جج نے غیر ویکسین شدہ باپ کو بچے سے ملنے سے روک دیا

کینیڈا میں ایک جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اومیکرون ویرینٹ کے کیسز میں اضافے کے مدنظر یہ بچے کے بہترین مفاد میں نہیں کہ وہ ویکسین نہ لینے والے اپنے والد سے رابطہ کرے۔

کینیڈین صوبے کیوبک میں 90 فیصد سے زیادہ بالغوں کو کووڈ 19 کے خلاف ویکسین لگائی جا چکی ہے (اے ایف پی)

کینیڈا کے صوبے کیوبک کے جج نے ویکسین نہ لگوانے والے ایک شخص کو اپنے 12 سالہ بیٹے سے ملنے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ ایسا کرنا بچے کے مفاد میں نہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے کیوبک کے اخبار لی ڈیوائر کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا گیا تھا جس میں مذکورہ شخص کو فروری تک اپنے بچے سے ملنے کے حق کو معطل کر دیا گیا جب تک کہ وہ کرونا کی ویکسیسن لگوانے کا فیصلہ نہیں کرتے۔

جج نے اپنے فیصلے میں کووڈ 19 کے اومیکرون ویرینٹ کے کیسز میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’یہ بچے کے بہترین مفاد میں نہیں ہوگا کہ وہ ویکسین نہ لینے والے اپنے والد سے رابطہ کرے۔‘

یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب مذکورہ شخص نے تعطیلات کے دوران اپنے بچے سے ملاقات کے وقت میں توسیع کی درخواست کی تھی، جس کی بچے کی والدہ نے مخالفت کی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حال ہی میں انہیں پتہ چلا کہ بچے کے والد نے ویکسین نہیں لی۔ انہوں نے عدالت کو ان کے سوشل میڈیا پوسٹیں دکھائیں جو صحت کے اقدامات کے برخلاف تھیں۔

جج نے کہا کہ بچے کو ویکسین لگ چکی ہے لیکن یہ اومیکرون قسم کے خلاف کم تحفظ فراہم کرتی ہے جو اس وقت کیوبک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

بچے کی والدہ اپنے ساتھی اور دو دیگر بچوں کے ساتھ رہتی ہیں جن کی عمریں سات ماہ اور چار سال ہیں، اور جنھیں کینیڈا کے قانون کے تحت ویکسیسن نہیں لگوائی جا سکتی۔

جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’ان حالات میں 12 سالہ بچے کا اپنے والد سے ملنے جانا تینوں بچوں میں سے کسی کے مفاد میں نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ کیوبک میں 90 فیصد سے زیادہ بالغوں کو کووڈ 19 کے خلاف ویکسین لگائی جا چکی ہے لیکن صوبے میں تیزی سے پھیلنے والے اومیکرون انفیکشن کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں کیسز اور ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔

نئی لہر کو روکنے کی کوشش میں کیوبیک صوبے کی حکومت نے 30 دسمبر کو کچھ پابندیوں کا اعلان کیا جس میں 10 بجے کا کرفیو اور نجی اجتماعات پر پابندی شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا