2025 میں سپریم کورٹ آف پاکستان سپریم نہ رہی اور وفاقی آئینی عدالت وجود میں آ گئی۔ آئینی معاملات آئینی عدالت کے سپرد ہوئے جب کہ دیوانی و فوجداری مقدمات سپریم کورٹ کے حصے میں آئے۔
پاکستان سپریم کورٹ
مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم پر عدالت عظمٰی کے ججوں نے چیف جسٹس کو خطوط لکھتے ہوئے اس معاملے پر فُل کورٹ اور جوڈیشل کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔