پوتن دا گریٹ: 20 سالوں میں روس نے دنیا پر کیا اثرات چھوڑے

روسی صدر نے گذشتہ برس مارچ میں 20 سال صدارت میں مکمل کیے۔ اگست میں دی انڈپینڈنٹ کے ماسکو نامہ نگار آلیور کیرول نے ان 10 اصولوں کا تعین کرنے کی کوشش کی جس نے ان کے اقتدار میں اہم کردار ادا کیا۔

ان دو دہائیوں کے دوران، کے جی بی کے سینٹ پیٹرزبرگ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان بیوروکریٹ  ولادی میر پوتن نے روس میں زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ 18 جولائی 2017 کو ماسکو کے باہر زوکوفسکی میں 2017 ایئر شو دیکھتے ہوئے (اے ایف پی)

ولادی میر پوتن شاید ونسٹن چرچل کے بعد دنیا کے سب سے بااثر رہنما رہے ہیں۔

ذرا غور کیجیے، یہ بیان ایک ایسے آدمی کے بارے میں بہت اہم ہے جس کے آغاز میں کوئی سیاسی عزائم نہیں تھے۔ اگر بیمار اور بے بس بورس یلسن نے ان سے اپنے اقتدار اور اپنے خاندان کی حفات کی ضمانت نہ مانگی ہوتی - یا اگر اس نے کسی اور کا سہارا لیا ہوتا - تو روسی تاریخ شاید بہت مختلف دکھائی دیتی۔

19 اگست 1999 کو جب پوتن وزیراعظم بنے تو ان کی سیاسی اہمیت صفر اور مقبولیت ایک فیصد تھی۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ وہ یلسن کی امیدوں کی طرح جاری بحران کے درمیان جلد تبدیل کر دیئے جائیں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب شمالی قفقاز خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا اور روس کے دوسرے حصے علیحدگی کے خطرے سے دوچار تھے، بحرانوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔

لیکن اس کی بجائے، 20 سال بعد، پوتن اب بھی یہیں ہیں۔

ان دو دہائیوں کے دوران، کے جی بی کے سینٹ پیٹرزبرگ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان بیوروکریٹ نے روس میں زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔

میں تمہارا سب کچھ ہوں

آج صرف فیشن سے کہیں زیادہ اس پرانی فوٹیج جس میں بورس یلسن 46 سالہ پوتن کو اپنے دفتر میں پہلی مرتبہ مدعو کیا تبدیل ہوا ہے۔ پوتن نے اقتدار میں روس کے سیاسی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

اس دور کا ناقابل تردید رجحان آمریت کا پروان چڑھنا ہے۔

پوتن نے اپنی حکمرانی کے ابتدائی سالوں کا بیشتر حصہ ’عمودی طاقت‘ کی تعمیر نو میں صرف کیا، ایگزیکٹو برانچ اور مختلف علاقوں کو ایک ہی نظام اور کنٹرول کے ماتحت کرتے ہوئے۔ یہ سوویت طرز کے ادارہ سازی کی واپسی، یعنی معیشت پر مرکزی حکومت کے کنٹرول کو دوگنا کرنے، اور روسی زندگی میں خفیہ حفاظتی آلات کی واپسی میں منتج ہوا۔

اس سمت میں کم از کم دو الگ الگ نظریاتی مراحل سامنے آئے ہیں۔

پہلا مرحلہ مغرب کے حامی پاپولزم کا تھا: نیٹو سے لاتعلق، امریکہ کے حق میں، اور روس کے اندر آزاد منڈی کے اصلاح کار۔ یہ ڈائٹ پوتنزم‘ تقریباً 2007-2006 تک قائم رہی۔ 

بعد میں ’قومی خودمختاری‘ کے نظریات غالب آئے۔ سب سے پہلے، پوتن کے بااثر معاون ولادی سلاو سورکوف کی طرف سے متعارف کرایا گیا خودمختار جمہوریت‘ کا تصور اس بات کی علامت تھا کہ روس مغرب سے خود کو دور کرنے لگا ہے۔ پوتن نے 2007 کی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں عالمی سلامتی کے نظام کے خلاف ایک سخت تقریر کی۔ اس کے بعد 2014 میں روس کے ساتھ کرائمیا کا متنازعہ الحاق اور یوکرین کی جنگ ہوئی جو دیگر تبدیلیوں کا سبب بنا جیسے کہ تنہائی پسندی اور ایک خودمختار معیشت۔ 

گلب پاولووسکی نے جنہوں نے ایک سیاسی مشیر کی حیثیت سے پوتن کی حکومت کے پہلے 12 سالوں کے دوران کریملن میں خدمات انجام دیں کہا کہ ’گذشتہ 20 سالوں میں، امریکہ نے کلنٹن، بش جونیئر، اوباما اور ٹرمپ کو مختلف پالیسیوں کے ساتھ دیکھا ہے۔‘

’لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس صرف ایک صدر ہے تو آپ کے پاس صرف ایک پالیسی ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ پوتن کی پہلی مدت ان کی موجودہ مدت سے کوئی بھی مشابہت نہیں رکھتی۔

تو اپنے لیے کوئی مورت نہ بنانا

اگر پوتن نے روس کو بدلا ہے تو روس نے پوتن کو بھی تبدیل کیا ہے۔

ابتدائی پوتن بڑی سکرین کے لیے تیار نہیں تھے، اور ان کی ٹیم ان کی ساکھ کے بارے میں فکر مند تھی۔ پوتن اس سے پہلے کبھی بھی سیاست کے فرنٹ لائنز پر نہیں رہے تھے، اور وہ سپاٹ لائٹ میں رہنے کے عادی نہیں تھے۔ تھوڑی دیر کے لیے، انہیں اپنے سائز کے سوٹ ڈھونڈنے میں بھی دشواری پیش آئی۔

پاولووسکی یاد کر کے کہتے ہیں کہ ’جب بھی وہ بیٹھتے، تو ان کے کوٹ کی پشت اونچی ہو جاتی تھی۔‘

اس جاسوس کو اپنے مانوس پس منظر سے نکلنے میں برسوں لگے۔

آج، پوتن ایک فرقے (کلٹ) کا حصہ ہے۔ اس بھڑکتے لیڈر کی تصویر ٹی شرٹس، کپ، چاقو، گھڑی، کیلنڈر اور سپورٹس شرٹس پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ان سب میں انہیں مسائل کا حل کرنے والے کے طور پر دکھایا گیا۔ آل ایکشن ہیرو۔ قوم کا محافظ – قمیض آپشنل۔

ایک مضبوط آدمی (سٹرانگ مین) کے طور پر پوتن کی شبیہ برقرار ہے، یہاں تک کہ ان کے تقریباً تمام ماتحتوں کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

پوتن کی مقبولیت حالیہ برسوں میں صرف تین بار کم ہوئی ہے: 2005 میں، سماجی سہولت کے نظام میں ایک معمولی اصلاح کے بعد، 2011 میں پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کے بعد اور گذشتہ سال ہر دس میں سے نو افراد پنشن اصلاحات کے خلاف تھے۔

حالیہ کمی کے باوجود، پوتن اب تک سب سے زیادہ مقبول روسی سیاست دان ہیں۔ ملک کے صرف 20% لوگ ان کی حکومت کے بارے میں انتہائی منفی رائے رکھتے ہیں۔

 

لیکن تجربہ کار پولسٹر لو گڈکوف کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار محبت کا اظہار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق روسی پوتن کے بارے میں اپنے جائزے میں چوکس ہیں۔ وہ پوتن کو بیوروکریٹس، فوج اور سکیورٹی آلات کے مفادات کی نمائندگی کرنے والے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ پوتن کسی بھی اپوزیشن کو دبانے کے لیے تیار ہیں۔

گڈکوف کہتے ہیں، ’ایسی پوزیشن نہ تو محبت پیدا کرتی ہے اور نہ ہی خاص ہمدردی۔‘

مخلوق کے خدا کا نام بیکار میں نہ لو

ولادی میر پوتن کے اقتدار میں آنے تک روس میں لبرل جمہوریت کے امکانات پہلے ہی بہت کم تھے۔ سوویت دور کے بعد کی زندگی کی پہلی دہائی نے کچھ روسیوں کے لیے ناقابل یقین مواقع دیکھے۔ لیکن ان میں سے اکثر کے لیے، یہ بقا کے لیے ایک مذموم جنگ تھی۔ 

بورس یلسن نے ابھرتی ہوئی آزادیوں سے دور ہونے کی بنیاد رکھی - سکیورٹی سروسز کو اقتدار واپس کرنا اور وزیراعظم کا عہدہ سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ ولادی میر پوتن کو دینا۔

سابق جاسوس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مکمل طور پر، بے رحمی اور جان بوجھ کر حقوق اور سول سوسائٹی کو زیر کیا۔ 2000 کی دہائی کے وسط میں، انہوں نے لوگوں کے جمع ہونے کے حقوق تبدیل کر دیئے، اور اب کسی بھی مظاہرے کے لیے حکام سے اجازت درکار ہوتی ہے۔

اس کے نتیجے میں پابندیاں تقریباً بلاوجہ عروج تک پہنچ گئیں۔

روسیوں کو فیس بک پر اپنی کہانیاں شیئر کرنے پر جیل بھیج دیا گیا۔ 2018 میں، ایک بے روزگار بڑھئی کو پوتن کو ’احمق ف۔۔ہیڈ‘ کہنے پر جرمانہ کیا گیا تھا جو انٹرنیٹ پر اہلکاروں کی انسداد توہین کے نئے قانون کا یہ پہلا استعمال تھا۔

لیکن پوتن کے اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاؤن کو کم سے کم مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ 1990 کی دہائی کی بدامنی کے بعد روسی عوام امن، سلامتی اور استحکام چاہتے تھے۔ عوام کی اکثریت بدلے میں کم آزادی پر راضی تھی۔

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی مدد سے پوتن اپنا وعدہ پورا کرنے میں کامیاب رہے۔ اپنی دوسری میعاد کے اختتام پر، وہ معقول طور پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ روس کے کامیاب ترین رہنما کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔

عبادت کے دن کی یاد

عوام کی اکثریت کی حمایت سے اگر روسی صدر اپنے عہدے پر رہنے کے لیے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتے تو انہیں زیادہ مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن پوتن نے تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جانشین کا انتخاب کیا۔ وہ 2008 سے وزیراعظم اور دمتری میدویدیف صدر رہے۔

کانسٹینٹن گاز اقتدار کی منتقلی کے وقت وزارت زراعت کے مشیر تھے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ پوری حکومت اس ’بڑے منصوبے‘ کے نفاذ سے خوش تھی - یہ پہلا موقع تھا کہ صدارتی اقتدار موت یا ہنگامی حالت کے اعلان کے بغیر منتقل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ ہوا تو یہ ایک خوبصورت، مضبوط اور جمہوری فتح کی طرح تھا۔ ’ہم سب نے محسوس کیا کہ ہم سب بہت شاندار ہیں۔ ہم نے سوچا کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور اب سے حالات معمول پر آ جائیں گے۔‘

لیکن عملی طور پر، میدویدیف دور میں جمہوریت کو بحال کرنے میں ناکامی نظر آئی۔ صدر منتخب ہوتے ہی تقریباً ایک بحران پیدا ہو گیا۔ معاشی عدم استحکام تیزی سے سیاسی عدم استحکام اور بڑے پیمانے پر احتجاج کا باعث بنا۔ پوتن یہ دیکھ کر کہ کم از کم اشرافیہ میں سے کچھ میدویدیف کی جانب چلے گئے ہیں، انہوں نے اقتدار چھوڑنے کے اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔

کانسٹینٹن گاز نے کہا کہ ’پوتن نے تقریباً ڈیڑھ سال تک ان کے ساتھ کام کیا، لیکن 2010 تک یہ واضح ہو گیا کہ انہوں نے اقتدار کے لیے دوبارہ جنگ شروع کر دی ہے۔‘

2012 میں پوتن کی صدارت میں واپسی ایک بہت ہی ذاتی فتح تھی، اور ایک ایسا وقت جب وہ اقتدار میں نہیں تھے، اقتدار دوسروں کے حوالے کرنے کے خطرات کو ظاہر کر رہے تھے۔

پوتن نے اگلے سال میدویدیف کے تقریباً تمام اقدامات کو تبدیل کرنے میں گزارے۔

اپنے والدین کا احترام کریں 

صدر میدویدیف نے روس کی لبرل اشرافیہ اور تخلیقی کلاس سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ وہ ٹوئٹر پر گئے اور یہاں تک کہ روس کے سب سے مقبول اپوزیشن ٹیلی ویژن چینل دوزہد ٹی وی پر بھی نظر آئے۔ جب پوتن واپس آئے تو ملکی سیاست میں اتار چڑھاؤ مخالف سمت میں چلا گیا تھا۔

کارنیگی ماسکو سینٹر کی رکن تتیانا سٹنووایا نے کہا، ’پوتن نے اپنے اردگرد عوام کو متحد کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا۔‘

’لہذا وہ اس کے ساتھ ایک نئے تعلق کی تلاش میں تھے جسے انہوں نے ایک جمہوری اکثریت کے طور پر دیکھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہم نے قوم کی روحانی ضروریات، خاندانی اقدار اور حب الوطنی کی لہر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جو کرائمیا پر منتج ہوا۔‘

2011 کے بعد سے، پوتن نے روسی اخلاقی دھڑے کو ساتھ لیا۔ صحت مند زندگی اور فحاشی کو دبانے کا ایک نیا گروپ شروع ہوا۔ 2013 میں، روسی حکومت نے سیکشن 28 نافذ کیا، جو کہ نابالغوں کے درمیان ’غیر روایتی تعلقات کو فروغ دینا‘ کے خلاف ایک متنازعہ نیا قانون تھا۔ نتائج غیرحیران کن تھے: نفرت پر مبنی جرائم بڑھے جن کی شاذ و نادر ہی تفتیش کی جاتی تھی۔ چیچنیا میں سینکڑوں ہم جنس پرست مردوں کو دو لہروں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں سے کم از کم تین کو مار دیا گیا۔

آرتھوڈوکس چرچ اس نئے قدامت پسند معاہدے کا مرکز تھا، جب آرچ بشپ کیرل نے پوتن کو ’خدا کا معجزہ‘ قرار دیا۔

ہر کوئی اس صورت حال سے متفق نہیں تھا۔ مارچ 2012 میں، چار حقوق نسواں کے کارکنوں نے ماسکو کے کیتھیڈرل آف کرائسٹ دی سیویئر میں احتجاج کے طور پر ’پنک عبادت‘ منعقد کرنے کی کوشش کی۔ کریملن نے انہیں حراستی مرکز میں بھیج دیا۔

ماریا الیوکھنا نے، جو کہ ’پوسی روئٹ‘ کی رکن جنہیں قید کیا گیا کہا ’پوتن KGB کا ایک ایجنٹ تھا، ایک ایسی تنظیم جس نے چرچ کو تباہ کیا، پادریوں کو قتل کیا اور کیمپوں میں لوگوں کو مارا۔ اب چرچ ہمیں بتا رہا ہے کہ روس پر KGB کا تسلط بہت اچھا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے گرینڈ ربی ہٹلر کی تعریف کر رہا ہو۔‘

تم کسی کو قتل نہ کرو

ایوان دی گریٹ نے غداروں کا سراغ لگانے کے لیے کتوں کے قلم سر استعمال کیے تھے۔ پوتن کے پاس دشمنوں کا سراغ لگانے کے لیے زیادہ نفیس طریقے ہیں۔ لیکن موت کے آلات کے بارے میں اپنے نقطہ نظر میں بظاہر کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے۔

نومبر 2006 میں الیگزینڈر لیٹوینینکو کی المناک موت پوتن کے دور صدارت میں ایک بڑا واقعہ تھا۔ پلوٹونیم 210 کے ساتھ سابق روسی جاسوس کی المناک موت، جو انسان کو معلوم سب سے زیادہ تابکار آسوٹوپس میں سے ایک ہے، لندن کے ایک ہسپتال کے بستر سے دنیا بھر میں نشر کی گئی۔

دس سال بعد، برطانوی حکومت کی تحقیقات نے لیٹوینینکو کی موت کی تصدیق کی کہ ’یہ ممکن ہے‘ کہ دو روسی ایجنٹوں نے پوتن کے علم میں ہوتے ہوئے انہیں قتل کیا ہو۔

دوسرے ممالک میں نشانہ بنا کر قتل کرنا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ چیچن باغی رہنما زلمخان یاندربیف کو اس ہلاکت سے دو سال قبل قطر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ فرق صرف اس جگہ کا تھا جہاں لیٹوینینکو کے قتل کی کارروائی ہوئی تھی یعنی برطانوی دارالحکومت کی سڑکوں پر۔ اس نے روس کی خفیہ فورسز کی ایک نئی سرگرمی کا آغاز کیا۔  

خطرے موہ لینے کی طلب اس وقت دوبارہ ایک نئی سطح پر پہنچ گئی جب 2018 میں ایک روسی جاسوس سرگئے سکریپال پر قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش، برطانیہ کے شہر سیلسبری میں ہوئی۔ اس بار الزام کی انگلیوں کا رخ ماسکو کی طرف ہوا، جس میں دو روسی ملٹری انٹیلی جنس ایجنٹوں اور سینکڑوں دیگر مشتبہ افراد پر الزام لگایا گیا۔

کارنیگی انڈومنٹ کی تتیانا سٹنووایا نے کہا، ’پوتن نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردانہ حملوں پر نرم رویہ اختیار کیا۔ ماضی میں، یہ صرف طاقت کا تاریک پہلو تھا اور کوئی اس پر بات نہیں کرتا تھا۔ لیکن اب کریملن کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ موت ایک زیادہ واضح ذریعہ بن گئی ہے۔‘

 تم زنا نہ کرو

جیسا کہ ناکام سالسبری آپریشن نے ظاہر کیا، صلاحیت ہمیشہ پوتن کے نظام کا ضروری حصہ نہیں ہوتا۔ سب سے اہم چیز اکثر وفاداری قرار پائی ہے۔

پوتن کا اعتماد حاصل کرنے والوں نے قدرے سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ بیس سال تک انہوں نے اپنے چار ذاتی محافظوں کو گورنر مقرر کیا۔ انہوں نے ملکی سیاست میں سکیورٹی بلاک کو ایک اعلی کردار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مصنف اور سکیورٹی ماہر آندرے سولڈاو کا کہنا ہے کہ سکیورٹی سروسز میں پوتن کے سابق ساتھی ان کی نئے اشرافیہ‘ بن گئے ہیں۔ ’لیکن اس کے بعد، یہ فوج اورجی آر یو ملٹری انٹیلی جنس دھڑے تھے، جنہوں نے بالادستی حاصل کی۔ 

سولڈاو نے کہا، ’روس کا اہم سکیورٹی اپریٹس اب سوویت یونین میں کے جی بی کا کردار ادا کر رہا ہے، یعنی وہ معاشرے کو جاسوسی کے جنون اور اشرافیہ کو ہدف بنا کر جبر کے ذریعے کنٹرول کر رہا ہے۔ لیکن یہ فوج ہے جو آہستہ آہستہ ایک آزادانہ کردار ادا کر رہی ہے، جو میرے خیال میں بظاہر بڑا کردار ہے۔‘

وفاداری کا غیر تحریری قانون توڑنے والوں کو جلد ہی اس کا احساس ہو گیا۔

فروری 2003 میں، روس کے امیر ترین شخص کے ارب پتی ناول نگار میخائل کھودورکووسکی نے صدر کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کریملن کی انسداد بدعنوانی کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی جسارت کی۔ اسی سال کے آخر میں کھودورکووسکی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک سال بعد ان کے تیل کی صنعت میں اثاثے ضبط کر لیے گئے۔

یہ آپریشن اہم شخصیات کے خلاف جنگ کا حصہ تھا، ایک ایسا گروہ جس کے پاس یلسن کی حکومت میں بے مثال سیاسی طاقت تھی۔ کسی بھی طرح سے، جو بھی رضاکارانہ طور پر سیاست سے باہر نہیں رہنا چاہتا تھا، اسے نکال دیا گیا۔ ان میں سب سے پرجوش بورس برزوسکی کی لاش 2013 میں برطانیہ کے ایک مکان سے ملی تھی۔

لیکن جیسے ہی پرانی شخصیات ہٹیں، ایک نئی عدالت سامنے آئی۔ اور اس گروہ میں سے اکثر کے اس بڑے آدمی سے اچھے تعلقات تھے۔

تم چوری نہ کرو

پوتن انتظامیہ کی ناقابل تردید کامیابیوں میں سے ایک غربت میں بہت بڑی کمی تھی۔ یہ کامیابی تیل کی تاریخی طور پر قیمتوں میں بےانتہا اضافے، پوتن کے اصلاحاتی ایجنڈے اور اعلیٰ اقتصادی ترقی کے سالوں کا نتیجہ تھی۔ 1999 اور 2018 کے درمیان کے دس سالوں میں، روس کی جی ڈی پی میں 94 فیصد اضافہ ہوا۔ دس ڈالر میں ایک کافی کا ایک کپ ناممکن نہیں تھا۔

اس کے بعد سے، معیشت کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، اقتصادی ترقی کی اوسط شرح ایک فیصد رہی ہے اور مستقبل کی پیش گوئی کوئی زیادہ روشن نہیں ہے۔ گذشتہ سال غربت کی شرح 13.9 فیصد سے بڑھ کر 14.3 فیصد ہو گئی۔

بدعنوانی سے لڑنے کی تمام تر بیانات کے باوجود بدعنوانی اب بھی حکومت کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ میدویدیف کے دور حکومت میں شفافیت کے لیے لائی گئی اصلاحات نے صحافیوں اور محققین کو وسیع پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کا ایک ذریعہ فراہم کیا ہے۔

حزب اختلاف کے سیاست دان الیکسے نوالنی نے اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ - خود میدویدیف سے لے کر ان کے پرانے ساتھی ایگو سیچن تک پوتن کے پراسرار معاملات کی چھان بین کر کے کھلبلی مچا دی ہے۔ لیکن ان کی رپورٹوں میں ملوث افراد کے خلاف کچھ نہیں ہوا۔ اس کی بجائے، نوالنی پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے قید کر دیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار گلیب پاولووسکی نے کہا، ’ایک بار جب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ پوتن کا نام اس میں شامل ہے، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بدعنوان ہیں یا نہیں۔ زیادہ تر فیصلے پوتن کی عدالت میں ہوتے ہیں اور ان کی عدالت میں وہ بدعنوان ہیں۔‘

تم جھوٹی گواہی نہ دو

روسی میڈیا کا 1999 سے 2019 تک کا ریکارڈ المیہ اور کبھی کبھی فتوحات کا مرکب رہا ہے۔

پوتن کی صورت میں میڈیا نے ایک مستقل دشمن کا سامنا کیا۔ 

سب سے پہلے، ان کی حکومت نے ٹیلی ویژن میڈیا کا رخ کیا اور ایجنڈے میں تنقیدی صحافت کے مختلف درجات کے ساتھ دو بااثر چینلز او آر ٹی اور این ٹی وی پر قبضہ کر لیا۔ پھر حکومت نے اخبارات کا رخ کیا: پہلے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ٹیبلائڈز اور پھر زیادہ اشرافیہ کی براڈشیٹس کو دیکھا۔ یہاں بھی منصوبہ وہی تھا: اشرفیہ پر مطبوعات کی ملکیت کے لیے دباؤ ڈالنا، پھر ان کے دیگر اثاثوں کو میڈیا کے کاروبار کے خلاف استعمال کرنا۔

2011 اور 2012 سے، روسی عوام کو جھوٹ اور غلط معلومات کی نئی سطحوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تحقیقاتی صحافی الیکسی کووالیو نے اس لمحے کو ایک ’ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیا، ایک ایسا لمحہ جس نے انہیں اس قدر پریشان کر دیا کہ انہوں نے خبر کو چیک کرنے کے لیے ’دی نوڈل ریمور‘ ویب سائٹ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جعلی کہانیاں اکثر غیر منطقی ہوتی تھیں لیکن مستند خبروں کے ساتھ ساتھ چھپ جاتی تھیں۔ مثال کے طور پر لندن میں سڑکوں پر شرعی گشت کے سرگرم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بہت سے موجودہ الٹ رائٹ بیانیے کو لپیٹ لیا۔

ان کے مطابق 2014-2015 میں یوکرین آپریشن کے وقت تک کریملن آپریشن ایک نئے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ ’سرکاری میڈیا نے پوتن کی کسی بھی مخالفت کو جاسوسوں کا کام قرار دیا۔ وہ دنیا کی تقریباً ہر زبان میں مسلسل سازشی تھیوری اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے تھے۔‘

اس پس منظر میں بھی، آزاد صحافت کے جزیرے زندہ رہنے میں کامیاب رہے – خاص طور پر آن لائن۔ جب پوتن آئے تو آبادی کا صرف 2 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں پر مشتمل تھا۔ یہ تعداد اب 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ کریملن کے پاس ابھی تک ڈیجیٹل چیلنج سے نمٹنے کے بارے میں کوئی مربوط حکمت عملی نہیں ہے۔

روسی صحافت کا ایک ستارہ لیونیڈ پرفیونوف میڈیا کریک ڈاؤن کے پہلے متاثرین میں سے ایک تھے۔ ایک قتل شدہ چیچن رہنما کی بیوہ کے ساتھ ان کے 2004 کے انٹرویو میں اسے نیوز اینکر کی حیثیت سے اپنے کردار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ لیکن آج پرفیونوف واپس لوٹ آئے ہیں، ان کا پروگرام یوٹیوب پر دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے 15 سال سے سرکاری ٹی وی پر کام نہیں کیا، لیکن میرے لیے چیزیں پہلے سے کہیں بہتر ہیں۔ ’پہلی بار میں پروڈیوسر اور براڈکاسٹر ہوں۔ میں اپنا ٹی وی چینل ہوں۔ یہ کافی کچھ ہے۔‘

تم لالچ نہ کرو

اگرچہ پوتن کی ملک میں کامیابی کے بارے میں حکومتی پروپیگینڈا پہلے سے کہیں کم موثر نظر آتا ہے، لیکن روسی عام طور پر ملک کو ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر دوبارہ قائم کرنے کے بارے میں ان کے بیانات کو قبول کرتے ہیں۔

آندرے سولداٹو کے مطابق روسی اپوزیشن کے کچھ حصے بھی پوتن کی توسیع پسندی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تضاد بالکل نیا نہیں ہے کیونکہ سامراجیت روسیوں کی اجتماعی نفسیات میں پیوست ہے۔

لیکن حب الوطنی کی تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ یہ عمل طویل مدتی ہے۔ ’لوگ یوکرین اور شام کے مسائل سے تھک چکے ہیں، لیکن اس سے ان کے بنیادی عقائد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم اب بھی انیسویں صدی کی ذہنیت کے ساتھ جی رہے ہیں۔‘

پوتن کے روس کو خونریز جنگوں - چیچنیا، جارجیا، یوکرین، شام - اور ملک کے شہریوں اور کبھی کبھار ہوائی جہاز سے سفر کرنے والوں کی زندگیوں کے لیے ان کے بے رحم رویے کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ روس کو 2010 اور 2016 کے درمیان عسکری اخراجات میں 4.9 فیصد سے 16 فیصد اضافے کے لیے یاد رکھا جائے گا، اس سے پہلے کہ وہ کسی حد تک کم ہو جائے۔ 

لیکن خارجہ پالیسی پوتن کی روس کے لیے ہمیشہ بری خبر نہیں رہی۔ 2004 میں، روسی سفارت کاروں نے ایک طویل عرصے سے انتظار کیے جانے والے امن معاہدے پر دستخط کرکے صدیوں سے جاری تنازع کو ختم کیا۔

دستخط کنندگان الاسکا کے مقامی انڈین قبائل۔

پوتن کے بغیر روس

گذشتہ موسم گرما کے احتجاج - اور وہ ڈھٹائی کی پالیسیاں جو ان کا باعث بنی - نظام حکومت میں بحران کی علامات ہیں۔

پوتن کے لیے یہ صورت حال کتنی سنگین ہے ابھی واضح ہونا باقی ہے۔ کریملن کے جابرانہ نظام کا صرف ایک حصہ حرکت میں آیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی حکومت کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ احتجاجی تحریک عمومی طور پر ماسکو تک محدود ہے اور دیگر علاقوں میں بدامنی کو آسانی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ واضح ہے کہ ایک قسم کا تنازعہ کوئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

پوتن کی دوسری مدت صدارت 2024 میں ختم ہو رہی ہے اور وہ اس وقت تک صدر نہیں رہ سکتے جب تک وہ آئین میں تبدیلی نہیں کرتے۔

پوتن نے، جن کے پاس اب بریزنیف سے زیادہ طاقت ہے، اپنے فرار کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا ہے۔ 2008 سے 2001 تک سیاست میں ان کا تجربہ ناکام رہا۔ اور یہاں تک کہ اگر وہ صدارت کو الوداع کہنا چاہتے ہیں، تو شاید انہیں اپنے اندرونی حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، جن کو پوتن سے کہیں زیادہ ان کی ضرورت ہے۔

مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے: ایک آئینی ترمیم جو حقیقی طاقت پارلیمنٹ کو منتقل کرے گی اور پوتن کو ایک زیادہ طاقتور وزیر اعظم کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے گی، ایک ماڈل جسے قزاق ’قوم کے باپ‘ نورسلطان نذربائیو نے منتخب کیا ہے، جس میں پوتن کونسل کی صدارت کرتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ خطرناک ملک بیلاروس کے ساتھ مل کر ایک سپر پاور کے رہنما کے طور پر پوتن کا انتخاب، ایک ایسا چیلنج جسے منسک میں خیرمقدم کرنے کا امکان نہیں ہے۔

کونسٹنٹین گاز کا کہنا ہے کہ ’ہم اس حقیقت کے عادی ہیں کہ حکومتیں شروع میں سب سے زیادہ بدلتی ہیں، لیکن پوتن کے روس کے ساتھ حالات بالکل الٹ ہیں۔ گذشتہ پانچ سالوں میں ہم نے نظام میں سب سے بنیادی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سب سے بڑی تبدیلی ہماری آنکھوں کے سامنے آئے گی۔‘

یہ مضمون پہلی مرتبہ اگست 2019 میں شائع کیا گیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ