’طالبان قانونی حیثیت حاصل کریں‘: امریکہ کا فنڈز جاری کرنے سے انکار

امریکہ نے طالبان کی طرف سے منجمد افغان اثاثوں کو جاری کرنے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل میں نئی حکومت کو پہلے قانونی حیثیت حاصل کرنی ہوگی۔

طالبان نے ایک کھلے خط میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا تھاکہ منجمد کیے گئے افغان اثاثوں کو جاری کیا جائے (اے ایف پی)

امریکہ نے جمعے کو طالبان کی طرف سے منجمد افغان اثاثوں کو جاری کرنے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل میں نئی ​​حکومت کو پہلے قانونی حیثیت حاصل کرنی ہوگی۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے ایک ٹویٹ کیے گئے بیان میں کہا کہ واشنگٹن نے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ اگر طالبان نے سابقہ ​​امریکی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بجائے فوجی طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا تو اہم غیر انسانی امداد کو روک دیا جائے گا۔ ویسٹ نے مزید کہا: ’اور یہی ہوا ہے۔‘

’قانونی حیثیت اور حمایت دہشت گردی سے نمٹنے، ایک جامع حکومت کے قیام اور اقلیتوں، خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا احترام کرنے کے اقدامات سے حاصل کی جانی چاہیے -- بشمول تعلیم اور روزگار تک مساوی رسائی۔‘

بدھ کو ایک کھلے خط میں طالبان نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا تھاکہ اگست میں ملک پر کنٹرول کے بعد منجمد کیے گئے افغان اثاثوں کو جاری کیا جائے۔

واشنگٹن نے افغان مرکزی بینک کے تقریباً 9.5 ارب ڈالرز کے اثاثوں کو منجمد کر رکھا ہے اور امداد پر منحصر معیشت تباہ ہو گئی ہے کیونکہ سرکاری ملازمین کو مہینوں سے تنخواہ نہیں دی گئی اور خزانہ درآمدات کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہے۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے خط میں کہا کہ افغانستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج مالی عدم تحفظ ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کے اندر معاشی بدحالی دنیا کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تھامس ویسٹ کا کہنا ہے کہ افغانستان طالبان کے اقتدار پر کنٹرول سے پہلے ہی کئی سالوں کی جنگ، خشک سالی اور کرونا وبا کی وجہ سے شدید معاشی اور انسانی مشکلات کا شکار تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’امریکہ افغان عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد جاری رکھے گا اور یہ کہ اس سال پہلے ہی 474 ملین ڈالرز فراہم کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن بھی ’اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی اس موسم سرما میں افغان شہریوں کی مدد میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ہم طالبان کے ساتھ واضح، صاف سفارت کاری جاری رکھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا