اقتدار میں موجود لوگ شاید ایک فرمانبردار میڈیا کو اپنی کامیابی سمجھتے ہوں، لیکن کنٹرول کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب مرکزی دھارے کا میڈیا عوامی اعتماد کھو دیتا ہے تو بحران کے وقت حقائق کے تعین کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کو ڈر ہے کہ ترجیحات کی تبدیلی اور تجربہ کار کارکنوں سے محرومی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ٹوئٹر دنیا بھر سے سرکاری حکام کی طرف سے ناقدانہ مواد کو روکنے اور صارفین کا ڈیٹا دینے کی مزید درخواستوں پر عمل کرنا شروع کر دے۔