پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کا فیصلہ

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ’پنجاب حکومت سمجھتی ہے کہ بلدیاتی ادارے انہوں نے بحال کیے ہیں، ہم تحقیقات کرکے معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔‘

سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کا ایک منظر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے نوٹیفیکیشن کی ڈرافٹنگ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں تشکیل کردہ بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی، جہاں پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا نوٹیفکیشن عدالت عظمیٰ میں پیش کیا۔

جسٹس گلزار احمد نے نوٹیفکیشن کی ڈرافٹنگ پر اعتراض کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’پنجاب حکومت سمجھتی ہے کہ بلدیاتی ادارے انہوں نے بحال کیے ہیں، ہم تحقیقات کرکے معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔‘

عدالت عظمیٰ نے پنجاب حکومت کے لاہور ہائی کورٹ کے حکم ناموں پر جمع تحریری جوابات کی مصدقہ نقول کے ساتھ ساتھ  چیف سیکریٹری پنجاب، سابق چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں  کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب حکومت  کو جواب دینے کا حکم دے کر سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

معاملہ کیا ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت دو روز قبل ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کی منظوری دے کر فوری طور پر ایڈمنسٹریٹرز کو دستبردار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ بلدیات کو اسی روز نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر محکمہ بلدیات نے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر فی الفور عمل کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے اور ایڈمنسٹریٹرز کی دستبرداری کا نوٹیفکشن جاری کیا تھا۔ 

نوٹیفکیشن کے تحت پنجاب میں ضلع و تحصیل سطح کے 229 بلدیاتی نمائندوں اور سربراہان اور یونین کونسل کے 58 ہزار بلدیاتی نمائندے بحال کر دیئے گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا تفصیلی فیصلہ جولائی 2021 میں سنایا تھا، لیکن حکومت نے اس فیصلے پر من و عن عمل نہیں کیا اور پنجاب سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو مکمل طور پر بحال نہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ایڈمنسٹریٹرز لگا دیے گئے تھے، جس پر پنجاب کے ضلعی میئرز نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔

یہ پٹیشن ابھی زیرسماعت ہی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان اداروں کو بحال کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا اور غیر منتخب ایڈمنسٹریٹرز کو عہدوں سے ہٹا دیا۔

موجودہ حکومت کا نیا مجوزہ بلدیاتی نظام کیا تھا؟

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے مئی 2019 میں پنجاب اسمبلی سے نئے بلدیاتی نظام کا ترمیمی قانون برائے 2019 منظور کروایا تھا۔

صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود ایوان میں اکثریت ہونے کے باعث حکومت یہ قانون باآسانی منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ 

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے قانون منظور ہونے کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’ماضی میں سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر مفلوج بلدیاتی ادارے تشکیل دیے جاتے رہے جن کے پاس نہ کوئی اختیارات ہوتے تھے اور نہ ہی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے فنڈز۔ ‏پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام میں نہ صرف اختیارات بلکہ 30 فیصد ترقیاتی بجٹ بھی گاؤں کی سطح تک پہنچائے جائیں گے۔‘

نئے بلدیاتی مسودہ قانون کے مجوزہ اہم نکات

  • دیہات میں ویلج کونسل اور شہروں میں محلہ کونسل کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہوگا۔
  • تحصیل اور میونسپل کی سطح پر انتخاب جماعتی بنیادوں پر ہوگا۔
  • سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے لیے اپنے الگ پینل دینے کی پابند ہوں گی۔
  • تحصیل اور ویلج کونسل کا نظام قائم ہوگا۔
  • ضلع کونسل کے نظام کو ختم کردیا جائےگا۔
  • شہروں میں حلقہ بندیاں تبدیل کرکے میونسپل اور محلہ کونسل جب کہ دیہات میں تحصیل اور ویلج کونسل کے نام دیے جائیں گے۔
  • ویلج کونسل اور محلہ کونسل میں براہ راست الیکشن ہوگا، زیادہ ووٹ لینے والا چیئرمین قرار دیاجائے گا۔
  •  قانون منظور ہوتے ہی موجودہ بلدیاتی ادارے ختم ہوجائیں گے۔
  •  بلدیاتی اداروں کا ایک سال کے اندر انتخاب کرایا جائے گا۔
  • نئے انتخاب تک بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوں گے۔ 
  • بلدیاتی اداروں کو پنجاب کے بجٹ کا 33 فیصد حصہ دیا جائے گا۔
  • صوبہ پنجاب میں 22 ہزار ویلج کونسلیں قائم ہوں گی جبکہ 138 تحصیل کونسلوں کے انتخاب ہوں گے۔
  • قانون میں اداروں کی مدت میں کمی اور تعلیم کی شرط ختم کر دی گئی جبکہ پروفیشنل اور ٹیکنیکل ارکان کی تعداد کو برابر کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان