پاکستان کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کو انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ داعش خراسان کے سینیئر رکن سلطان عزیز عزام پاکستانی حکام کے زیر حراست ہیں۔
پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کے مطابق سلطان عزیز عزام کو مئی 2025 میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔
انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ عزام داعش خراسان کی میڈیا سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ ماضی میں العزام گروپ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عزام کو نومبر 2021 میں امریکہ نے سپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ بھی قرار دیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے عزام کو حراست میں لیے جانے کی خبر سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی حکام نے متعدد ہائی پروفائل گرفتاریاں کی ہیں جن میں سلطان عزیز عزام بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’مجموعی طور پر حکام اور پاکستان کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش-کے کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔‘
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزام 1978 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پیدا ہوئے اور 2005 میں ننگرہار یونیورسٹی سے فقہ و قانون (فقہ قانون) میں گریجویشن کی۔
بعد ازاں انہوں نے افغانستان کے شہر جلال آباد میں ایک ایف ایم ریڈیو چینل میں کام کیا۔
سکیورٹی ذرائع نے پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کو مزید بتایا کہ عزام نے 2016 میں داعش خراسان میں شمولیت اختیار کی۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق 26 اگست، 2021 کو عزام نے داعش خراساں کی جانب سے کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں کم از کم 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ مزید 150 افراد زخمی ہوئے۔
اپنے بیان میں انہوں نے حملے کی تفصیلات فراہم کیں، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ آئی ایس آئی ایل- کے کے امیر ثنا اللہ غفاری نے اس کارروائی کی نگرانی کی۔
اسی طرح دو مارچ، 2021 کو آئی ایس آئی ایل- کے (داعش خراساں) نے تین خواتین صحافیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے قتل کے اگلے دن آئی ایس آئی ایل-کے کے نیوز چینل ’اخبار ولایت خراسان‘ نے اعظم کا ایک پیغام شائع کیا جس کا عنوان تھا ’ہم عمل کے لوگ ہیں۔‘
اس پیغام میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ تینوں خواتین صحافیوں کا قتل افغان حکومت کی مبینہ طور پر آئی ایس آئی ایل-کے کی آبادی والے متعدد دیہات کی تباہی کے ردعمل میں کیا گیا۔
ویب سائٹ کا مزید کہنا ہے کہ تین اگست، 2020 کو آئی ایس آئی ایل-کے نے جلال آباد میں ایک جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس کے دوران 29 افراد مارے گئے جبکہ 50 دیگر زخمی ہوئے۔
حملے کے بعد تنظیم کے میڈیا ادارے نے 20 منٹ پر مشتمل ایک آڈیو پیغام جاری کیا، جس میں عزام نے حملے کی تفصیلات بیان کیں۔
سکیورٹی کونسل کے مطابق عزام کی پراپینگنڈا سرگرمیوں نے آئی ایس آئی ایل-کے کو افغانستان میں بڑے پیمانے پر حملے کرنے کے لیے اپنے ارکان کی بھرتی اور حوصلہ افزائی میں مدد دی۔
اس سے قبل رواں سال جون میں ترکی اور پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان اور ترکی کی مشترکہ خفیہ کارروائی میں داعش کے ایک اہم کارندے کو پاکستان افغانستان سرحد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اناتولو کے مطابق اوزغور آلتون، جو ’ابو یاسر الترکی‘ کے کوڈ نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کو داعش میں ترکی سے تعلق رکھنے والے سب سے بڑے مرتبے کا رکن قرار دیا گیا تھا۔