چین سے آتے ہوئے فون ہی لیتی آنا

چین میں ہم فون کے بغیر آدھ گھنٹہ بھی نہیں گزار سکتے، لیکن چین سے باہر یہی فون ہمیں 15 منٹ میں ہی تنگ کرنا شروع کر دیتا ہے۔

چینی موبائل فونز کے فیچرز استعمال کرنے کے لیے چینی زبان آنا لازمی ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

چین کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہاں دنیا کی ہر چیز ملتی ہے اور انتہائی سستے داموں ملتی ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ چین میں دنیا کی ہر چیز ملتی ہے۔ سستی ملتی ہے یا مہنگی اس بارے میں بحث کی جا سکتی ہے۔

ہم چین آ رہے تھے تو ہمارے کچھ عزیزوں نے ہمیں اپنی چھوٹی بڑی فہرستیں تھما دی تھیں۔ کسی کو ویکیوم کلینر چاہیے تھا تو کسی کو ائیر فرائر۔

ایک آنٹی اپنی بیٹی کے جہیز کی فہرست لے آئیں۔ کہنے لگیں، ’پاکستان میں تو چین سے دو نمبر مال آتا ہے۔ تم وہاں سے اصل چیزیں لانا۔‘

ہم نے کہا، ’آنٹی، اتنی چیزیں وہاں سے یہاں منگوانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی بیٹی کو یہاں سے وہاں بھیج دیں۔‘

وہ قصہ تو خیر تمام ہوا۔ لیکن بیرونِ ملک مقیم افراد وطن واپس جائیں تو ان سے کچھ نہ کچھ لانے کی توقع تو کی ہی جاتی ہے۔

ہمارے بیشتر جاننے والے ہم سے موبائل فون لانے کی فرمائش کرتے ہیں۔

ہماری تائی جان نے تو اتنا کہا کہ ہم خود شرمندہ ہو گئے۔ پھر ہمیں انہیں بتانا پڑا کہ چین میں ملنے والے فون وہیں کے استعمال کے لیے بنتے ہیں۔ ہم ان کے لیے چین سے فون لے بھی آئیں تو وہ اسے استعمال نہیں کر پائیں گی۔

کیونکہ جو ایپس وہ اپنے فون پر استعمال کرتی ہیں وہ چین میں ملنے والے موبائل فونز پر نہیں چلتیں۔

ہم ان کے لیے کتنا ہی اچھا فون کیوں نہ خرید لیں وہ ان کے لیے بے کار ہی ہو گا۔ وہ اس فون سے مایوس ہو کر ہمارے بارے میں خاندان بھر میں باتیں کریں گی جو ہمیں اچھی نہیں لگیں گی۔ پھر ہم ان کے بارے میں باتیں کریں گے۔ وہ انہیں اچھی نہیں لگیں گی۔

ایک فون کی خاطر ایک دوسرے کو اتنی تکلیف میں کیوں ڈالنا۔

انہیں ہماری بات سمجھ آئی یا نہیں اس کا تو ہمیں علم نہیں، اتنا ضرور ہوا کہ انہوں نے ہم سے بات کرنا چھوڑ دی۔ مرضی ان کی۔

چینی مارکیٹ کے لیے بننے والے موبائل فونز میں گوگل کی مصنوعات جیسے کہ گوگل پلے سٹور، گوگل پلے سروسز، جی میل، گوگل میپ وغیرہ موجود نہیں ہوتیں۔

گوگل پلے سروسز نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی دیگر ایپس جو ہم اپنے فون میں استعمال کرتے ہیں، چینی موبائل فونز پر نہیں چلتیں۔

انٹرنیٹ سے گوگل پلے سٹور یا گوگل پلے سروسز ڈاؤن لوڈ کر بھی لی جائیں تو موبائل فون انہیں چلنے نہیں دیتا۔

چینی موبائل فون میں ایپس صرف اور صرف ان میں موجود ایپ سٹور سے ہی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان ایپ سٹورز میں چین میں استعمال ہونے والی ایپس ہی موجود ہوتی ہیں۔ آپ اس ایپ سٹور میں فیس بک ڈھونڈنا شروع ہو جائیں تو خدا مل جائے گا فیس بک کی ایپلیکیشن نہیں ملے گی۔

لوگ انٹرنیٹ سے بھی اپنے استعمال کی ایپس ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں انسان کی قسمت اچھی ہونا ضروری ہے۔ قسمت نے ساتھ دیا تو ایپ چل جائے گی ورنہ ’میں نے یہ فون کیوں خریدا‘ کی گردان کرتے رہیں۔

ہم پچھلے چھ ماہ سے اپنے فون پر کلب ہاؤس چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایپ ڈاؤن لوڈ ہو جاتی ہے۔ کھل بھی جاتی ہے۔ رجسٹریشن نہیں ہو پاتی۔ نہ چینی نمبر پر نہ پاکستانی نمبر پر۔

ٹنڈر کا بھی یہی حال ہے۔ اس کی ایپ کھل کر بھی نہیں کھلتی۔ اس کی وجہ سے ہم راہِ راست پر رہنے پر مجبور ہیں۔

ہم اپنی ٹیبلٹ پر ایک گیم کھیلا کرتے تھے۔ وہ پہلے اچھی خاصی چل رہی تھی، ایک دن وہ بھی بند ہو گئی۔ ان انسٹال کر کے دوبارہ انسٹال کی۔ دو چار بار کی۔ مگر وہ گیم دوبارہ نہیں چلی۔

چینی موبائل فونز میں ایک بڑا مسئلہ زبان کا بھی ہے۔ ہم اپنا فون انگریزی میں استعمال کرتے ہیں، پھر بھی فون کے دسیوں فیچر ہیں جن کے لیے چینی زبان کا استعمال لازمی ہے۔

مثلاً ہم اپنے فون میں موجود سمارٹ اسسٹنٹ سے انگریزی میں بات نہیں کر سکتے۔ اسے صرف چینی زبان ہی سمجھ میں آتی ہے۔

ہمارے فون میں بول کر بھی الارم لگایا یا بند کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے چینی زبان میں ہدایات دینا ضروری ہیں۔

چینی فون چین میں استعمال کے لیے بہترین ہیں۔ ان میں ہر وہ ایپ اور فیچر موجود ہے جو چین میں رہنے کے لیے درکار ہیں۔

ہم اپنے اس فون کے بغیر چین میں آدھ گھنٹہ بھی نہیں گزار سکتے لیکن چین سے باہر یہ فون ہمیں 15 منٹ میں ہی تنگ کرنا شروع کر دے گا۔

چین سے باہر گلوبل رومنگ والے فون لینا بہتر ہے کیونکہ وہ گوگل فریم ورک کے تحت چلتے ہیں۔

آپ ایک ہفتہ اپنی زندگی سے گوگل نکالنے کا تجربہ کر لیں۔ آپ کو پہلے دن ہی اندازہ ہو جائے گا کہ ایسا کرنا کس قدر مشکل ہے۔

چین میں چونکہ ہر چیز ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے تو یہاں گوگل کی کمی اس طرح محسوس نہیں ہوتی۔ بس ایک عادت ہے جس کے لیے وی پی این کا استعمال کر کے گوگل تک جانا پڑتا ہے۔

فون کا مسئلہ حل ہو بھی جائے تو اس ٹیکس کا کیا کریں گے جو حکومتِ پاکستان نے درآمد شدہ موبائل فونز پر لگایا ہوا ہے؟ اسی ٹیکس کی وجہ سے ہم نے ایک سستا سا فون لیا ہوا ہے کہ جتنا مہنگا فون لیں گے ملک واپسی پر اتنا ہی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

ہم کسی کے لیے فون لے بھی آئیں تو اسے جب اس فون پر ٹیکس دینا پڑے گا وہ حکومت کو کچھ کہے نہ کہے ہمیں بہت کچھ ضرور کہے گا اور وہ ہمیں بالکل اچھا نہیں لگے گا۔

سو دوستو، ہم سے ملک واپسی پر اپنے لیے فون لانے کی فرمائش نہ کرو۔ وہیں سے ایک مناسب سا فون لے لو۔ ویسے بھی امی جان کہتی ہیں موبائل فون نری بیماری ہے۔ اس سے دور رہو، صحت مند رہو۔


بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  

ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔ 
 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ