برفانی میدان کنکورڈیا جو میرے لیے خواب ہی رہا

’قیصر تم برف پر چلنے کا تجربہ نہیں رکھتے، فقط پہاڑوں بارے میں کتابیں پڑھ کر تم کنکورڈیا نہیں جا پاؤ گے۔‘ میری اہلیہ مجھے بہت روکتی رہی مگر ہم چلتے رہے۔

اسکولے جو آخری گاؤں ہے، اس کے بعد کوئی آبادی نہیں (قیصر عباس)

گلگت بلتستان کے دریائے برالدو کے کنارے، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی طرف سفر کرتے ہوئے شگر کے بعد داسو اور تھنگل کے جھولتے پل عبور کر کے ہم سطح سمندر سے دس ہزار فٹ بلند آخری گاؤں اسکولے میں ایک شب گزار کر کوروفون جانے والے تھے۔

گزر چکی شام، جہاں پر حسن جان کے زیر تعمیر ہوٹل کی دیوار کے ساتھ ہمارا مثالی استقبال ہوا تھا، عین اسی جگہ پر کھڑی میری تین سالہ بیٹی آیت زہرا ہاتھ ہلاتی تھی، روتی تھی اور ساتھ جانے پر بضد ہوتی تھی۔ میرے ساتھ علی اور عون جانے والے تھے۔ سیاحتی اور خاندانی

قافلے کے سبھی ارکان اسکولے کی اس آخری سرحد تک ہمیں چھوڑنے آئے، جہاں گلابی رنگ کے آہنی بورڈ پر وہ سب کچھ درج تھا جو کسی بھی سیاح کو یہیں سے واپس موڑنے کے لیے کافی تھا۔

آپ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں سے آگے جانا ممنوع ہے: منجانب۔ ٹورسٹ ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان حکومت پاکستان

اس خبردار کرتی تحریر نے اہلیہ فوزیہ کو آبدیدہ کیا تھا اور ایسا ہی سماں بندھ گیا جیسے حج پر جانے والوں کو رخصت کرتے وقت ان کے پیارے ہوائی اڈوں پر برپا کرتے تھے۔ سبز کھیتوں کے درمیان بل کھاتا ہوا رستہ ان دیکھے جہانوں کی طرف جاتا تھا اور ہم تینوں پاگل مقامی دوستوں کی ہلہ شیری پر گلابی بورڈ پر لکھی ہوئی تحریر کو نظرانداز کر کے اس راستے پر جا رہے تھے۔

’قیصر تم برف پر چلنے کا تجربہ نہیں رکھتے، فقط پہاڑوں بارے کتابیں پڑھ کر تم کنکورڈیا نہیں جا پاؤ گے۔‘ میری اہلیہ مجھے بہت روکتی رہی مگر ہم چلتے رہے۔ دس رکنی وفد میں سے سات لوگ اسکولے رک گئے اور تین دیوانے پہاڑی درے میں داخل ہو گئے۔ راستہ اس قدر بھی مشکل نہ تھا جیسے بتایا گیا تھا، مگر یہ سچ تھا کہ اب جس طرف ہم جا رہے تھے اس طرف کوئی گھر نہ تھا، کوئی آبادی نہ تھی، برف تھی اور اجنبی پہاڑ تھے۔

 اپنی تمام متاع حیات کو چھوڑ کر کنکورڈیا کے شوق میں ہم نہ جانے کہاں جا رہے تھے۔ جب برالدو کنارے میرے سانس بے ترتیب ہوئے تھے تو میرے بیٹے عون نے واپس جانے کا مشورہ دیا۔ ’دیکھتے ہیں کہاں تک جایا جا سکتا ہے،‘ میں نے بیٹے کی انگلی پکڑ کر وسیع ڈھلوان پر سر جھکائے ہوئے اسے حوصلہ دیا۔

’آگے چل کر ہمارے کردار ایک دوسرے سے بدل گئے۔ اب کے میں نے اسے احتیاط کا مشورہ دے کر کہا، ’بیٹا، تم چاہو تو واپس جا سکتے ہو۔‘ آخر میرا ہی بیٹا تھا، سن کر آگے چلتا رہا۔ علی بس ایک ہی گردان الاپتا تھا، ’کجھ نئیں ہوندا۔‘

’عون تم جانتے ہو بالتورو گلیشیئر کی دراڑیں انسان کو نگل جاتی ہیں،‘ میں نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ میرا بیٹا واپس لوٹ جائے مگر وہ یہی جواب دیتا تھا کہ ’پھر آپ بھی واپس چلیں۔‘

 دریائے برالدو کا پاٹ چوڑا ہوتا گیا، وسیع ہوتا گیا اور ہم ابھی بھی سوچتے تھے کہ واپس لوٹ چلیں یا آگے بڑھتے رہیں۔ برالدو کے پانی مختلف ندیوں میں تقسیم ہوتے جاتے تھے اور سامنے برف سے لدی چوٹیاں ہمارا استقبال کرتی تھیں۔ ہمارے ساتھ نسیم تھا اور دو نوجوان پورٹر خیمہ اور سامان اٹھائے ساتھ چلتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم نے اسی جگہ پر دیکھا تھا کہ برالدو کی ہر شاخ الگ ہو کر ایک نیا دریا بنتی تھی۔ پھر یہ نیلی دھاریاں ایک نئے برالدو کو جنم دیتی تھیں۔ اس لمحے میں نے فوزیہ اور حجاب کو یاد کیا کہ کاش وہ بھی یہ منظر دیکھ پاتیں، ایسا منظر شاید دنیا بھر کا اکلوتا منظر تھا اور پھر دنیا میں کسی بھی پہاڑی سلسلے کے حصے میں کنکورڈیا بھی تو نہیں تھا۔ کہیں اور بیافو گلیشیئر کی وسعت بھی تو نہیں تھی۔ یہ سب ہمارے پاکستان کے نصیب میں انعام کیا گیا حسن فطرت تھا جسے دیکھنے دنیا بھر کے آوارہ گرد آتے تھے۔

 بیافو گلیشیئر کا عرق ایک دریا کی شکل میں بہتا تھا اور قریب آنے والوں کو نگل کر دریائے برالدو میں بہا لے جانے پر تیار تھا۔ میں نے بیٹے کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا اور لکڑی کا پل عبور کیا۔ ایک وسیع میدان، جسے قیصر گراونڈ کہا جاتا ہے، ہمارے سامنے تھا۔ ہمارے پاؤں کے نیچے پتھر ہو چکی برف کی دھرتی تھی جو ریت سے اٹی تھی، کوئی بھی تو نہیں جانتا تھا کہ اس برف کی زمین کے نیچے کتنی ندیاں گلیشیئر کا سینہ چیر کر بہتی ہیں۔

بید مجنوں کے درختوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ سامنے کوروفون کی قیام گاہ تھی۔ پورٹروں کے عارضی چولہے، خالی ڈبے جابجا بکھرے تھے۔ گندگی کو دیکھتے ہی عون نے کہا کہ ’لگتا ہے یہاں بھی پاکستانی آتے ہیں!‘ کوروفون کیمپنگ سائٹ رہائش کے لیے ایک بہترین جگہ ہے، جہاں سے بیافو کی برفوں کے پانی چھوٹی چھوٹی ندیوں کی شکل میں گزرتے ہیں۔

بیافو گلیشیئر کے آخری حصے کے ساتھ کوروفون کے روایتی نشان کے قریب سے گزرنے والی پگڈنڈی خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔ کوروفون میں خچروں کی لید ہر سو پھیلی تھی۔ پاک فوج کا سامان اور راشن سیاچن ڈھونے والے گجر واپسی پر اپنے خچروں کو کوروفون میں آزاد کر دیتے تھے، اسی لیے خوبصورت وادی میں گندگی کا راج تھا۔ سیاچن کی جنگ سے پہلے کوروفون صاف ستھرا علاقہ تھا جہاں بید کے درخت لہراتے تھے تو ہر سمت خوشبو پھیل جاتی تھی۔ یہیں سے صرف چار کلومیٹر کی دوری پر برف کا جہان بیافو نظر آیا۔  

’پنامہ گلیشیئر،‘ ’لاٹوک‘ اور چند بے نام گلیشئیئر بھی راہ میں پڑتے تھے۔ یہیں پر شام ہوئی اور پھر رات میں بدلنے لگی۔ عون عباس کے چہرے پر خوف اور ماں کی یاد نمایاں ہوئی تو میرا دل بھی بجھنے لگا۔ جھولا کیمپنگ سائٹ پر پورٹر عباس سدپارا نے خیمے نصب کر دیے۔ اسکولے کے بعد جھولا ہماری قیام گاہ قرار پائی۔ ٹانگوں میں تھکن کے سریے فٹ ہو چکے تھے مگر شوق سفر نہیں جاتا تھا۔

برف کی سرزمین پر رات بسر ہوئی تو ایک اجلی صبح نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ بیافو گلیشیئر سے پھوٹنے والی ندیوں کے برف پانی سے صرف منہ ہی دھویا گیا۔ ایک ادھورا ناشتہ اور بھرپور چائے، پھر لکڑی ہو چکی ٹانگوں نے چلنے کی مشق کی اور ہم پائیو کی طرف رینگنے لگے۔ کچھ راہگیر دیوانوں نے بتایا کہ اس کے بعد پائیو ہی وہ واحد مقام ہے جہاں ہریالی آنکھوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔ چلتے چلتے دن ڈھل چکا تو پائیو کیمپنگ کی منزل نصیب ہوئی۔ کچھ دکانیں اور ٹائلٹس زندگی کا پتہ دیتے تھے۔ فائبر گلاس ٹینٹ نصب تھے اور ایک طویل آرام کے لیے اپنی طرف کھینچتے تھے۔

برالدو دریا پائیو کی خیمہ گاہ کے سامنے وسیع ہو کر جھیل بن چکا تھا۔ عون اور علی دونوں کا باہمی اعلامیہ جاری ہوا کہ بس اب واپس چلتے ہیں۔ پائیو سے واپسی میرے لیے شکست تھی کہ منزل کے قریب آ کر واپس لوٹنا مناسب نہ تھا کیونکہ ہمارے اطراف میں جتنے بھی پہاڑ تھے وہ بےمثال تھے اور یہ گلیشیئر تو دنیا بھر میں بس یہیں تھے۔

 قطب شمالی اور قطب جنوبی کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا برفانی ذخیرہ ہمارے سامنے تھا۔ پاکستان میں گلیشیئر تقریباً 13680 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کچھ گلیشیئروں کی موٹائی 250 تا 500 میٹر ہے اور یہ 60 کلومیٹر طویل ہیں۔ قراقرم کے حصے میں 6169 مربع کلومیٹر گلیشیئر آتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دریا سندھ انہی گلیشیئروں کے سبب دھاڑتا ہے۔ بالتورو گلیشیئر لمبائی کے لحاظ سے دنیا بھر کا دوسرا برفانی قلعہ ہے، جس کی لمبائی 62 کلومیٹر اور بعض مقامات پر گہرائی ڈیڑھ کلومیٹر ہے۔ اس گلیشیئر کے جنوبی اور مشرقی حصے کو ’بالتورو مسٹاگ‘ کہتے ہیں۔ مشہ بروم پہاڑ اس کے جنوبی حصے میں ہیں۔ بالتورو گلیشیئر پاکستان میں ٹریکنگ کی اولین جگہ ہے۔

 ہم جہاں تھے، اسی دیار میں یولی بہاؤ گروپ کی دو چوٹیاں تھیں۔ ان چوٹیوں کو تین جولائی 1979 میں امریکی کوہ پیماؤں نے جان رو سکیلی کی سربراہی میں سر کر لیا تھا۔ 6600 میٹر بلند پائیو پیک بھی ہمارے دائیں جانب ایستادہ تھی۔

 ٹرانگو گروپ کی چوٹیاں عمودی سنگِ خارا (گرینٹ) کی مینار نما چٹانیں ہیں۔ یہ چٹانیں اور ان کے عمودی فیس دنیا بھر میں راک کلائمنگ کے لیے واحد مثال تسلیم کیے جاتے ہیں۔ عظیم ٹرانگو کی چوٹی 6286 میٹر (20600 فٹ) اونچی ہے، اس کا مشرقی حصہ دنیا کے کسی بھی پہاڑ کے مقابلے میں سب سے اونچا عمودی فیس ہے۔ پتھر کا سلنڈر نما مینار ماؤنٹین لورز کے لیے کشش اور خوف کا باعث ہے۔ اسے جیو براؤن کی سربراہی میں برطانوی کوہ پیماؤں نے 1976 میں سر کر لیا تھا۔ ’

 ہم ’کھوبرستے‘ سے ہوتے ہوئے بالتورو کے قریب پہنچے تو برف کا ایک لافانی قلعہ نظر آیا جس میں سے نکلتی ندیاں قیامت کا سا شور مچاتی تھیں۔

 بالتورو کے سامنے پڑے وجود سے آگے جانا کم از کم ہمارے بس میں نہ تھا۔ میرے بیٹے عون نے بھی آگے جانے سے انکار کر دیا اور ہم کنکورڈیا تک پہنچے بغیر واپس مڑ گئے۔

شمال کے آخری گاؤں اسکولے تک پہنچنے میں، پھر بھی دو دن صرف ہوئے۔ پہاڑی مسافت میں یہی میری پہلی شکست تھی کہ ہم بالتورو گلیشیئر کو عبور نہ کر سکے۔ کنکورڈیا بس ایک خواب رہ گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ