پاکستان کا صبر جواب دے گیا اور آخر کار چار سال کی ناکام سفارت کاری کے بعد، اب ٹی ٹی پی کے بجائے براہِ راست افغان طالبان کے ٹھکانے اور گولہ بارود کے ڈپو نشانے پر ہیں۔
داعش خراسان
ریاستی سیکیورٹی سروس کے جاری کردہ بیان کے مطابق گرفتار افراد نے داعش خراسان کے ارکان کے ساتھ مل کر سازش کی، اسلحہ حاصل کیا اور ایک غیر ملکی سفارت خانے پر حملے کا منصوبہ بنایا۔