مشال خان اور ’انتہا پسندی‘ کے موضوع پر مباحثہ

لائبہ کے مطابق، جب 2015 میں لائبہ کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت توہین رسالت کا پروپیگنڈا چلا تو مشال انہیں اکثر کال کر کے اپنا خیال رکھنے کی تجویز دیا کرتا تھا۔

2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبعلم مشال خان کو ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں بے انتہا تشدد کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ تحقیقات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس الزام کو جھوٹا قرار دیا تھا (تصویر: ریممبرنگ مشال خان فیس بک اکاونٹ)

13 اپریل کو مشال خان کی پانچویں برسی کے موقعے پر مختلف فورمز پر خیبر پختونخوا میں انتہا پسندی کے موضوع پر کئی بحث مباحثے ہوئے جن میں ایک بین الاقوامی نیوز ادارے مشال ریڈیو نے بھی ٹوئٹر پر ایک سپیس کا اہتمام کیا اور اس میں مشال خان کے والد محمد اقبال سمیت ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزے، لائبہ یوسفزئی و دیگر کو مدعو کیا گیا تھا۔
لائبہ یوسفزئی نے سپیس کے اختتام پر انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران کہا کہ وہ مشال کو 2014 سے جانتی تھیں، اور تب سے ان کے ساتھ پیش آنے والے حادثے سے ایک دن پہلے تک دونوں میں رابطہ رہا تھا۔
’مشال اور میری ملاقات فیس بک پر بحث مباحثوں کے ذریعے ہوئی۔ چونکہ وہ ایک سنجیدہ طبع، انتہائی ذہین اور قابل نوجوان تھا لہٰذا یہ بات چیت موبائل کالز تک بڑھی۔ وہ مجھ سے صحافت اور دیگر سنجیدہ موضوعات پر سوالات اور مشورے لیتا تھا، اور میں اس کو پشتونوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ سمجھنے لگی تھی۔‘
لائبہ کے مطابق، جب 2015 میں لائبہ کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت توہین رسالت کا پروپیگنڈا چلا تو مشال انہیں اکثر کال کر کے اپنا خیال رکھنے کی تجویز دیا کرتا تھا۔
’اسی زمانے میں مشال کے خلاف بھی یہی پروپیگنڈہ کیا گیا تھا، میں نے بھی اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنا خیال رکھے اور محتاط رہے کیونکہ وہ ہاسٹل میں رہتا ہے۔ اور پھر ایک دن مجھے ٹی وی سے ہی اس کے ساتھ ہونے والے حادثے کی خبر ملی۔ میں نے کنفرم کرنے کے لیے اسی وقت رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔‘
لائبہ یوسفزئی ان چند لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے بروقت مشال کے قتل کے بعد انتہا پسندی کے خلاف تحریک اور مہم چلائی۔ دیگر ناموں میں بشریٰ گوہر، جمیلہ گیلانی، طارق افغان، ثنا اعجاز اور کئی دیگر مرد و خواتین شامل ہیں، جو سوشل میڈیا بلکہ مشال کے گاؤں میں جا کر ریلیاں نکالتے رہے۔
طارق افغان نے یہی بات مشال ریڈیو کے ٹوئٹر سپیس میں بھی بتائی کہ چونکہ لوگ ایسے موضوعات پر بات کرنے سے ڈرتے اور کتراتے ہیں، لہٰذا ان کے مظاہروں کا یہ فائدہ ہوا کہ لوگوں کو مشال کے حق میں بات کرنے کی ہمت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ’انتہا پسندی‘ پشتون علاقے کا پراڈکٹ نہیں ہے بلکہ باہر سے لائی گئی ہے۔ 
اسی مباحثے میں شریک ضیاء الدین یوسفزئی نے کہا کہ ففتھ جنریشن وار نے رہی سہی کسر پوری کی، جس نے نوجوان نسل کو سانپ کی مانند صرف ڈسنے پر لگا دیا۔ وہ اب تحقیق نہیں کرتے۔ سوال نہیں کرتے، اور جو کچھ وہ سنتے ہیں، اسی کو سچ سمجھتے ہیں۔‘
دوسری جانب، مشال خان کے والد محمد اقبال جن کا کہنا ہے کہ اب انہوں نے اپنی پوری شاعری اپنے بیٹے کے نام کر دی ہے اور انہوں نے اپنا پورا نام ‘محمد اقبال مشال’ کر دیا ہے، ایک ادبی اور علمی شخصیت ہیں۔ 
محمد اقبال نوجوانی سے ہی مختلف ادبی، علمی اور سیاسی تنظیموں کا حصہ رہے ہیں، انہوں نے سامعین کو بتایا کہ مشال ان کا بڑا بیٹا تھا اور ان کی ادبی سرگرمیوں کا مشال پر بھی بھرپور اثر تھا۔
انہوں نے کہا، ’میرے بیٹے کو صرف اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ سوال کرتا تھا۔ ہمارے معاشرے میں سوال کرنے کو برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔ کیوں اس کو جواب دینے کی بجائے اس کو بےدردی سے قتل کیا گیا؟‘
محمد اقبال مشال نے کہا کہ ان کے بیٹے کی بے گناہی ثابت ہو چکی ہے کہ وہ توہین رسالت کا مرتکب نہیں ہوا تھا اور اس نے محض یونیورسٹی انتظامیہ کو چیلنج کرتے ہوئے ان کا کرپشن بےنقاب کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس بحث کو آگے لے جاتے ہوئے مشال خان کے عبدالولی خان یونیورسٹی میں قریبی استاد اور دوست ضیاء اللہ ہمدرد نے بتایا کہ وہ ایک نیک سیرت اور ’برائٹ‘ طالب علم تھا اور ان کے خلاف اٹھنے والےبہت اوسط ذہن کے طالب علم تھے۔ 
انہوں نے مزید بتایا کہ مشال خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں نہ صرف یونیورسٹی کے طلبہ شامل تھے بلکہ ایسے ثبوت بھی ملے ہیں کہ ان کے خلاف باقاعدہ باہر کے لوگوں کو یونیورسٹی بلوایا گیا تھا۔
اس موقع پر ضیاالدین یوسفزی نے کہا کہ افسوس یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی پسماندہ علاقے میں نہیں بلکہ مردان جیسی جگہ اور یونیورسٹی میں پیش آیا تھا۔ 
‘باوجود اس حقیقت کے مشال خان کی بےگناہی عدالتوں، ثبوت اور شواہد سے ثابت ہو چکی ہے، اس کے باوجود ان کی یونیورسٹی آج تک مشال کے حوالے سے خاموش ہے۔ حتی کہ کوئی لائبریری، سڑک یا کوئی کلاس روم تک مشال کے نام نہیں کیا۔’
 ضیاالدین یوسفزئی نے کہا کہ پہلے پہل مذہبی انتہا پسندی ہوا کرتی تھی لیکن اب سیاسی انتہا پسندی عام ہوگئی ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال اور تقسیم اس کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہا پسندی اب مسلسل جدوجہد، مکالموں اور بحث مباحثوں سے ختم ہوگی۔
سپیس کے میزبان اسرار عالم مہمند نے سپیکرز سے پوچھا کہ کیا ’انتہا پسندی‘ کا پاکستان میں خواتین پر بھی کوئی اثر ہے؟ جس کے جواب میں لائبہ یوسفزئی نے جواب دیا کہ جس تیز رفتاری سے بغیر کسی روک ٹوک کے پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں مدرسے بن رہے ہیں، اور ارطغرل جیسے ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں، جس کا خواتین پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ واقعہ جس کے نتیجے میں تین خواتین نے ایک نوجوان خاتون کو ذبح کیا، اس کی ایک تازہ مثال ہے۔
ایک مقرر کے سوال پر کہ جہاں ایک جانب مشال خان کے قاتلوں کو سزا سنا دی گئی ہے وہیں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں کوئی بےگناہ اس زد میں آ کر سزا نہ کاٹ رہا ہو۔
اس حوالے سے مشال کے والد نے کہا کہ وہ عدالتوں کے فیصلے سے مکمل مطمئن ہیں کیونکہ عدالتوں نے یہ فیصلہ مکمل ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر کیا ہے، اور اس دوران انہیں بھی آگاہ رکھا گیا۔
‘ویڈیو میں جو لوگ واضح نظر آ رہے تھے ان کو سزا ہوئی۔ باقی کچھ لوگ تھے جو مرکزی مجرم تھے تاہم ان کے خلاف شواہد کی عدم فراہمی کے باعث انہیں بری کیا گیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان