مریم نواز نئے بیانیہ اور مہنگائی کی لہر میں پارٹی متحرک کرپائیں گی؟

مریم نواز دو ماہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گی ان کے مختلف شہروں میں کنونشنز اور پارٹی عہدیداروں سے ملاقاتوں کا شیڈول جاری ہوچکا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز بدھ کو بہاولپور میں جلسہ عام سے خطاب کر رہی ہیں (تصویر: پی ٹی وی سکرین گریب)

پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’اگر نواز شریف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتے ہی انتخاب کرا دیتے تو دو تہائی اکثریت سے ن لیگ جیت جاتی مگر ملک سری لنکا کی طرح دیوالیہ ہونے کا خدشہ تھا۔‘

مریم نواز نے بدھ کو بہاولپور میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ ملکی معاشی بدحالی کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیا۔

پنجاب میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ سیاسی گہما گہمی بڑھنے لگی ہے۔

ایک طرف تحریک انصاف، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں کی قیادت مہم چلانے کی تیاریوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب مسلم لیگ ن نے چیف آرگنائزر کے عہدے پر تقرری کے بعد مریم نواز کو سیاسی میدان میں اتار دیا ہے۔

مریم نواز دو ماہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گی ان کے مختلف شہروں میں کنونشنز اور پارٹی عہدیداروں سے ملاقاتوں کا شیڈول جاری ہوچکا ہے۔

ن لیگی رہنما پرویز رشید کے بقول: ’ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ ان کی حکومت میں پھیلائی گئی معاشی تباہی سے ہے، مریم ان کے جھوٹے بیانیہ کو لوگوں کو حقائق بتا کر دفن کریں گی۔‘

سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق: ’ن لیگ کا آئیندہ بیانیہ کیا ہوگا یہ نواز شریف کی وطن واپسی پر ہی طے ہوگا کیوں کہ ووٹ کوعزت دو کا بیانیہ تو ختم ہوچکا ہے۔‘

ن لیگ کا نیا بیانیہ کیا ہوگا؟

مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کو جس طرح ملک پر مسلط کیا گیا اور ان کی نااہلی سے معاشی بدحالی پیدا ہوئی ناقص حکمت عملی کے اثرات نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ن لیگ دیگر اتحادیوں سے مل کر عمران دور میں پھیلائی بدحالی ختم کر کے ملک کو خوشحالی کی طرف لانے کے چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے۔‘

پرویز رشید کے مطابق: ’بیانیے لوگوں کوحقوق دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے بنتے ہیں لہذا اب معاشی چیلنج سب سے بڑا ہے اور لوگوں کو یہ بتانا لازمی ہے کہ ہمارے سابقہ دور میں سی پیک، بجلی کے کارخانے اور موٹر وے بننے سے جو خوشحالی کا سفر شروع ہونے لگا تھا اسے روک کر بدحالی کے اندھیروں میں دھکیلنے والے کردار کونسے ہیں۔‘

پرویز رشید کے خیال میں ’عمران خان کو لوگ کافی حد تک جان چکے ہیں کہ وہ کتنے نااہل ہیں اور مذید اب مریم نوازشہر شہر جاکر عوام کو آگاہ کریں گی کہ پنجاب ن لیگ کا گڑھ ہے مشکل وقت گزر جائے گا اور دوبارہ خوشحالی و ترقی کا سفر وہیں سے شروع کریں گے جہاں سازشوں سے روکا گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ جلد نواز شریف بھی وطن واپس آئیں گے اور عوام میں ہوں گے اس سے قبل مریم نواز کے دوروں کا شیڈول بن چکا ہے وہ پہلے کی طرح اپنا موثر سیاسی کردار ادا کریں گی پارٹی رہنما اور کارکن پہلے ہی ان کی قیادت پرپرجوش و پر امید ہیں۔

بیانیہ کی تبدیلی سے کیا اثر پڑسکتا ہے؟

سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اب بیانیے سے کوئی غرض نہیں لوگ زندگی میں آسانیاں اور مسائل کا حل چاہتے ہیں یہ بات ٹھیک ہے کہ پنجاب میں ن لیگ مقبولیت رکھتی ہے مگر موجودہ حالات میں جب مہنگائی اور بے روزگاری لوگوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے مریم نواز کے لیےعوام کو مطمعن کرنا مشکل ضرور ہوگا۔

سہیل وڑائچ کے بقول ن لیگ کا جو ماضی میں بیانیہ تھا ’ووٹ کو عزت دو‘ وہ تو ختم ہوچکا اب ان کے اسٹیبلشمنٹ سےاچھے تعلقات ہیں لہذا اب عوام میں جاکر عمران خان کے خلاف بیان بازی کے علاوہ ان کے پاس کوئی متاثر کن بیانیہ دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ہیں حقیقی طور پر جب نواز شریف وطن واپس آئیں گے تب ہی معلوم ہوگا کہ ن لیگ کا آئیندہ بیانیہ کیا ہوگا کیوں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی نواز شریف نے ہی لگایا تھا جس پر ن لیگ کے کارکن متحد و متفق ہوئے تھے۔

پرویز رشید نے کہا کہ ’ن لیگ کا بیانیہ جو مریم نواز لے کر عوام میں اتری ہیں وہ پی ٹی آئی حکومت میں بد انتظامی، کرپشن، اقربا پروری اور جھوٹ کو بے نقاب کرنا ہے۔‘

جس طرح نوجوانوان کو عمران نے سائفر سے امریکی سازش اور پھر محسن نقوی کو اپنی حکومت گرانے کا موجب قراردینے کا جھوٹا بیانیہ گھڑا اب لوگوں کو ان کی اصلیت بتانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے ہمیشہ جمہوری بالادستی کی بات کی اور پارلیمنٹ کو خود مختار بنانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا لہذا جب مداخلت ہوگی تو اس پر بات بھی ہوگی اگر سب ادارے اپنا آئینی کردار ادا کریں گے تو ملکی نظام میں بہتری آئے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست