موٹر سائیکل سوار افغان خواتین کیا پیغام دے رہی ہیں؟

افغانستان کے ایک دور دراز علاقے میں 10 نوجوان افغان خواتین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مردوں کے سامنے موٹر سائیکل شو میں حصہ لیا۔

افغانستان کے دور دراز دیہاتوں میں خواتین کا موٹر سائیکل چلنا غیر معمولی بات ہے

افغانستان میں خواتین نے گھریلو تشدد سے نجات پانے کے لیے ایک انوکھی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں خواتین کے موٹر سائیکل شو سمیت متعدد پروگرام شامل ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق 16 روزہ آگاہی مہم کے دوران افغانستان کے وسطی صوبے دایکندی کے دور دراز علاقے میں 10 نوجوان افغان خواتین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مردوں کے سامنے موٹر سائیکل شو میں حصہ لیا۔ عالمی تنظیم آکسفیم انٹرنیشنل کے تعاون سے جاری اس مہم میں میرامور، شہرستان اور نیلی سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے موٹر سائیکل شو کا مقصد خواتین کے حقوق کی طرف عوام کی توجہ مبذول کروانا ہے۔

افغانستان کے دور دراز دیہاتوں میں خواتین کا موٹر سائیکل چلنا غیر معمولی بات ہے۔ ویسے تو ملک کے پہاڑی علاقوں میں موٹر سائیکل کی سواری عام ہے جہاں گاڑیوں کے گزرنے کے لیے مناسب سڑکیں موجود نہیں۔ تاہم بہت سارے لوگوں کے لیے خواتین کا موٹرسائیکل چلانا معمولی بات نہیں۔

دایکندی میں خواتین کے لیے قائم ادارے کی ڈائریکٹر مرضیہ ہمدرد نے کہا: ’یہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ موٹر سائیکل پر بیٹھنا کوئی عجیب بات نہیں اور خواتین کو بہتر، زیادہ آزاد اور محفوظ ماحول میں رہنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہے۔‘ ان خواتین موٹرسائیکل سواروں نے دوسرے خاندانوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی زندگیاں آسان بنانے کے لیے انہیں موٹر سائیکل چلانے اور اسے سیکھنے کی اجازت دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تقریباً چھ دہائیوں قبل اقوام متحدہ نے 25 نومبر کو ’خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے‘ کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے مربوط مہم چلائی جاتی ہے۔

’دا افغانستان انڈپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن‘ (اے آئی ایچ آر سی) کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری بیان میں کہا گیا کہ پچھلے 10 ماہ کے دوران ملک میں خواتین پر تشدد کے 3777 واقعات درج ہوئے۔اس کے علاوہ بہت سارے کیسز ایسے ہیں جو کبھی رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے اس لیے یہ اعداد و شمار کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

کمیشن کے مطابق رواں سال بھی خواتین کے خلاف تشدد کی شدت میں اضافہ ہوا، جس میں 35 فیصد واقعات قتل، مار پیٹ، اعضا کاٹنے، زخمی کرنے اور جبری مشقت جیسے جسمانی تشدد سے متعلق تھے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین