پنجاب: گیم آن ہے

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا اگلے سال مارچ میں اعلان کردہ ’مہنگائی مارچ‘ وقوع پذیر نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس کے نتیجے میں حاصل وصول کا حساب صفر بٹا صفر ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ شہباز شریف دو اگست، 2018 کو اسلام آباد میں حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمٰن سے بات کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم پہلے بھی بےمعنی تھی اب اس کا کردار شاید مزید کم ہو جائے(اے ایف پی)

ایک بات تو روزِ روشن کی طرح طے ہو گئی ہے کہ گڈشتہ کئی سالوں کی عرق ریزی، انتھک محنت اور رسوائی کے باوجود معاملات کولہو کے بیل کی طرح وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔

پنجاب میں مسلم لیگ ن کی سیاسی اور انتخابی طاقت تین سال قبل کی مانند بظاہر جوں کی توں برقرار ہے اور تمام تر کاوشیں ناکامی کا منہ دیکھتی نظر آتی ہیں۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی واضح اور ٹھوس کامیابی اس امر کی مضبوط دلیل ہے کہ آئندہ عام انتخابات، چاہے وہ اگلے سال ہوں یا دو ہزار تئیس کی مقررہ آئینی مدت میں، پنجاب میں مقابلہ صرف اور صرف پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کا ہو گا۔

صرف پنجاب میں گذشتہ تین سالوں میں 19 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے جن میں سے نو پر میدان مسلم لیگ ن نے مارا جبکہ آٹھ پر تحریکِ انصاف کامیاب ہوئی۔

لیکن ووٹوں کی برتری کا تناسب ہر نشست پر مسلم لیگ ن کے حق میں زیادہ رہا۔ یہاں تک کہ پنجاب میں تین ایسی صوبائی نشستیں جو تحریکِ انصاف کی تھیں وہ بھی مسلم لیگ ن نے شکار کر لیں۔

اسی عرصے میں، یعنی گذشتہ تین سالوں میں، ملک بھر میں قومی اور صوبائی نشستوں پر 29 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے جن میں سے 14 سیٹیں مسلم لیگ ن نے حاصل کیں جبکہ اس کے مقابلے میں تحریکِ انصاف 10 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر سکی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گذشتہ تین سالہ نہ سہی، مگر ایک سال کے دوران ضمنی انتخابات کے نتائج اور ووٹوں کے تناسب کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف اپنی حکومتی، جماعتی اور سیاسی پالیسیوں اور حکمت عملیوں میں تبدیلی لاتی مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا اور اب جب کہ وقت کم رہ گیا اور مقابلہ سخت ہوگیا ہے، تو بظاہر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے کمزور سہارے پر تکیہ کر لیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں محدود بلدیاتی انتخابات تو ایک روز بعد ہی ہو رہے ہیں، وہاں کا تماشہ تو جلد ہی سامنے آ جائے گا، لیکن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اگر مارچ اپریل میں کروائے بھی جاتے ہیں تو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی قانون سازی کا جو رخنہ درمیان میں ڈال دیا گیا ہے اس کا بنیادی مقصد ہی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات کو کچھ عرصہ مزید تاخیر کا شکار کر دیا جائے۔

حکمراں جماعت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مہنگائی کی سونامی اور بیڈ گورننس کی جو حشرسامانیاں تین سالوں میں مچائی گئی ہیں، پنجاب کے باسی اس کا حساب کتاب بےباق کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

دوسری جانب ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی مسلسل جیت نے عوامی اور انتخابی ہوا کا رخ لامحالہ اس جماعت کے حق میں کر دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں پنجاب میں تبدیلی کے لیے ن لیگ کی قیادت کے پاس آنے والی ایک تگڑی پیشکش اور فارمولے کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ مسلم لیگ ن کو یقین ہے کہ عوامی ماحول اب اس کے حق میں ہے اور ’آفر کے ذریعے آنے والی تبدیلی‘ ممکنہ طور پر قلیل مدتی ثابت ہو سکتی ہے جبکہ عام انتخابات کے نتیجے میں پنجاب کا بڑا حصّہ واپس اس جماعت کے حق میں پلٹ سکتا ہے۔

ن لیگ کی یہ سوچ اور حکمت عملی عین درست اس لیے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ملک میں آہستہ آہستہ اب عام انتخابات کے لیے ماحول سازی کا آغاز ہو رہا ہے۔

ایسے میں عدم اعتماد کے ذریعے یا کسی بھی اور فارمولے کے تحت تبدیلی طویل مدت میں کسی بھی اپوزیشن جماعت کے لیے سازگار ثابت نہیں ہو سکتی۔

سیاست میں وقت کا درست استعمال سب سے اہم عنصر ہوتا ہے۔ اب جب کہ حکومت کا آخری ڈیڑھ سال ہی رہ گیا ہے لہذا اس عرصہ میں حکومت کا گرایا جانا سودمند کم اور نقصان دہ زیادہ ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ میری ناقص رائے میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا اگلے سال مارچ میں اعلان کردہ ’مہنگائی مارچ‘ بھی وقوع پذیر نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس کے نتیجے میں حاصل وصول کا حساب صفر بٹا صفر ہے۔

نیز کوئی بھی ایسا مارچ یا دھرنا جس میں نواز شریف یا آصف زرداری یا بلاول بھٹو بذات خود شامل نہ ہوں اس کی کامیابی کے امکانات صفر ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن کو یہ امر زیادہ سوٹ کرتا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال میں بھی عمران خان کی حکومت مہنگائی، معیشت، آئی ایم ایف پیکج بحران کے بوجھ تلے دبی رہے اور ایکسپوژ ہوتی رہے تاکہ جنرل الیکشن میں کپتان کو ایک مکمل ناکام حکمران کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ اسی نااہلی، مہنگائی اور بیڈ گورننس کے بیانیے پر پی ٹی آئی کے مخالف ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فی الوقت تو لوکل گورنمنٹ الیکشن تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا  ’آئی اوپنر‘ ہوں گے اور اگر پی ٹی آئی شفاف طریقے سے آئندہ الیکشن جیتنے کی تیاری رکھتی ہے تو ہنگامی بنیادوں پر عوامی ریلیف کا سونامی لانا ہو گیا جو فی الحال تو مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آتا ہے۔

اسی مقصد کی خاطر حکومت نے آئندہ چھ ماہ کے لیے سبسڈی کے ریلیف پیکج کا بھی اعلان کیا لیکن یہ عوام کے لیے کمرتوڑ اور وسیع البنیاد مہنگائی کا نعم البدل ثابت نہیں ہو گا۔

دوسری جانب رابطوں کا بھی آغاز ہو گیا ہے چاہے وہ سیاسی ہوں یا غیرسیاسی۔ پنجاب میں ہونے والے یہ رابطے انتہائی معنی خیز ہیں اور ہدف ان کا آئندہ عام انتخابات ہیں۔

فی الوقت کم کہے اور کم لکھے کو اتنا جانیے کہ اگلے سال کے ابتدائی چند ماہ میں ہی تحریکِ انصاف کو بڑے دھچکے لگنے شروع ہوجائیں گے جن کے اصل اثرات عام انتخابات کے لیے مقصود ہوں گے۔

پنجاب میں گیم آن ہو گئی ہے اور کپتان کے لیے نہ تو موسم سازگار نظر آ رہا ہے نہ ہی پچ موافق۔


نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کے تجزیے پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ