چینی سائنس دانوں نے دو بڑے شہروں کی فضا میں معلق پلاسٹک کے ذرات کے بادل دریافت کیے ہیں جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر زہریلے یہ ذرات پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔
گذشتہ دو دہائیوں میں دنیا بھر کے محققین نے نہایت باریک مائیکرو پلاسٹک اور نینو پلاسٹک ذرات کو آلودگی کی ایک بڑھتی ہوئی شکل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
پلاسٹک کے یہ ننھے ذرات اب دنیا کے تقریباً ہر خطے کی فضا، مٹی اور حیاتیاتی نظاموں میں دریافت ہو چکے ہیں جن میں آرکٹک اور انٹارکٹک جیسے انتہائی دور دراز علاقے بھی شامل ہیں۔
تحقیقات کے ایک بڑھتے ہوئے سلسلے نے انہیں متعدد صحت کے مسائل سے جوڑا ہے جن میں ہارمونز میں خرابی، کینسر، دل کی بیماریاں، تولیدی صلاحیت میں کمی اور اعصاب کو نقصان جیسے خطرات شامل ہیں۔
تاہم کئی سوالات اب بھی باقی ہیں، جیسے کہ یہ ذرات کتنی مقدار میں موجود ہیں، ان کا ماخذ کیا ہے، وقت کے ساتھ یہ کس طرح تبدیل ہوتے ہیں اور آخرکار یہ کہاں جاکر جمع ہوتے ہیں۔
ان مصنوعی کیمیائی اجزا کی وسیع موجودگی کی وجہ سے محققین کو شبہ ہے کہ یہ زمین کے آبی چکر کے مختلف حصوں میں بھی موجود ہوسکتے ہیں۔
سائنس دان یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ان ذرات اور ان کے پھیلاؤ کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے مائیکرو پلاسٹک (ایم پی) اور نینو پلاسٹک (این پی) جو انسانی بال کی موٹائی سے کئی گنا باریک ہوتے ہیں، کے پھیلاؤ کا جائزہ چین کے دو بڑے شہروں، گوانگژو اور شیآن، کے اوپر لیا ہے۔
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ گذشتہ مطالعات میں فضا میں موجود پلاسٹک کی مقدار کا نمایاں طور پر کم اندازہ لگایا تھا۔
سائنس دانوں نے پایا کہ یہ باریک پلاسٹک ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ فضا میں طویل عرصے تک معلق رہ سکتے ہیں اور یہاں تک کہ بادلوں کی تشکیل میں محرک کا کام بھی کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جب یہ بادلوں کا حصہ بنتے ہیں تو بارش کے ساتھ دوبارہ زمین پر گر سکتے ہیں وہ بھی ان خطوں میں جو ان کی اخراج کی اصل جگہ سے بہت دور ہوں۔
سائنس دانوں نے لکھا کہ انہوں نے ایک جدید طریقہ استعمال کیا جو 200 نینو میٹر تک کے نہایت چھوٹے پلاسٹک ذرات بھی پکڑ سکتا ہے۔ اس طریقے سے انہوں نے چین کے دو بڑے شہروں، گوانگژو اور شی آن، کی فضا میں موجود پلاسٹک ذرات کی مقدار معلوم کی—چاہے وہ ہوا میں تیر رہے ہوں، خشک صورت میں نیچے گر رہے ہوں، بارش کے ساتھ برس رہے ہوں یا دوبارہ فضا میں اڑ رہے ہوں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق نتائج سے پتہ چلا کہ فضا کی مختلف پرتوں میں مائیکرو اور نینو پلاسٹک کے بہاؤ میں دو سے پانچ درجے کے فرق تک تبدیلیاں موجود تھیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں پر زیادہ تر اثر سڑکوں کی گرد و غبار اور بارش کے ذریعے ہونے والے جمع ہونے والے ذرات کا تھا۔
محققین کے مطابق نتائج فضا میں موجود پلاسٹک کی اب تک کی سب سے تفصیلی پیمائش ہیں، جو اب بھی عالمی ’پلاسٹک سائیکل‘ کا سب سے کم سمجھا جانے والا حصہ ہے۔
اگرچہ تحقیق یہ نہیں کہتی کہ پلاسٹک کے ذرات عالمی موسم کو قابل پیمائش حد تک بدل رہے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ ذرات بادل بننے کے عمل میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
سائنس دانوں نے لکھا: ’یہ نتائج شہری فضائیاتی عمل میں مائیکرو اور نینو پلاسٹک کی موجودگی کا جامع جائزہ فراہم کرتے ہیں اور ان کی تبدیلی، انجام اور ممکنہ اثرات کے بارے میں اہم بصیرت پیش کرتے ہیں چاہے وہ موسم ہو، ماحولیاتی نظام ہو یا انسانی صحت۔‘
© The Independent