سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے عدالتی ضابطہ اخلاق میں ترامیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے جج متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت سے سیاسی وسفارتی تقاریب میں شرکت کر سکیں گے۔
2025 میں سپریم کورٹ آف پاکستان سپریم نہ رہی اور وفاقی آئینی عدالت وجود میں آ گئی۔ آئینی معاملات آئینی عدالت کے سپرد ہوئے جب کہ دیوانی و فوجداری مقدمات سپریم کورٹ کے حصے میں آئے۔