ڈراما سیریل ’وارث‘ جو امجد اسلام امجد کو اتفاقیہ طور پر ملا

امجد اسلام امجد کے لیے ڈراما ’وارث‘ کا پلاٹ اور کردار نگاری کچھ زیادہ مشکل ثابت نہیں ہوئی، ان کے مطابق جاگیرداروں اور زمین داروں کی نفسیات پر وہ ڈراما برسوں سے لکھنا چاہ رہے تھے۔

پی ٹی وی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’وارث‘ کا ایک منظر جو 1979 میں نشر ہوا جس میں بائیں سے دائیں اداکار فردوس جمال، محبوب عالم اور اورنگ زیب لغاری خوشگوار موڈ میں کھڑے ہیں(سکرین گریب:آئی ایم بی ڈی)

ممکن ہے کہ ’وارث‘ ڈراما نگار امجد اسلام امجد کے حصے میں نہیں آتا۔ اب اسے اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ انہیں یہ ڈراما اچانک ملا۔

امجد اسلام امجد ’وارث‘ سے پہلے  ڈراما سیریز ’ایک حقیقت ایک افسانہ‘ کے لیے مختلف کھیل لکھ چکے تھے۔ اسی طرح اسلام آباد مرکز بھی ان کی تخلیقی صلاحتیوں سے استفادہ کرچکا تھا۔ ان کا نام دھیرے دھیرے مستند ڈراما نگاروں میں شمار ہونے لگا تھا۔ فی الحال انہیں ڈراما سیریل لکھنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن ان کی یہ خواہش بھی اب پوری ہونے جارہی تھی۔

ڈراما سیریل ’جھوک سیال‘کی کامیابی کے بعد لاہور مرکز ایک اور نیا ڈراما تخلیق کرنے کی تیاری میں تھا جس کا پس منظر گاؤں دیہات ہوتا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ جس وقت سے  پی ٹی وی کا آغاز ہوا تھا  تو زیادہ تر ڈرامے مڈل کلاس خاندانوں کے گرد گھومتے۔ شہری زندگی کی کہانیوں کو اہمیت دی جاتی۔ گاؤں دیہات کے باسیوں کی خوشی، غم اور پریشانیوں کو بہت کم ڈراموں میں جگہ ملتی۔

’جھوک سیال‘ کے ذریعے یہ کمی تھوڑی بہت دور کی گئی لیکن اب ایسے ڈرامے پر کام ہونا تھا جس کا ماحول خالصتاً گاؤں والوں کی پریشانیوں اور مسائل کو اجاگر کرتا۔ ایسے میں جس لکھاری کو یہ کام سونپا گیا وہ عین وقت پر مصروفیات کی بنا پر ڈراما لکھنے سے معذرت کرگئے۔

امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ ٹی وی اسٹیشن پر آنا جانا تو لگا ہی رہتا تھا۔ تو ایسے میں ان سے  باتوں ہی باتوں میں دریافت کیا گیا  کہ کیا وہ کم وقت میں 25 منٹ دورانیے کی قسط کا ڈراما لکھ سکتے ہیں۔ امجد اسلام امجد نے برجستہ جواب دیا کہ وہ کیوں نہیں لکھ سکتے۔

درحقیقت انہوں نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔ ڈراما کا ابتدائی خاکہ انہیں بتایا گیا تو دلچسپ بات یہ ہے کہ ’وارث‘ کے اسکرپٹ اور پلاٹ کی تیاری میں صرف دو سے تین ہفتے لگے۔

چوہدری حشمت خان کے کردار کو اس میں بطور خاص شامل کیا گیا۔اس سلسلے میں یاور حیات اور غضنفر علی نے اس کردار کو اور واضح کرکے امجد اسلام امجد کو بتایا۔

کہا جاتا ہے اس زمانے میں خان پور ڈیم بنانے کی تیاری ہورہی تھی تو اس ڈیم کی مخالفت میں کچھ جاگیردار اور زمین دار نمایاں تھے۔ جنہوں نے گاؤں دیہات کے بھولے بھالے باسیوں میں یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ ڈیم کی صورت میں آبائی کاشت کاری کے پیشے اور زمینوں  سے محروم ہوجائیں گے۔ حالاں کہ حکومت انہیں معاوضہ بھی دے رہی تھی لیکن ان جاگیرداروں اور زمین داروں کو یہ غم بھی ستا رہا تھا کہ ڈیم بننے کی وجہ سے وہ اپنے زمینوں اور قدیم خاندانی حویلیوں کو بھی کھو دیں گے اور یوں ان کی صدیوں سے قائم چوہدراہٹ کا سورج بھی غروب ہوجائے گا۔

اب اسی پس منظر میں چوہدری حشمت خان کے کردار کو ڈھالنے پر محنت کی گئی۔ جو خود غرضی، مفاد اور انا پرستی کے خول میں جکڑا ہوا تھا۔

امجد اسلام امجد کے لیے ڈراما ’وارث‘ کا پلاٹ اور کردار نگاری کچھ زیادہ مشکل ثابت نہیں ہوئی، ان کے مطابق جاگیرداروں اور زمین داروں کی نفسیات پر وہ ڈراما برسوں سے لکھنا چاہ رہے تھے۔ ان کرداروں کا خاکہ تو ان کے ذہن میں جیسے نقش تھا۔ صرف اسے کاغذ پر ہی منتقل کرنا تھا۔ وہ کالج اور یونیورسٹی میں جاگیرداروں اور زمین داروں کے بیٹوں کے ساتھ پڑھ چکے تھے اور ان کی نفسیات، رویوں اور مشاغل سے بخوبی واقف تھے۔ اسی لیے چوہدری حشمت خان کے دو پوتوں چوہدری انور اور چوہدری نیاز علی کے کرداروں میں انہوں نے اپنے سابق ہم جماعتوں کے تجربات اور مشاہدے کا سہارہ لیا۔

طبقاتی تفریق کے حوالے سے ان کے ذہن میں عالم نوجوانی سے ہی کئی سوال کلبلاتے اور جب انہوں نے اس ڈرامے میں انہیں پیش کیا تو ’وارث‘ کے ذریعے ہی ان کی تصوراتی اور عملی دنیا کا حسین امتزاج جواب بن کر مل گیا۔

جاگیردارنہ نظام کے گرد گھومتے اس ڈرامے کا محور چوہدری حشمت خان رہے۔ ایک سخت گیر اور مفاد پرست چوہدری جس کی سوچ حاکمانہ اور غضب ناک ہوتی جو اپنے دیہاتیوں کو کیڑے مکوڑے سے زیادہ تصور نہیں کرتا۔ جس کی دہشت اور سفاکیت سے ہر انسان پناہ مانگتا۔

اس کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے والے محبوب عالم تھے۔ اس فنکار نے چوہدری حشمت خان کے پنجابی لب و لہجے اور پھر اپنی آنکھوں کے خوف ناک  تاثرات کا ایسا فطری استعمال کیا کہ کسی کو گمان ہی نہیں ہوسکا کہ محبوب عالم کا تعلق پنجاب سے نہیں بلکہ اندرون سندھ سے ہے۔

چوہدری حشمت خان اپنے بیٹے چوہدری یعقوب اور دو پوتوں کے ساتھ اپنی اُس زمین پر قبضہ کرنے کی جدوجہد میں تھا جو ڈیم کے لیے مجوزہ  تھی۔ بدقسمتی سے چوہدری حشمت خان خود خاندانی جھگڑوں میں بھی الجھا ہوا تھا۔

پوتا چوہدری انور علی یعنی فردوس جمال دادا کی طرح بے رحم اور کچھ عیاش پسند تھا۔ چچا چوہدری یعقوب (منور سعید) جو والد کی تمام تر جائیداد پر نظریں گاڑھے بیٹھا تھا، وہ  چوہدری انور علی کو بڑے بھائی چوہدری نیاز علی (اورنگزیب لغاری) سے اس قدر بدگمان کردیتا ہے کہ وہ ڈرامے کی اختتامی اقساط میں اس کی جان تک لے لیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر ڈرامے کے دیگر ستاروں کا جائزہ لیں تو اس میں اس دور کے کم و بیش تمام تر شہرت یافتہ اداکار ہی شامل تھے۔ ان میں عابدعلی، عظمیٰ گیلانی، شجاعت ہاشمی، ثمینہ احمد، طاہرہ نقوی اور آغا سکندر نمایاں ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی کسی بھی ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت کی کنجی ہوتا۔

اب جب اتنی ’ہیوی ویٹ کاسٹ‘ ہو تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’وارث‘ کیوں ناں  بے مثال بنا ہوگا۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ’وارث‘ وہ ڈراما سیریل رہا جس کو دیکھنے کے لیے سڑکیں واقعی سنسان ہوجاتیں۔ دکاندار کاروبار کو بند کرکے گھروں کو جلدی جلدی پہنچتے۔ بازار میں رونقیں ماند پڑ جاتیں اور شادیوں میں اسی وقت مہمانوں کی آمد ہوتی جب ڈراما ختم ہوتا۔

وارث ڈرامے کی پہلی قسط 13 اکتوبر 1979کو جب نشر ہوئی تھی تو ابتدا سے ہی اس نے ناظرین کو ٹی وی سیٹ کے سامنے سے اٹھنے نہیں دیا۔ یہ وہ دور تھا جب عوام کے لیے تفریح کا واحد ذریعہ ٹیلی ویژن ہی تھا۔گوکہ اس عرصے میں کئی ڈرامے نشر ہوچکے تھے لیکن ’وارث‘ کی پسندیدگی کا گراف اور اس کی شہرت ساری حدیں پار کر گئیں۔

ابتدا میں ڈراما سیریل ’وارث‘ کی سات اقساط کا دورانیہ 25 منٹ تھا لیکن ڈرامے کی مقبولیت ایسی بڑھی کہ فیصلہ ہوا کہ اس کا دورانیہ پھر دوگنا کردیا جائے۔ جب کہ ابتدائی اقساط غضنفر علی کی ڈائریکشن میں تیار ہوئیں لیکن پھر یہ ذمے داری نصرت ٹھاکر کوملی۔ جن کا نام ڈراموں کی ڈائریکشن کے حوالے سے نیا نہیں تھا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان سے پی ٹی وی کا رخ کیا تھا اور ایک طویل عرصے تک یاور حیات جیسے ذہین اور غیر معمولی ہدایتکار کے اسسٹنٹ رہے تھے۔

نصرت ٹھاکرنے ’وارث‘ میں اپنے تمام تر تجربات کو اور بہتر انداز میں چھوٹی اسکرین پر پیش کیا۔

یہ وہ بھی دور تھا، جب کسی ایک ڈرامے کو خوب سے خوب تر بنانے میں دیگر ہدایتکار بھی اپنے مشوروں سے متعلقہ ہدایتکار کی رہنمائی کرتے۔

ڈراما سیریل ’وارث‘ کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ اس میں زمین دار اور جاگیردار ہی نہیں بلکہ شہری مڈل کلاس خاندان کی کہانی کو بھی موضوع بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں اپر کلاس کی بھی نمائندگی کی گئی۔ یعنی زندگی کے تینوں طبقات کو انتہائی مہارت کے ساتھ چھوٹی اسکرین کی زینت بنایا گیا۔

بالخصوص گاؤں میں رہنے والوں کو ’وارث‘ کی کہانی دیکھ کر ایسا محسوس ہوا، جیسے وہ ان کی عکاسی کر رہی ہے کیوں کہ یہ عوام ڈراموں میں اس سے قبل شہری کلچر کو ’فینٹسی‘ کے طور پر دیکھتی تھی لیکن ’وارث‘ نے انہیں احساس دلایا کہ ان کی ثقافت اور رہن سہن کو بھی ڈراموں میں اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ڈرامے کی مقبولیت میں اور زیادہ اضافہ ہوا اور پھر ان مختلف کرداروں کا تانا بانا جا کر اختتامی لمحات میں ایک موڑ پر ملتا ہے۔

امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ دور حاضر کی طرح ’وارث‘ کی مکمل اقساط کے بعد اس کی عکس بندی نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ  پانچ اقساط لکھتے اور پھر انہیں عکس بند کیا جاتا۔ ممکن ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ جو کردار زیادہ مقبولیت حاصل کرتا اس کے مناظر اور مکالمات پر زیادہ توجہ دی جاتی۔ اس کے کردار کو اور زیادہ جاندار بنایا جاتا۔ اسے زیادہ سے زیادہ اسکرین پر پیش کیا جاتا۔

ڈراما سیریل ’وارث‘ کی جوں جوں قسطیں آگے بڑھتی رہیں۔ تجسس اور ڈرامائی موڑ ایسے آئے کہ ہر جانب بس اسی کا چرچا تھا۔ 16 اقساط کے اس شہرہ آفاق ڈرامے کی 14 اپریل 1980 کو جب آخری قسط نشر ہوئی تو ہر کوئی اداس تھا۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ’وارث‘ اب پھر نشر نہیں ہوگا۔

واقعی کچھ ڈرامے  ایسے ہوتے ہیں جن کے ختم ہونے پر ناظرین غم گین ہو جاتے ہیں اور انہی میں سے ایک ’وارث‘ بھی تھا۔

کلائمکس میں چوہدری حشمت خان آبائی اور جدی پشتی زمین کو کسی صورت سرکار کی تحویل میں دینے پر آمادہ نہیں ہوتا اور وسیع و عریض حویلی کے تہہ خانے میں قید ہو کر اپنی موت کا انتظا ر کرنے لگتا ہے۔

پی ٹی وی کے اگلے سال ہونے والے ایوارڈز میں ’وارث‘ کے حصے میں کئی اعزازات آئے۔

ڈراما سیریل ’وارث‘ کی مقبولیت صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت تک پہنچی۔ جس کی اقساط وی سی آر پر بھارت کے اداکاری سکھانے کے مختلف اداروں میں دکھائی جاتیں اور نو آموز اداکاروں کو بتایا جاتا کہ اداکاری کیسے کی جاتی ہے۔

درحقیقت ’وارث‘ کئی اداکاروں کے لیے سنگ میل ثابت ہوا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط بھی نہ ہوگا کہ یہ ڈراما سیریل ’ٹرینڈ سیٹر‘ بن گیا۔ جس کے بعد جاگیرداروں، زمین داروں اور وڈیروں پر کئی ڈرامے بنے۔ ان میں جنگل اور دیواریں نمایاں ہیں۔

’وارث‘ کے ہی ایک منظر میں معروف گلوکار یعقوب عاطف بلبلہ نے اپنا مشہور گیت ’پانی کا بلبلہ‘ بھی پیش کیا۔

ڈراما سیریل’وارث‘ کی شہرت اسے چین تک بھی لے گئی۔ جب 1989 میں اسے چینی ٹی وی پر مقامی زبان میں سب ٹائیٹلنگ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ’وارث‘ کی کہانی سے آراستہ اسکیچز کا کتابچہ  بھی چینی زبان میں شائع کیا گیا تاکہ چینی عوام اس شہرہ آفاق ڈرامے کی داستان جان پائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی