پاکستان کا صبر جواب دے گیا اور آخر کار چار سال کی ناکام سفارت کاری کے بعد، اب ٹی ٹی پی کے بجائے براہِ راست افغان طالبان کے ٹھکانے اور گولہ بارود کے ڈپو نشانے پر ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان
فوج کہتی ہے فیصلہ وزیراعظم کا تھا، پی ٹی آئی رہنما کہتے ہیں ہمیں چپ کرایا گیا۔ 35 ہزار افراد کی واپسی کا ذمہ دار آخر کون ہے؟