پنجاب میں ’جیالا وزیر اعلیٰ‘ لانا ممکن ہے؟

بلاول بھٹو زرداری نے ملتان میں سینئر صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پنجاب سے کئی سیاسی دھڑے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے خواہاں ہیں ان کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم مناسب وقت پر انہیں پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کرائی جائے گی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےگذشتہ ہفتے سے ملتان کے بلاول ہاؤس میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں جہاں سے وہ جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں میں ورکرز کنونشنز سے خطاب اور سیاسی ملاقاتیں کر رہے ہیں(تصویر: پیپلز پارٹی میڈیا سیل)

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان دنوں جنوبی پنجاب میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور مختلف شہروں میں ورکرز سے ملاقاتیں بھی جاری ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے میلسی ورکرز کنونشن میں دعویٰ کیا کہ وفاق کے ساتھ پنجاب میں بھی ’جیالا وزیر اعلیٰ‘ ہوگا۔

ان کے اس دعوے سے سیاسی تجزیہ کار اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا یہ دعویٰ اسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب وجوہات تلاش کی جائیں کہ جن کی وجہ سے پیپلز پارٹی پنجاب سے غائب ہوئی۔

دوسری جانب پی پی پی قیادت پنجاب سے سیاسی دھڑوں کو ساتھ ملانے اور ہیوی ویٹ الیکٹ ایبلز کی پارٹی میں شمولیت کے لیے حکمت عملی بھی تیار کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ملتان میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پنجاب سے کئی سیاسی دھڑے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے خواہاں ہیں ان کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم مناسب وقت پر انہیں پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کرائی جائے گی۔

پیپلز پارٹی رہنماؤں کے مطابق ان کے روٹی کپڑا اور مکان کے منشور کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔

پیپلز پارٹی کی پنجاب میں قدم جمانے کی حکمت عملی کامیاب ہوسکے گی؟

اس سوال کے جواب میں تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے الگ ہوکر پنجاب میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اگر صوبے میں جیالا وزیر اعلیٰ نہ بھی لایا جاسکے تو کم از کم جنوبی پنجاب جہاں پیپلز پارٹی کے لیے قدرے ہمدردی موجود ہے وہاں سے کچھ نشستیں حاصل کر لی جائیں تاکہ وفاقی حکومت بنانے میں آسانی رہے۔

ان کے خیال میں پنجاب کی سیاست دیکھیں تو اب یہاں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کا زور ہے گزشتہ الیکشن کی طرح اس بار بھی انہیں دو جماعتوں کے درمیان صوبائی معرکہ دکھائی دے رہا ہے۔

ان کے مطابق پی پی پی کو پنجاب میں ماضی کی طرح پذیرائی ملتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ اب یہاں کا ووٹر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے ساتھ شدت سے وابستگی رکھتا ہے۔

ان دو جماعتوں کے درمیان کسی تیسری پارٹی کا اس وابستگی کو توڑ کر اپنے ساتھ ملانا ممکن نہیں لگتا۔

ان کے بقول جہاں تک پی پی پی میں پنجاب سےسیاسی دھڑے شامل کرنے کی بات ہے تو اس بیان میں بھی فی الحال کوئی جان نظر نہیں آتی اور نہ ہی سیاسی منظر نامے میں ایسی کوئی گنجائش ابھی تک بن پائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن ہو یا پی ٹی آئی ان کے اراکین اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ان میں کوئی دراڑ ابھی تک ایسی نہیں جو انہیں اپنی پارٹیوں سے الگ کر کے تیسری پارٹی کی راہ دکھائے۔

سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تجزیہ کار حسن عسکری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہاکہ سیاسی لیڈر کارکنوں کو امید دلانے کے لیے ایسے وعدے کرتے رہتے ہیں کہ وفاق کے ساتھ پنجاب میں بھی جیالا وزیر اعلیٰ ہوگا مگر زمینی حقائق ہمیشہ ان بیانات کا ساتھ نہیں دیتے۔

ان کے بقول پیپلز پارٹی کو پنجاب میں کامیابی کی امید رکھنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ یہ پارٹی صوبے سے غائب کیوں ہوئی؟ ابھی تک تو پنجاب میں تنظیمی اختلافات مکمل دور نہیں ہو پائے جس سے یہاں قیادت کا بھی فقدان دکھائی دیتاہے۔

حسن عسکری نے کہاکہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں جگہ بنانے کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہاں کے ووٹرز زیادہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے ساتھ کس وجہ سے کھڑے ہیں انہیں ایسی کیا یقین دہانی کرائی جائے جو دونوں جماعتیں پوری نہ کرسکی ہوں؟

ان کے خیال میں ووٹرز کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کون اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے یا مخالف بیانیہ رکھتا ہےانہیں تو کاروبار، مہنگائی پر کنٹرول یا سوشل اکنامکس کی پالیسیوں سے راغب کیا جاسکتاہے جب کہ پیپلز پارٹی ابھی تک ایسا کوئی پروگرام مرتب نہیں کر سکی جس سے یہ تاثر مل سکے کہ وہ دوسری جماعتوں سے بہترہیں۔ ابھی تک پیپلز پارٹی صرف تنقید کر رہی ہے کوئی نئی سوچ نہیں دے رہی۔

پیپلز پارٹی کا دعویٰ اورپنجاب میں سیاسی سرگرمیاں

پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضٰی تجزیہ کاروں کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے کہ پیپلز پارٹی کےپاس پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی عملی پالیسی نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسن مرتضٰی نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب کی دیگر دونوں بڑی جماعتوں نے صوبے کے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔ پہلے ن لیگ کی بجائے پی ٹی آئی کو آزمایا گیا لیکن مسائل پہلے سے بھی زیادہ بڑھے اب لوگوں کوسمجھ آچکی ہے کہ کروڑوں نوکریاں اور لاکھوں گھر دینے والوں نے کروڑوں لوگ بے روزگار اور بے گھر کر دیےمہنگائی کی وجہ سے غریب کا چولہا ٹھنڈا پڑگیاہے۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ جنوبی پنجاب کے بعد چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سینٹرل پنجاب کا رخ کریں گے اورآنے والے الیکشن میں ہماری پوزیشن متسحکم ہوجائے گی۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے نواز لیگ دور میں نکالے گئے 16ہزار سرکاری ملازمین جو اپنے دور میں بحال کیے تھے، موجودہ دور میں عدالت کی جانب سے انہیں نوکری سے نکالنے پر موجودہ حکومت نے سہولت کاری کی بجائے ان کےاس فیصلے کے خلاف اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھ چکے ہیں کہ روزگار، مکان اور سستی اشیا صرف پیپلز پارٹی دے سکتی ہے۔ ’پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں جانے والے رہنما بھی واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں دیگر سیاسی دھڑے بھی شامل ہونے کے خواہش مند ہیں۔‘

الیکشن قریب آتے ہی معلوم جائے گا کہ پیپلز پارٹی کیسے پنجاب میں جیالا وزیر اعلیٰ اور وفاق میں جیالا وزیر اعظم بنائےگی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےگزشتہ ہفتے سے ملتان کے بلاول ہاؤس میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں جہاں سے وہ جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں میں ورکرز کنونشنز سے خطاب اور سیاسی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے میلسی، کہروڑ پکا، ڈیرہ غازی خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کیا، وہ ملتان سے ریلی کی صورت میں نکلتےہیں۔ آئندہ ہفتے بھی ان کا یہیں سرگرمیاں جاری رکھنے کا شیڈول جاری کیاگیاہے جس کے مطابق وہ کل جمعرات کو رحیم یارخان اور اس کے بعد لیہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کریں گے، جب کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے تنظیمی عہدیدار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست