آذربائیجان کے حکام نے منگل کو بتایا ہے کہ انہوں نے دارالحکومت باکو میں ایک غیر ملکی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جو مبینہ طور پر داعش خراسان (ISIS-K) کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔
ریاستی سیکیورٹی سروس کے جاری کردہ بیان کے مطابق گرفتار افراد نے داعش خراسان کے ارکان کے ساتھ مل کر سازش کی، اسلحہ حاصل کیا اور ایک غیر ملکی سفارت خانے پر حملے کا منصوبہ بنایا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔
بیان میں سفارت خانے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
حکام کے مطابق ایک ملزم 2000 جبکہ دو دیگر 2005 میں پیدا ہوئے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
داعش خراسان، جو افغانستان میں سرگرم داعش کی شاخ ہے، نے 2024 میں ماسکو کے کروکس سٹی ہال پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 145 افراد جان سے گئے تھے۔
روس کے اکثریتی مسلم علاقوں اور وسطی ایشیا میں داعش سے منسلک متعدد حملوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔
آذربائیجان، جو روس اور ایران کے درمیان واقع جنوبی قفقاز کا ایک ملک ہے اور جہاں کی اکثریتی آبادی مسلمان، بالخصوص شیعہ ہے، ایک سیکولر ریاست ہے۔
آذربائیجانی حکام نے بتایا کہ ملزمان کو مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی کی تیاری کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
ایک علیحدہ مقدمے میں، گزشتہ اکتوبر میں آذربائیجان کی ایک عدالت نے داعش خراسان سے وابستہ ایک شخص کو باکو میں دسمبر 2024 میں ایک عبادت گاہ پر مولوتوف کاک ٹیل سے حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں 13 سال قید کی سزا سنائی تھی۔