برقعہ نہیں یونیفارم میں ڈیوٹی کرنا چاہتی ہوں: افغان پولیس اہلکار

21 سال کی عمر میں پولیس فورس جوائن کرنے والی زالہ زازئی افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد کچھ ہفتے پہلے ملک سے نکل چکی ہیں اور اب ایک دوسرے ملک میں رہائش پذیر ہیں۔

زالہ نے بتایا کہ   پولیس جوائن کرنے کا  انہیں  شوق تھا اور پولیس فورس کے ساتھ انہیں بے پناہ محبت تھی (فوٹو:زالہ زازئی)

افٖغانستان جب سے افغان طالبان کے زیر انتظام آیا ہے، تب سے وہاں سرکاری محکموں اور نجی اداروں میں کام کرنے والے خواتین تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ ابھی تک افغان طالبان کی جانب سے خواتین کے کام کرنے کے حوالے سے کوئی پالیسی سامنے آئی ہے اور نہ ابھی تک افغانستان میں باقاعدہ طور پر حکومت کا اعلان کیا گیا ہے۔

مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین  وقتاً فوقتاً اس خوف کا احساس کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کہیں طالبان گذشتہ دور حکومت کی طرح خواتین کے کام کرنے پر پابندی عائد نہ کردیں تاہم افغان طالبان نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ خواتین کو ’اسلامی شریعت‘ کے دائرے کے اندر کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

ان ہی شعبہ جات میں پولیس فورس میں کام کرنے والی افغان خواتین بھی شامل ہیں جو ابھی تک اپنے ڈیوٹی پر واپس نہیں گئی ہیں کیونکہ طالبان کی جانب سے پولیس کے حوالے سے ابھی تک کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔

آسٹریلوی ادارے لوی انسٹی ٹیوٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان کی پولیس فورس میں 2.6 فیصد خواتین شامل ہیں۔

اسی طرح اسی ادارے کے ایک سروے کے مطابق افغانستان کے 34 فیصد عوام سمجھتے ہیں کہ خواتین کو پولیس فورس میں کام کرنا چاہیے جبکہ 66 فیصد اس کے خلاف ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے ابھی تک خواتین پولیس کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا، تاہم عوام  کی مجموعی سوچ کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین پولیس اہلکار سمجھتی ہیں کہ طالبان انہیں پولیس فورس میں کام کرنے نہیں دیں گے لیکن یہ خواتین پھر بھی پر امید ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے افغانستان کے صوبہ خوست میں کام کرنے والے پہلی اعلیٰ خاتون پولیس افسر زالہ زازئی سے بات کی، جنہوں نے 21 سال کی عمر میں پولیس فورس جوائن کی اور ان کی تعیناتی خوست پولیس ہوئی تھی تاہم بعد میں ان کی تعیناتی کابل کے وزارت داخلہ میں ہوگئی۔

زالہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میرا پولیس جوائن کرنے کا سفر ہمیشہ کھٹن رہا ہے کیونکہ میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئی تھی، جہاں پر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی اور یہی وجہ تھی کہ میرے خاندان کی جانب سے پولیس میں شمولیت کی شدید مخالفت کی گئی تھی۔‘

انہوں نے بتایا: ’پولیس جوائن کرنے کا مجھے شوق تھا اور پولیس فورس کے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔ گھر والوں نے پولیس میں جانے کی مخالفت کی لیکن میری ماں نے مجھے سہارا دیا اور آخر کار مجھے پولیس جوائن کرنے کی اجازت مل گئی لیکن  میرے دیگر خاندان والوں نے ہمارے گھر والوں کے ساتھ تعلق ختم کردیا۔ انہوں نے ہمارے گھر آنا جانا بھی بند کردیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں نے پولیس جوائن کر کے کوئی جرم کیا ہے۔‘

زالہ کا کہنا تھا کہ وہ 21 سال کی تھی کہ انہوں نے صوبہ خوست میں پولیس کے انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں کام کرنا شروع کیا جب وہاں پر حالات کشیدہ تھے اور خوست میں طالبان جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے مابین لڑائی جاری تھی۔

انہوں نے بتایا: ’میری تعیناتی کی علاقے کے لوگوں کی جانب سے بھی مخالفت کی گئی لیکن میں چاہتی تھی کہ پولیس فورس میں جتنا مردوں کو حق ہے اتنا خواتین کو بھی حق ملنا چاہیے اور اسی سوچ کو بدلنے کے لیے میں نے بہادری سے پولیس فورس میں کام کرنا شروع کیا۔ افغانستان کی پولیس فورس میں خواتین جب آتی ہے تو وہ بہت مشکلات اور پریشانیوں سے گزر کر آتی ہے اور ملک و قوم کی خدمت کرتی ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد اب پولیس فورس میں خواتین  کا کیا مستقبل ہوگا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ بھی واضح نہیں ہے، تاہم بہت سی خواتین جو پولیس فورس میں کام کر چکی ہیں، وہ ملک سے نکلنے کی کوشش میں ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زالہ خود بھی افغانستان سے کچھ ہفتے پہلے نکل چکی ہیں اور اب ایک دوسرے ملک میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں رشتہ داروں اور طالبان کے ڈر سے تاجکستان منتقل ہوچکی ہوں۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ طالبان خواتین کو پولیس فورس میں کام کرنے کی اجازت دیں اور ان پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائیں۔ انہوں نے بتایا: ’میں طالبان سے یہی کہنا چاہتی ہوں کہ وہ خواتین کو پولیس یونیفارم میں قبول کریں اور ان کو کام کرنے دیں، نہ کہ ان کو برقعہ پہننے پر مجبور کیا جائے۔‘

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ ابھی تک صورت حال بالکل واضح نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اس صورت حال میں کوئی بھی خاندان اپنی بیٹی یا گھر کی خاتون کو پولیس فورس میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا طالبان کی جانب سے خواتین پولیس اہلکاروں کو بتایا گیا ہے کہ وہ ڈیوٹی پر نہ آئیں تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک طالبان کی جانب سے ہمیں کچھ نہیں کہا گیا۔

طالبان کا کیا موقف ہے؟

افغانستان پولیس میں کام کرنے والی خواتین اہلکاروں کے مستقبل کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے جب طالبان کے افغانستان میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ’جب نئی حکومت آئی گی تو وہ ہی خواتین کے کام کرنے کے حوالے سے پالیسی مرتب کرے گی۔‘

اسی طرح افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مجموعی طور پر خواتین کو کام کرنے کی اجازت ہے تاہم موجودہ صورت حال نارمل نہیں ہے کہ خواتین کام کر سکیں۔

انہوں نے بتایا: ’پولیس فورس میں بھی خواتین کی ضرورت ہے کہ وہ کام کر سکیں لیکن آہستہ آہستہ یہ سارے معاملات حل ہوجا ئیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین