’حکومت ایسا معاشرہ چاہتی ہے جہاں آنکھ، کان، زبان بند ہو‘

اتوار کو راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ملک گیر خواتین صحافیوں کا ویبینار منعقد کرایا۔ جس میں عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، نئیر علی، کشور ناہید سمیت 40 کے قریب صحافیوں نے شرکت کی۔

ویبینار میں شریک صحافیوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس اتھارٹی کے قیام کے خلاف 12 ستمبر کو ریلی نکالی جائے گی  جب کہ 13 ستمبر کو دھرنا دیا جائے گا(فائل فوٹو: اے ایف پی)

گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا اعلان کیا گیا جس کے بعد صحافتی حلقوں میں نئی بحث چِھڑ گئی۔

اتوار کو راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ملک گیر خواتین صحافیوں کا ویبینار منعقد کرایا۔ جس میں عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، نئیر علی، کشور ناہید سمیت 40 کے قریب صحافیوں نے شرکت کی۔

اس موقعے پر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’یہ ہتھکنڈے ہمارے آزمائے ہوئے ہیں۔ ہم پہلے بھی نہیں جھکے تھے اب بھی نہیں جھکیں گے۔‘

 انہوں نے کہا کہ حالیہ حکومتی اجلاس میں وزرا کی جانب سے سینئیر صحافیوں کی تذلیل سے یہ واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا۔

 ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سب بڑے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ حکومت ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتی ہے جہاں آنکھ کان زبان بند کر دی جائے۔‘

آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’احتجاج ہو گا اور ہم آزادی کی آخری حد تک جائیں گے۔ یو ٹیوبرز کے ذریعے سینئیر صحافیوں کی تذلیل کرائی گئی، اُن کے خلاف ٹرینڈز بنوائے گئے۔‘

 انہوں نے مزید کہا ’حکومتیں آتی جاتی رہیں گی لیکن صحافتی تنظیمیں ہمیشہ رہیں گی۔‘

ویبینار میں کشور ناہید کا کہنا تھا کہ ’میڈیا پر پابندیوں کا آغاز جنرل ایوب کے دور سے ہوا جنرل ضیا کے دور میں پابندیاں عروج پہ تھیں ہر قسم کی سینسر شپ تھی لیکن موجود حکومت نے انتہا کر دی ہے۔‘

صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ’حکومت اب پی ایم ڈی اے کے ڈرافٹ سے مُکر رہی ہے اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ صحافیوں کو اس پر بریفنگ دی جائے گی۔ وزیر اطلاعات کہتے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

غریدہ فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے سر پہ ہر وقت قومی سلامتی کی تلوار لٹکتی رہتی ہے، قومی سلامتی کے نام پر پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اپنی اجارہ داری رکھے گی یہ ڈکٹیٹرشپ کی مثال ہے۔‘

 انہوں نے کہا کہ ’ورکنگ صحافی اور وی لاگرز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔'

ویبینار میں شریک صحافیوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس اتھارٹی کے قیام کے خلاف 12 ستمبر کو ریلی نکالی جائے جب کہ 13 ستمبر کو دھرنا دیا جائے گا۔

پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے مسودے میں کیا ہے؟

سیکرٹری راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس علی رضا علوی نے مسودے کے اہم نکات بتائے۔

 انہوں نے کہا کہ ’مسودے کے مطابق اتھارٹی ایک چئیرمین جب کہ 11 اراکین پر مشتمل ہو گی۔ اتھارٹی کے حکم کو کسی نچلی عدالت یا ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور متعلقہ فورم سپریم صرف کورٹ ہو گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسودے کے مطابق کسی بھی چینل کا مالک، صحافی، رپورٹر یا اینکر اگر اتھارٹی کو ثبوت پیش نہیں کر سکتا تو اُس پر اڑھائی سے پانچ کروڑ جرمانہ عائد کیا جائے گا اس کے علاوہ پانچ سال قید بھی ہو گی۔

اس پر صحافیوں نے سوال اٹھایا ایک صحافی جس کی تنخواہ ہی اتنی نہیں ہے وہ اڑھائی کروڑ کہاں سے ادا کرے گا؟

علی رضا علوی نے مزید بتایا کہ ’حکومت پرنٹ ، الیکٹرونک، ڈیجیٹل میڈیا اور فلم کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ مسودے کے مطابق تمام افراد اپنے یو ٹیوب اور انسٹا گرام کے لیے بھی پہلے اتھارٹی سے لائسنس حاصل کریں گے جس میں شرائط درج ہوں گی۔ شرائط پر عمل نہیں ہو گا تو لائسنس کینسل کر دیا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اتھارٹی کے قیام کے بعد پیمرا اور میڈیا آرڈیننس بھی ختم اور غیر فعال ہو جائیں گے۔ ڈیجیٹل میڈیا کا سب مواد اتھارٹی کے تابع ہو گا ورنہ وہ غیر قانونی تصور ہو گا۔‘

 اس موقعے پر صحافی مظہر عباس نے اضافہ کیا کہ ’کتابوں کی اشاعت پر بھی اس اتھارٹی کا اختیار ہو گا۔‘

علی رضا علوی کے مطابق مسودہ وزارت قانون بھجوا دیا گیا ہے۔

سیاق و سباق

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات میں اس حوالے سے بیان دیا تھا کہ میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا فریم ورک تیار کیا گیا ہے اور اس پر متعلقہ تنظیموں کے کمنٹس مانگے گئے ہیں نیز سی پی این ای اور پی بی اے کے ساتھ میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی پر میٹنگ کی گئی ۔

 ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم چاہتے ہیں کہ میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں اتفاق رائے سے آگے بڑھیں۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی ریگولیشن نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیا وار گیم چل رہی ہے میڈیا کو بطور ٹول استعمال کیا جاتا ہے ۔ سی پیک کے خلاف آرٹیکل چھپتے ہیں مگر ہمارا موقف نہیں آتا ۔ میڈیا ورکرز کے حقوق اور جھوٹی خبروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی بل کے حوالے سے زیادہ پریشر بھی ان دو چیزوں کے حوالے سے ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان