پاکستان: دہشت گردی کے 68 منصوبے ناکام بنانے والے کتے

پشاور کا کینائین یونٹ اب تک دہشت گردی کے خلاف 68 کامیاب آپریشنز کر چکا ہے

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف بر سر پیکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ ان کے تربیت یافتہ کھوجی کتے بھی اہم سیکورٹی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

کھوجی کتوں ایسا ہی ایک یونٹ پشاور میں قائم ہے۔ یونٹ کے 62 کتوں میں نو جرمن شیپرڈ اور باقی لبراڈر نسل کے کتے ہیں۔

ان کی رکھوالی کرنے کے لیے الگ یونٹ تعمیر کیا گیا ہے جس میں 40 پولیس اہلکار کام کرتے ہیں۔

کینائن یونٹ کے انچارج محمد امین خان بتاتے ہیں کہ وہ خود ان کتوں کو تربیت دیتے ہیں-

اب تک اس یونٹ کے کتوں نے 68 کامیاب آپریشنز حصہ لیتے ہوئے مختلف بارودی مواد کی کھوج لگانے میں مدد دی ہے۔

محمد امین کے مطابق ’ہمارے ساتھ اس یونٹ میں دوسرے ضلعوں کے بھی کھوجی کتے موجود ہیں۔ ان کتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔

’پشاور کے داود زئی علاقے میں ایک بم دھماکے کے بعد دوسرا بم ہماری ٹیم کے کتے نے ڈھونڈ نکالا تھا، اسی طرح بنوں میں بھی ان کتوں نے دستی بم اور دوسرے بارودی مواد کی کامیابی سے کھوج لگائی۔‘

کینائن یونٹ کے اہلکار وقار خان نے بتایا کہ ہر ایک کتے کا اپنا نام اور نمبر ہوتا ہے۔اسی نام سے انہیں پکارا جاتا ہے۔

’ان کتوں کی ایک ہسٹری شیٹ ہوتی ہے، جس میں ان کے ماں باپ اور دیگر تفصیلات لکھی جاتی ہے۔اسی ہسٹری شیٹ میں ان کے ویکسنیشن اور علاج کے بارے میں بھی معلومات درج ہوتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ کتوں کی دیکھ بھال کے لیے  انہیں 24 گھنٹے پانی فراہم کیا جاتا ہے، اسی طرح گرمیوں میں اے سی لگائے جاتے ہیں اور ان کی صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا 24 گھنٹوں میں ہر ایک کتے کو700 گرام کی خصوصی خوراک فراہم کی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو