پلاسٹک کے یہ ننھے ذرات اب دنیا کے تقریباً ہر خطے کی فضا، مٹی اور حیاتیاتی نظاموں میں دریافت ہو چکے ہیں جن میں آرکٹک اور انٹارکٹک جیسے انتہائی دور دراز علاقے بھی شامل ہیں۔
پلاسٹک آلودگی
یاسر کے مطابق وہ پہاڑوں پر جانا اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کہ اس دوران دوستوں سے ادب اور شاعری پر بات چیت کے علاوہ نئے خیالات کا تبادلہ بھی ممکن ہوتا ہے۔