ہے، ساری دنیا کی نظریں اسی پر جمی ہیں۔

اس مسئلے پر اعتدال پسند پیغام دینے والے طالبان نے گذشتہ ہفتوں میں ایک اہم قدم اٹھایا اور ایک طالب عہدیدار نے بہشتہ ارغند نامی خاتون میزبان کے پروگرام میں شرکت کی اور کچھ سخت سوالات کے جواب بھی دیے۔

یہ انٹرویو جو 2004 میں قائم ہونے والے طلوع نیوز چینل پر نشر کیا گیا تھا، مختصر وقت میں دنیا کے مختلف حصوں میں شہ سرخی بنا اور ارغند کو ایک دم مشہور صحافی بناگیا۔

اس انٹرویو کے بعد ارغند نے ملالہ یوسف زئی کا بھی انٹرویو کیا جو طالبان کے قاتلانہ حملے میں بچ گئی تھیں اور دستیاب معلومات کے مطابق کسی افغان چینل پر یہ ان کا پہلا انٹرویو تھا۔

تاہم ، طالبان کے تمام اعتدال پسند پیغامات کے باوجود ارغند نے خود کو محفوظ محسوس نہیں کیا اور سی این این انٹرنیشنل کی خبر کے مطابق وہ ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سی این این کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے ارغند نے کہا کہ میں نے ملک چھوڑا کیونکہ لاکھوں لوگوں کی طرح میں بھی طالبان سے ڈرتی ہوں۔ انٹرویو کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں نے یہ افغان خواتین کے لیے کیا۔‘

ملالہ یوسف زئی کے انٹرویو کے دو دن بعد ارغند منگل کو قطر فضائیہ کی انخلا پرواز میں خاندان کے چند افراد سمیت سوار ہوئیں۔

ارغند نے کہا: ’اگر طالبان اپنی باتوں پر عمل کریں اور حالات بہتر ہوں تو میں اپنے ملک واپس آؤں گی اور اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لیے کام کروں گی۔‘

طلوع نیوز کے مالک سعد محسنی نے افغانستان کی تازہ ترین صورت حال کا خلاصہ ان الفاظ کے ساتھ کیا: ’ہمارے تقریباً تمام نامور رپورٹرز اور صحافی چلے گئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین