راشد آفریدی کے اہل خانہ کے مطابق وہ گذشتہ سال نومبر میں اٹلی کے لیے گھر سے نکلے تھے اور اہل خانہ سے آخری مرتبہ گفتگو ہفتے (چار اور پانچ اپریل کی درمیانی شب) کو ہوئی تھی۔
پی ایم ایس اے حکام نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ شکار پر جانے کے لیے چھوٹی کشتی کو استعمال میں لایا گیا جو گہرے سمندر میں اترنے کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی۔