منگل کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ اسلام آباد میں ویسٹ مینجمنٹ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت صفائی کی سہولت کے عوض شہریوں سے فیس وصول کی جائے گی۔
پاکستان میں جہاں ایک طرف سرکاری نظام کچرے کا 30 سے 40 فیصد حصہ جمع کرنے میں ناکام ہے، وہیں دوسری طرف ایک متوازی، غیر رسمی معیشت موجود ہے جو اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔