افغان خواتین کے حقوق: کون کتنا سنجیدہ تھا یا ہے؟

طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں میں شروع دن سے خواتین کی موثر شمولیت کو مکمل نظرانداز کیا جاتا رہا۔ اس وقت تو مغربی میڈیا نے اس شدت سے خواتین کے مذاکرات کے عمل میں شرکت پر زور نہیں دیا۔

دو نومبر 1996 میں طالبان دورہ حکومت کے دوران تین خواتین طالبان کی جانب سے پردے کے لیے نافذ ہدایات کے تحت برقعے میں ملبوث جنگ سے تباہ حال کابل شہر کے سابق تجارتی مرکز سے تانگے پر گزر رہی ہیں (اے ایف پی فائل فوٹو)

افغانستان کی ایک کروڑ اسی لاکھ خواتین کے روشن اور تابناک مستقبل کے لیے ہر کوئی فکر مند نظر آ رہا ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ آج یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ خواتین کی ترقی اور شمولیت کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔

طالبان نے جیسے ہی افغانستان کا اقتدار سنبھالا ہے مختلف سطحوں پر مختلف تجزیے سامنے آرہے ہیں۔ بعض لوگ اس لیے بھی شدید فکر مند ہیں کہ ان کے خیال میں 1996 سے 2001 تک طالبان کے دورِ اقتدار کے دوران خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا تھا۔ سکول جانے کی ممانعت، نوکری نہ کرنا یا بغیر محرم کے سفر نہ کرنا۔

کچھ لوگ اس دفعہ طالبان کے نسبتا نرم رویے کو بنیاد بنا کر کسی حد تک پرامید ہیں کہ وہ بدل چکے ہیں۔ ان کے خیال میں طالبان کو عصر حاظر کے حالات اور رجحانات کا اندازہ ہوچکا ہے لہذا شاید اب وہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔ یہ ایک خوش آئند اشارہ ہے کہ اس مرتبہ طالبان نے خواتین کو نئی حکومت میں شامل ہونے کی ترغیب دی ہے اور عام معافی کا اعلان کیا ہے۔

جب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے، مغربی میڈیا لگاتار خواتین کے صورت حال پر تجزیے اور مباحثے تواتر سے نشر کر رہا ہے۔ یہ سب دیکھ کر تاثر یہ مل رہا ہے جیسے مغرب کو افغانستان کی خواتین کی شدید فکر ہے۔ شاید ایسا ہو بھی لیکن یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں میں شروع دن سے خواتین کی موثر شمولیت کو مکمل نظرانداز کیا جاتا رہا۔ اس وقت تو مغربی میڈیا نے اس شدت سے خواتین کے مذاکرات کے عمل میں شرکت پر زور نہیں دیا بلکہ ایک طرح سے چشم پوشی کی۔

آج مغربی میڈیا پرزور طریقے سے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ افغانستان کی خواتین نے پچھلی دو دہائیوں میں بہت ترقی کی ہے اور اس کو اب شدید خطرہ ہے۔

اس بات کی تصدیق امریکی انٹیلی جنس کی ایک حالیہ دو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے جاری کی تھی جس کے مطابق ’عسکریت پسندوں کے خیالات اب بھی ماضی والے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کے حقوق کے حوالے سے طالبان کے خیالات مستقل طور پر پابندیوں پر مبنی ہیں اور ان کے دوبارہ حکومت میں آنے سے گذشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی پیش رفت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گذشتہ 20 سالوں کی ترقی غیر متوازی اور غیر پائیدار ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار عالمی دباؤ پر ہے۔

اس حوالے سے بیرونی دباؤ ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ طالبان بیرونی امداد اور قبولیت کے لیے اپنی پالیسیوں میں کسی حد تک نرمی لا سکتے ہیں۔ امریکی ادارے کی اس رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ہے اگر طالبان دوبارہ حکومت میں آتے ہیں تو ان کی پہلی ترجیح اپنی شرائط پر اپنے اختیار کو بڑھانا ہوگا۔ یہاں اچنبھے کی بات یہ ہے کہ جب امریکہ کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ برسر اقتدار آنے کے بعد طالبان افغان خواتین کی ترقی کا راستہ روک سکتے ہیں تو مذاکرات کے دوران اور دوحہ معاہدے کے وقت امریکہ نے انسانی حقوق کی بحالی اور خواتین کی ترقی کے معاملے کو مکمل نظر انداز کیوں کیا؟

اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ امن کے نام پر ہمیشہ کی طرح یہاں بھی انسانی حقوق اور خواتین کی ترقی کو قربان کیا گیا۔ اس سب کا ازالہ تو اب نہیں ہوسکتا لیکن مستقبل کے امور میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاسکتا ہے کہ انسانی حقوق اور خواتین کی ترقی نظر انداز نہ ہوں۔

کئی مغربی ممالک جو انسانی حقوق کی بحالی اور ترقی کی مد میں افغانستان کو اچھی خاصی امداد دیتے آئے ہیں، وہ آج سر جوڑ کر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا طالبان کی حکومت بننے کے بعد وہ اپنی امداد جاری رکھیں یا اس کو بند کر دیں۔ افغانستان کی لوگوں کی مدد کرنا بین الاقومی ممالک کا فرض ہے۔ اس مشکل وقت میں ان کو اکیلے چھوڑنا ایک اور سنگین حماقت ہوگی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان عوام کے حقوق کی بحالی اور ترقی کی مد میں امداد کے لیے باہمی مشاورت سے راستے نکالے جائیں اور ان کی مدد کی جائے۔ اس دفعہ نئی حکومت کو انسانی حقوق کی بحالی اور خواتین کی ترقی کے لیے ہر طرح سے پابند کرنے کی کوشش کی جائے۔ سب کو مل کر یہ حل نکالنا ہوگا کہ افغانستان کی خواتین کو کیسے بااختیار بنایا جائے اور کس طرح آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میز پر ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس مرتبہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اقتدار سنبھالتے ہی طالبان کا رویہ کچھ حد تک خواتین کے حوالے سے نرم بھی ہے اور مثبت بھی۔ کابل کی گلیوں میں خواتین صحافیوں کی موجودگی، اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھنا اور منگل کو نجی افغان چینل طلوع ٹی وی پر خاتون اینکر کا طالبان ترجمان کا براہ راست انٹرویو جیسے واقعات کسی حد تک ہمیں یہ امید دلاتی ہیں کہ خواتین کو اس دفعہ مکمل نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

بصورت دیگر سوال اہم رہے گا کہ اگر طالبان حقوق انسانی خصوصا خواتین کے حقوق اور میڈیا کی آزادی سلب کرنا شروع کر دیتے ہیں تو کیا دنیا انہیں تسلیم کرے گی؟

اعداد وشمار اور حقائق سے واضح ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حالت انتہائی خراب ہے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ماضی میں افغان رہنماؤں کی بیویوں کا قومی زندگی میں عملی طور پر کوئی حصہ نہیں رہا۔ یہ حامد کرزئی اور اشرف غنی کی صدارتوں کے لیے بھی درست ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے اعلیٰ افغان رہنماؤں کے خاندان بیرون ملک مقیم ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا خاندان انڈیا میں اور رشید دوستم کا انقرہ میں رہتا ہے۔

1990 کی دہائی کے اواخر میں جب طالبان نے افغانستان پر حکومت کی تو عورتوں پر سخت دباؤ ڈالا گیا۔ لڑکیوں پر آٹھ سال کی عمر میں سکول جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ خواتین کو ملازمت سے منع کیا گیا تھا اور توقع کی جاتی تھی کہ وہ مکمل پردہ کریں گی۔ بصورت دیگر اس کے نتائج سنگین تھے سرعام کوڑے مارے جانے سے لے کر پھانسی تک۔

طالبان کے خاتمے کے بعد افغانستان  کی حکومت نے مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کا وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ بہت حد تک وفا نہیں کیا گیا۔ آج بھی خواتین کے حقوق کے بارے میں منفی سوچ اور روایات بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ افغان خواتین ترقی کے عمل میں اپنے آپ کو محدود اور خارج سمجتھی ہیں۔ بون عمل کے بعد کرزئی حکومت میں قومی زندگی کے دھارے میں خواتین کی شرکت کسی حد تک بحال ہوئی تھی لیکن یہ بھی درست ہے کہ افغانستان کے قبائلی معاشرے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے افغان قیادت کی طرف سے شاید ہی کوئی حمایت حاصل ہوئی ہو۔

اس تمام صورت حال میں افغانستان میں انسانی حقوق اور باالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے دہایئوں سے کام کرنے والی خواتین کارکن اور رہنماؤں کی موجودگی ایک امید دیتی ہے۔

افغانستان کی خواتین پوری دنیا کے لیے بہادری اور مزاحمت کا استعارہ ہیں۔ ان میں سے اکثریت آج بھی افغانستان میں موجود ہیں اور اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کی ایک مثال خواتین کے نیٹ ورک کی بانی محبوبہ سراج ہیں جو اس وقت افغانستان میں رہ رہی ہیں۔

محبوبہ سراج ملک میں رہتے ہوئے خواتین اور لڑکیوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ افغانستان میرا ملک ہے اور میں نہیں چاہتی کہ اس بار کوئی مجھے اس سرزمین سے نکلنے پر مجبور کرے۔ ایک حالیہ انٹریو میں محبوبہ نے کہا کہ وہ اس حقیقت پر حیران ہیں کہ 20 سال کی انسانی اور فوجی امداد کے بعد افغانستان کی خواتین کے حقوق اور آزادیوں کو یقینی طور پر ایک سنگین مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری طرف اس سنگین صورتحال میں کچھ افغان خواتین کا کابل میں دن کی روشنی میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کرنا اور اپنے مطالبات سامنے لانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ خواتین اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے ہمہ تن تیار ہیں۔ ان میں اکثریت تعلیم یافتہ ہیں اور پوری دنیا میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہیں۔

انسانی حقوق اور خواتین کی ترقی کے خواہاں ملکوں، اداروں اور سربراہان کو ان کی مدد کرنا ہوگی۔ یہ امر اب پوری طرح عیاں ہے کہ افغانستان سے لوگوں کا انخلا دیرپا حل نہیں ہے۔ دنیا کو اب بہتر اور پرامن مسقبل کے لیے مل کر انتہا پسند نظریے کے خاتمے کے لیے عملی طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ