وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ درخواست کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے۔ ’قیدیوں کو جیل میں جو بھی سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہیں، ہوتی رہیں گی۔‘
بعض حکومتی اراکین اسمبلی نے صوبائی قیادت سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھ 30 سے 40 ارکان پر مشتمل ایک گروپ موجود ہے۔